برائے اصلاح

محمل ابراہیم — مئی 29، 2023 6:29 صبح
الف عین سید عاطف علی شکیل احمد خان23 محمد احسن سمیع راحلؔ و دیگر اساتذہ کرام۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم
آپ کی اصلاح و رہنمائی کی درخواست گزار ہوں ۔
تنہا تنہا فکر میں گم صم،گھنٹوں بیٹھی رہتی ہُوں
کسی خیالی دنیا کے میں سپنے بنتی رہتی ہوں
کیا کچھ کھویا کیا ہے پایا،کون رکھے اب اتنا یاد
ہر اک آن میں اپنے دل کی دھڑکن گنتی رہتی ہُوں
کہتی تھیں دادی یہ کبھی کہ تم تو پریوں جیسی ہو
دیکھ کر آئینے میں خود کو،میں اب ہنستی رہتی ہُوں
اپنا قصہ کیا میں چھیڑوں،دیوانی سمجھیں گے لوگ
پاؤں زمیں پر رکھ کر کے میں ہوا میں اُڑتی رہتی ہوں
تیکھی کڑوی باتیں کہہ کر،اپنے زخمی کرتے ہیں
خوب تحمل سے میں پھر بھی سب کو سنتی رہتی ہُوں
سحؔر! یہ دنیا کب اپنی تھی؟تم تو بیجا کڑھتی ہو
دل کے اس سمجھانے پر بھی اکثر روتی رہتی ہوں
شکیل احمد خان23 — مئی 29، 2023 7:20 صبح
کہتی تھیں دادی یہ کبھی کہ تم تو پریوں جیسی ہو
دیکھ کر آئینے میں خود کو،میں اب ہنستی رہتی ہُوں
کہتی تھیں یہ دادی اماں تم تو پریوں جیسی ہو
دیکھ کے خود کو آئینے میں اب میں ہنستی رہتی ہوں
شکیل احمد خان23 — مئی 29، 2023 7:33 صبح
تیکھی کڑوی باتیں کہہ کر،اپنے زخمی کرتے ہیں
خوب تحمل سے میں پھر بھی سب کو سنتی رہتی ہُوں
اپنے ہی دل میرا اپنی باتوں سے کرتے ہیں مجروح/اپنے ہی دل میرا اپنی باتوں سے جب توڑتے ہیں
خوب مگر برداشت سے اُن کو پھر بھی سب کو سنتی رہتی ہوں/خوب تحمل سے میں اُن کو پھر بھی سنتی رہتی ہوں
شکیل احمد خان23 — مئی 29، 2023 7:36 صبح
اپنا قصہ کیا میں چھیڑوں،دیوانی سمجھیں گے لوگ
پاؤں زمیں پر رکھ کر کے میں ہوا میں اُڑتی رہتی ہوں
اپنا قصہ کیا میں چھیڑوں دیوانی سمجھیں گے لوگ
رہتی ہوں دھرتی پر لیکن ہوا میں اُڑتی رہتی ہوں
شکیل احمد خان23 — مئی 29، 2023 7:43 صبح
سحؔر! یہ دنیا کب اپنی تھی؟تم تو بیجا کڑھتی ہو
دل کے اس سمجھانے پر بھی اکثر روتی رہتی ہوں
سؔحر یہ دنیا کب ہے کسی کی تم کیوں اتنا کُڑھتی ہو
دِل کو یہ سمجھا سمجھا کر اکثر روتی رہتی ہوں
محمل ابراہیم — مئی 29، 2023 7:50 صبح
اپنے ہی دل میرا اپنی باتوں سے کرتے ہیں مجروح
خوب مگر برداشت سے اُن کو پھر بھی سب کو سنتی رہتی ہوں
مجروح کا "ح" ادا ہو رہا ہے؟؟
دوسرا مصرعہ مجھے خارج البحر لگ رہا
محمل ابراہیم — مئی 29، 2023 7:50 صبح
اپنا قصہ کیا میں چھیڑوں دیوانی سمجھیں گے لوگ
رہتی ہوں دھرتی پر لیکن ہوا میں اُڑتی رہتی ہوں
خوب ۔۔۔۔۔
محمل ابراہیم — مئی 29، 2023 7:52 صبح
اپنے ہی دل میرا اپنی باتوں سے کرتے ہیں مجروح/اپنے ہی دل میرا اپنی باتوں سے جب توڑتے ہیں
خوب مگر برداشت سے اُن کو پھر بھی سب کو سنتی رہتی ہوں/خوب تحمل سے میں اُن کو پھر بھی سنتی رہتی ہوں
خوب مگر برداشت سے پھر بھی سب کو سنتی رہتی ہُوں۔۔۔۔۔۔سر یہ تو نہیں کہہ رہے تھے آپ؟؟
شکیل احمد خان23 — مئی 29، 2023 7:55 صبح
خوب مگر برداشت سے پھر بھی سب کو سنتی رہتی ہُوں
خوب مگر برداشت سے پھر بھی اُن کی سنتی رہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمل ابراہیم — مئی 29، 2023 7:56 صبح
خوب مگر برداشت سے پھر بھی اُن کی سنتی رہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ سر
شکیل احمد خان23 — مئی 29، 2023 7:57 صبح
شکریہ، خداحافظ ، خدا آپ کو شاد رکھے ، آمین۔
محمل ابراہیم — مئی 29، 2023 7:58 صبح
شکریہ، خداحافظ ، خدا آپ کو شاد رکھے ، آمین۔
و ایاک
اشرف علی — مئی 29، 2023 9:18 صبح
و علیکم السلام و رحمتہ اللّٰہ و برکاتہ
ماشاء اللہ
بہت اچھی غزل ہے
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 29، 2023 11:06 صبح
تنہا تنہا فکر میں گم صم،گھنٹوں بیٹھی رہتی ہُوں
کسی خیالی دنیا کے میں سپنے بنتی رہتی ہوں
کسی کے بجائے ایک کر دیں تو زیادہ بہتر رہے گا.
کیا کچھ کھویا کیا ہے پایا،کون رکھے اب اتنا یاد
ہر اک آن میں اپنے دل کی دھڑکن گنتی رہتی ہُوں
میرے خیال میں یا تو کھویا سے پہلے بھی ہے کر دیں، یا پایا سے پہلے بھی کچھ ... ہر اک آن کے بجائے ہر پل کہہ دیں تو اک جو یہاں زائد ہے، اس سے خلاصی ہو جائے گا ... مزید یہ کہ دل کی دھڑکن کے بجائے سانسیں گننا کہیں تو بہتر ابلاغ ہو سکے گا. مثلا
میں تو ہر پل بس اب اپنی سانسیں گنتی رہتی ہوں.
کہتی تھیں دادی یہ کبھی کہ تم تو پریوں جیسی ہو
دیکھ کر آئینے میں خود کو،میں اب ہنستی رہتی ہُوں
شکیل بھائی کا مشورہ صائب ہے، ویسے میری رائے میں دوسرے مصرعے کو یوں بھی برقرار رکھ سکتی ہیں.
اپنا قصہ کیا میں چھیڑوں،دیوانی سمجھیں گے لوگ
پاؤں زمیں پر رکھ کر کے میں ہوا میں اُڑتی رہتی ہوں
رکھ کر کے میرے خیال میں غیر فصیح ہے. شکیل بھائی کی تجویز مناسب ہے.
خوب مگر برداشت سے پھر بھی اُن کی سنتی رہتی ہوں
سب کی زیادہ بہتر رہے گا میرے خیال میں.
محمل ابراہیم — مئی 29، 2023 11:41 صبح
کسی کے بجائے ایک کر دیں تو زیادہ بہتر رہے گا.
میرے خیال میں یا تو کھویا سے پہلے بھی ہے کر دیں، یا پایا سے پہلے بھی کچھ ... ہر اک آن کے بجائے ہر پل کہہ دیں تو اک جو یہاں زائد ہے، اس سے خلاصی ہو جائے گا ... مزید یہ کہ دل کی دھڑکن کے بجائے سانسیں گننا کہیں تو بہتر ابلاغ ہو سکے گا. مثلا
میں تو ہر پل بس اب اپنی سانسیں گنتی رہتی ہوں.
شکیل بھائی کا مشورہ صائب ہے، ویسے میری رائے میں دوسرے مصرعے کو یوں بھی برقرار رکھ سکتی ہیں.
رکھ کر کے میرے خیال میں غیر فصیح ہے. شکیل بھائی کی تجویز مناسب ہے.
سب کی زیادہ بہتر رہے گا میرے خیال میں.
بہت شکریہ سر
محمل ابراہیم — مئی 29، 2023 11:42 صبح
تنہا تنہا فکر میں گم صم،گھنٹوں بیٹھی رہتی ہُوں
کسی خیالی دنیا کے میں سپنے بنتی رہتی ہوں
کسی کے بجائے ایک کر دیں تو زیادہ بہتر رہے گا.
یہ میں نے بھی سوچا تھا ۔۔۔۔۔😊
محمل ابراہیم — مئی 29، 2023 11:49 صبح
اصلاح کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔
تنہا تنہا فکر میں گم صم،گھنٹوں بیٹھی رہتی ہُوں
ایک خیالی دنیا کے میں سپنے بنتی رہتی ہوں
کیا ہےکھویا کیا ہے پایا،کون رکھے اب اتنا یاد
میں تو بس اب ہر پل اپنی سانسیں گنتی رہتی ہوں
کہتی تھیں یہ دادی اماں تم تو پریوں جیسی ہو
دیکھ کر آئینے میں خود کو،میں اب ہنستی رہتی ہُوں
اپنا قصہ کیا میں چھیڑوں دیوانی سمجھیں گے لوگ
رہتی ہوں دھرتی پر لیکن ہوا میں اُڑتی رہتی ہوں
اپنے ہی دل میرا اپنی باتوں سے جب توڑتے ہیں
خوب مگر برداشت سے پھر بھی سب کی سنتی رہتی ہوں
سؔحر یہ دنیا کب ہے کسی کی تم کیوں اتنا کُڑھتی ہو
دِل کو یہ سمجھا سمجھا کر اکثر روتی رہتی ہوں
الف عین — مئی 30، 2023 3:56 شام
مجھے یہ خیال آتا ہے کہ کم از کم ایک شعر مزید ہو جس سکا قافیہ "تی" کے علاوہ ہو، جیسے فی الحال مطلع کا "بیٹھی" ہے۔ ورنہ محسوس یہی ہوتا ہے کہ پوری غزل میں کسی عروضی نے اعتراض کیا کہ قا فیہ غلط ہے، تو جلدی سے مطلع میں ایک قافیہ مختلف کر دیا تاکہ یہ اعتراض نہ رہے۔ ویسے راحل کی اصلاح بہت اچھی ہے اور شکیل کی بھی
محمل ابراہیم — مئی 31، 2023 5:29 صبح
مجھے یہ خیال آتا ہے کہ کم از کم ایک شعر مزید ہو جس سکا قافیہ "تی" کے علاوہ ہو، جیسے فی الحال مطلع کا "بیٹھی" ہے۔ ورنہ محسوس یہی ہوتا ہے کہ پوری غزل میں کسی عروضی نے اعتراض کیا کہ قا فیہ غلط ہے، تو جلدی سے مطلع میں ایک قافیہ مختلف کر دیا تاکہ یہ اعتراض نہ رہے۔ ویسے راحل کی اصلاح بہت اچھی ہے اور شکیل کی بھی
جی بہتر سر بہت شکریہ
محمد عبدالرؤوف — جون 1، 2023 5:13 صبح
اصلاح کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔
تنہا تنہا فکر میں گم صم،گھنٹوں بیٹھی رہتی ہُوں
ایک خیالی دنیا کے میں سپنے بنتی رہتی ہوں
کیا ہےکھویا کیا ہے پایا،کون رکھے اب اتنا یاد
میں تو بس اب ہر پل اپنی سانسیں گنتی رہتی ہوں
کہتی تھیں یہ دادی اماں تم تو پریوں جیسی ہو
دیکھ کر آئینے میں خود کو،میں اب ہنستی رہتی ہُوں
اپنا قصہ کیا میں چھیڑوں دیوانی سمجھیں گے لوگ
رہتی ہوں دھرتی پر لیکن ہوا میں اُڑتی رہتی ہوں
اپنے ہی دل میرا اپنی باتوں سے جب توڑتے ہیں
خوب مگر برداشت سے پھر بھی سب کی سنتی رہتی ہوں
سؔحر یہ دنیا کب ہے کسی کی تم کیوں اتنا کُڑھتی ہو
دِل کو یہ سمجھا سمجھا کر اکثر روتی رہتی ہوں
ماشاءاللہ، اچھی غزل ہے۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.119571/