زندگی میں خُوشی کی جستجو ہے
فاصلے ختم کیوں نہیں ہوتے آزمائش کے سلسلے ہیں نئے
راستے ختم کیوں نہیں ہوتے گلہ تقدیر کا کریں کیا ہم
حادثے ختم کیوں نہیں ہوتے میکدہ بن گیا ہے دل میرا
سانحے ختم کیوں نہیں ہوتے اشک بہنے لگے جو بن کے لہو
سلسلے ختم کیوں نہیں ہوتے
سعیدالرحمن سعید — جنوری 7، 2016 9:05 صبح
بہنا جی آپ کا اعلی سخن بولتا ہے کہ آپ ہم لوگوں کی اصلاح فرمایا کریں۔
خُشی کی بجائے " خوشی" کیوں نہیں؟ جبکہ دونوں کا وزن ایک ہی ہے ؟
اب کہ میخانہ دل بنا میرا ۔ یہاں " اب کہ" کچھ جچا نہیں ۔۔۔۔سیدھا ہی " میکدہ بن گیا ہے دل میرا" گلہ تقدیر کا کریں ہم کیا میں ہم اور کیا کی نشستیں ادل بدل کی جا سکتی ہیں
آزمائش کے سلسلے نئے ہیں ۔ کی بجائے" آزمائش کے سلسلے ہیں نئے " بہتر صورت لگتی ہے
اشک بہنے لگے جو بن کے خوں ۔۔۔ خون کی جگہ لہو بہتر رہے گا۔ (گنجائش ہو تو عِلن میں باندھا گیا اختتامی لفظ زیادہ متوازن تاثر چھوڑتا ہے)
( اس گستاخی کو اصلاح نہیں ایک مبتدی بھائی کا علمی استفسار سمجھیے گا)
بہنا جی آپ کا اعلی سخن بولتا ہے کہ آپ ہم لوگوں کی اصلاح فرمایا کریں۔
خُشی کی بجائے " خوشی" کیوں نہیں؟ جبکہ دونوں کا وزن ایک ہی ہے ؟
اب کہ میخانہ دل بنا میرا ۔ یہاں " اب کہ" کچھ جچا نہیں ۔۔۔۔سیدھا ہی " میکدہ بن گیا ہے دل میرا" گلہ تقدیر کا کریں ہم کیا میں ہم اور کیا کی نشستیں ادل بدل کی جا سکتی ہیں
آزمائش کے سلسلے نئے ہیں ۔ کی بجائے" آزمائش کے سلسلے ہیں نئے " بہتر صورت لگتی ہے
اشک بہنے لگے جو بن کے خوں ۔۔۔ خون کی جگہ لہو بہتر رہے گا۔ (گنجائش ہو تو عِلن میں باندھا گیا اختتامی لفظ زیادہ متوازن تاثر چھوڑتا ہے)
( اس گستاخی کو اصلاح نہیں ایک مبتدی بھائی کا علمی استفسار سمجھیے گا)
فاتح بھائی کوئی شک نہیں کہ جناب اعجاز عبید صاحب تو استاد الاساتذہ ہیں۔ لیکن سخن کے فروغ کیلیے ہم سب کو بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنا علم آگے بڑھانے کا بیڑا اٹھانا چاہیے۔یہی سب سے بڑا صدقہء جاریہ ہے
سعیدالرحمن سعید — جنوری 7، 2016 10:07 صبح
نور بہنا تیسرے اور چوتھے اشعار کیلئے مرحلے اور آبلے کی بجائے ، " حادثے " اور " سانحے" کے قوافی بھی مدنظر رکھئے۔
زندگی میں خُوشی کی جستجو ہے
فاصلے ختم کیوں نہیں ہوتے آزمائش کے سلسلے ہیں نئے
راستے ختم کیوں نہیں ہوتے گلہ تقدیر کا کریں کیا ہم
حادثے ختم کیوں نہیں ہوتے میکدہ بن گیا ہے دل میرا
سانحے ختم کیوں نہیں ہوتے اشک بہنے لگے جو بن کے لہو
سلسلے ختم کیوں نہیں ہوتے
بہت شکریہ دستخط ء محبت کی مہر ثبت کرنے کا۔ تک بندی تو میں اکثر کرتی رہتی ہوں تاہم ابھی تک مجھے تین منظومیہ کاوشیں اپنی پسند ہیں ہم نشیں تو خزاں کی بات نہ کر خواب میں کوئی اشارہ تو ملے مانوس یاد اب آپ نے ہمیں گُرو مان لیا مگر خیال رہے آپ گریں تو ہم رہبری نہ کرسکیں گے ۔۔
زندگی میں خُوشی کی جستجو ہے
فاصلے ختم کیوں نہیں ہوتے میری رائے میں خوشی کی "تلاش" کی جاتی ہے جستجو نہیں! آزمائش کے سلسلے ہیں نئے
راستے ختم کیوں نہیں ہوتے گلہ تقدیر کا کریں کیا ہم
حادثے ختم کیوں نہیں ہوتے میکدہ بن گیا ہے دل میرا
سانحے ختم کیوں نہیں ہوتے سانحے کے بعد "دل" کے "میکدہ" بن جانے کا کچھ تُک سمجھ نہیں آیا۔ اشک بہنے لگے جو بن کے لہو
سلسلے ختم کیوں نہیں ہوتے دونوں مصرعوں میں کچھ ربط کی کمی محسوس ہوتی ہے یا شاید میرا گمان ہے۔
بہنا جی آپ کا اعلی سخن بولتا ہے کہ آپ ہم لوگوں کی اصلاح فرمایا کریں۔
خُشی کی بجائے " خوشی" کیوں نہیں؟ جبکہ دونوں کا وزن ایک ہی ہے ؟
اب کہ میخانہ دل بنا میرا ۔ یہاں " اب کہ" کچھ جچا نہیں ۔۔۔۔سیدھا ہی " میکدہ بن گیا ہے دل میرا" گلہ تقدیر کا کریں ہم کیا میں ہم اور کیا کی نشستیں ادل بدل کی جا سکتی ہیں
آزمائش کے سلسلے نئے ہیں ۔ کی بجائے" آزمائش کے سلسلے ہیں نئے " بہتر صورت لگتی ہے
اشک بہنے لگے جو بن کے خوں ۔۔۔ خون کی جگہ لہو بہتر رہے گا۔ (گنجائش ہو تو عِلن میں باندھا گیا اختتامی لفظ زیادہ متوازن تاثر چھوڑتا ہے)
( اس گستاخی کو اصلاح نہیں ایک مبتدی بھائی کا علمی استفسار سمجھیے گا)
اتنی اچھی اصلاح اور طریقہ اصلاح۔ کیا بات ہے ماشا اللہ۔
الف عین — جنوری 8، 2016 5:24 صبح
نور تمہاری ایک باے بالکل پسند نہیں آئی۔۔پوچھو کیا؟
میں اکثر لکھتا رہتا ہوں کہ اصلاح سخن میں کوئی تخلیق جب اصلاح کے لئے ہی پوسٹ کی جاتی ہے تو مشوروں کے بعد کیا کیا ترمیمات قبول کی گئی ہیں، اس کا پتہ بھی چلنا چاہئے۔ یعنی اپنی پہلی پوسٹ کو مدون نہیں کرنا چاہئے۔ اصل شکل کا سب کو پتہ چلنا چاہئے تاکہ ہر اصلاح کا طالب مبتدی اس عمل سے سیکھ سکے۔
سعید میاں نے کچھ مصرعوں کو رواں کرنے کے درست مشورے دئے جن کو تم نے قبول کر لیا۔ ان دو اشعار میں مفہوم پر غور نہیں کیا جن کی کاشف نے نشان دہی کی ہے۔ میں اس سے بھی منتخب ہوں۔ میرے خیال میں خوشی کی جستجو بھی غلط تو نہیں ہے۔ ہاں اس لفظ کی ’و‘ کا اسقاط کانوں کو بھلا نہیں لگتا۔ اس لئے تلاش استعمال کر کے ہی مصرعے کو بدلا جا سکتا ہے۔
نور تمہاری ایک باے بالکل پسند نہیں آئی۔۔پوچھو کیا؟
میں اکثر لکھتا رہتا ہوں کہ اصلاح سخن میں کوئی تخلیق جب اصلاح کے لئے ہی پوسٹ کی جاتی ہے تو مشوروں کے بعد کیا کیا ترمیمات قبول کی گئی ہیں، اس کا پتہ بھی چلنا چاہئے۔ یعنی اپنی پہلی پوسٹ کو مدون نہیں کرنا چاہئے۔ اصل شکل کا سب کو پتہ چلنا چاہئے تاکہ ہر اصلاح کا طالب مبتدی اس عمل سے سیکھ سکے۔
سعید میاں نے کچھ مصرعوں کو رواں کرنے کے درست مشورے دئے جن کو تم نے قبول کر لیا۔ ان دو اشعار میں مفہوم پر غور نہیں کیا جن کی کاشف نے نشان دہی کی ہے۔ میں اس سے بھی منتخب ہوں۔ میرے خیال میں خوشی کی جستجو بھی غلط تو نہیں ہے۔ ہاں اس لفظ کی ’و‘ کا اسقاط کانوں کو بھلا نہیں لگتا۔ اس لئے تلاش استعمال کر کے ہی مصرعے کو بدلا جا سکتا ہے۔
معذرت ! آپ کو مجھ سے شکایت ہوئی ہے ۔ اب دوبارہ ایسی ہر گز نہیں ہو گی ۔۔ میں آن لائن ہی نہیں تھی ان کے مشورے مجھے دل و جان سے قبول ہیں ۔ اس کو ترامیم کے ساتھ پیش کروں گی