برائے اصلاح

نور وجدان — جنوری 7، 2016 8:28 صبح
زندگی میں خُوشی کی جستجو ہے
فاصلے ختم کیوں نہیں ہوتے
آزمائش کے سلسلے ہیں نئے
راستے ختم کیوں نہیں ہوتے
گلہ تقدیر کا کریں کیا ہم
حادثے ختم کیوں نہیں ہوتے
میکدہ بن گیا ہے دل میرا
سانحے ختم کیوں نہیں ہوتے
اشک بہنے لگے جو بن کے لہو
سلسلے ختم کیوں نہیں ہوتے
سعیدالرحمن سعید — جنوری 7، 2016 9:05 صبح
بہنا جی آپ کا اعلی سخن بولتا ہے کہ آپ ہم لوگوں کی اصلاح فرمایا کریں۔
خُشی کی بجائے " خوشی" کیوں نہیں؟ جبکہ دونوں کا وزن ایک ہی ہے ؟
اب کہ میخانہ دل بنا میرا ۔ یہاں " اب کہ" کچھ جچا نہیں ۔۔۔۔سیدھا ہی " میکدہ بن گیا ہے دل میرا"
گلہ تقدیر کا کریں ہم کیا میں ہم اور کیا کی نشستیں ادل بدل کی جا سکتی ہیں
آزمائش کے سلسلے نئے ہیں ۔ کی بجائے" آزمائش کے سلسلے ہیں نئے " بہتر صورت لگتی ہے
اشک بہنے لگے جو بن کے خوں ۔۔۔ خون کی جگہ لہو بہتر رہے گا۔ (گنجائش ہو تو عِلن میں باندھا گیا اختتامی لفظ زیادہ متوازن تاثر چھوڑتا ہے)
( اس گستاخی کو اصلاح نہیں ایک مبتدی بھائی کا علمی استفسار سمجھیے گا)
نور وجدان — جنوری 7، 2016 9:08 صبح
بہنا جی آپ کا اعلی سخن بولتا ہے کہ آپ ہم لوگوں کی اصلاح فرمایا کریں۔
خُشی کی بجائے " خوشی" کیوں نہیں؟ جبکہ دونوں کا وزن ایک ہی ہے ؟
اب کہ میخانہ دل بنا میرا ۔ یہاں " اب کہ" کچھ جچا نہیں ۔۔۔۔سیدھا ہی " میکدہ بن گیا ہے دل میرا"
گلہ تقدیر کا کریں ہم کیا میں ہم اور کیا کی نشستیں ادل بدل کی جا سکتی ہیں
آزمائش کے سلسلے نئے ہیں ۔ کی بجائے" آزمائش کے سلسلے ہیں نئے " بہتر صورت لگتی ہے
اشک بہنے لگے جو بن کے خوں ۔۔۔ خون کی جگہ لہو بہتر رہے گا۔ (گنجائش ہو تو عِلن میں باندھا گیا اختتامی لفظ زیادہ متوازن تاثر چھوڑتا ہے)
( اس گستاخی کو اصلاح نہیں ایک مبتدی بھائی کا علمی استفسار سمجھیے گا)

آپ کا حُسن ظن ہے کہ آپ نے ایسا کہے ڈالا۔ میری خوشی ہے کہ آپ نے گراں قدر مشورے سے نوازا۔میں ابھی مدون کیے دیتی ہوں ۔ بہت شکریہ بھیا
فاتح — جنوری 7، 2016 9:39 صبح
اصلاح کا کام تو اعجاز صاحب کرتے ہیں۔ ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ عمدہ کوشش ہے۔ تمام اشعار مکمل طور پر با وزن ہیں۔ جاری رکھیے۔
نور وجدان — جنوری 7، 2016 9:41 صبح
اصلاح کا کام تو اعجاز صاحب کرتے ہیں۔ ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ عمدہ کوشش ہے۔ جاری رکھیے۔

آپ چلیں مشورہ دے دیں میرے لیے تو اہم ہے ۔میں تو تک بندی کرتی رہتی ہوں ۔
فاتح — جنوری 7، 2016 9:43 صبح
آپ چلیں مشورہ دے دیں میرے لیے تو اہم ہے ۔میں تو تک بندی کرتی رہتی ہوں ۔
مراسلے کے آخر میں مشورہ ہی تو دیا تھا کہ
:)
سعیدالرحمن سعید — جنوری 7، 2016 10:04 صبح
اصلاح کا کام تو اعجاز صاحب کرتے ہیں۔ ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ عمدہ کوشش ہے۔ تمام اشعار مکمل طور پر با وزن ہیں۔ جاری رکھیے۔
فاتح بھائی کوئی شک نہیں کہ جناب اعجاز عبید صاحب تو استاد الاساتذہ ہیں۔ لیکن سخن کے فروغ کیلیے ہم سب کو بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنا علم آگے بڑھانے کا بیڑا اٹھانا چاہیے۔یہی سب سے بڑا صدقہء جاریہ ہے
سعیدالرحمن سعید — جنوری 7، 2016 10:07 صبح
نور بہنا تیسرے اور چوتھے اشعار کیلئے مرحلے اور آبلے کی بجائے ، " حادثے " اور " سانحے" کے قوافی بھی مدنظر رکھئے۔
نور وجدان — جنوری 7، 2016 10:24 صبح
نور بہنا تیسرے اور چوتھے اشعار کیلئے مرحلے اور آبلے کی بجائے ، " حادثے " اور " سانحے" کے قوافی بھی مدنظر رکھئے۔
بہت شکریہ ۔۔۔ آپ کی اصلاح پر ممنون ہوں ۔۔ بہتر قوافی ہیں ۔
حمیرا عدنان — جنوری 7، 2016 10:47 صبح
زندگی میں خُوشی کی جستجو ہے
فاصلے ختم کیوں نہیں ہوتے
آزمائش کے سلسلے ہیں نئے
راستے ختم کیوں نہیں ہوتے
گلہ تقدیر کا کریں کیا ہم
حادثے ختم کیوں نہیں ہوتے
میکدہ بن گیا ہے دل میرا
سانحے ختم کیوں نہیں ہوتے
اشک بہنے لگے جو بن کے لہو
سلسلے ختم کیوں نہیں ہوتے
واہہہہہ نور بہت خوب لاجواب :applause::applause:
نثر نگاروں میں اپنا بے انتہا نام کمانے کے بعد اب شاعری کے میدان میں بھی اپنا کمال کر رہی ہوں بہت خوب وہ کیا کہتے ہیں
اللہ حُسن دیتا ہے تو نزاکت آ ہی جاتی ہے :rollingonthefloor:
بی بی میں تو پہلے سے ہی آپ کو گرو مان چکی ہوں:rollingonthefloor:
سارہ خان — جنوری 7، 2016 10:51 صبح
بہت اچھی کوشش ہے نور ۔۔۔ :)
نور وجدان — جنوری 7، 2016 11:08 صبح
واہہہہہ نور بہت خوب لاجواب :applause::applause:
نثر نگاروں میں اپنا بے انتہا نام کمانے کے بعد اب شاعری کے میدان میں بھی اپنا کمال کر رہی ہوں بہت خوب وہ کیا کہتے ہیں
اللہ حُسن دیتا ہے تو نزاکت آ ہی جاتی ہے :rollingonthefloor:
بی بی میں تو پہلے سے ہی آپ کو گرو مان چکی ہوں:rollingonthefloor:

بہت شکریہ دستخط ء محبت کی مہر ثبت کرنے کا۔ تک بندی تو میں اکثر کرتی رہتی ہوں تاہم ابھی تک مجھے تین منظومیہ کاوشیں اپنی پسند ہیں
ہم نشیں تو خزاں کی بات نہ کر
خواب میں کوئی اشارہ تو ملے
مانوس یاد
اب آپ نے ہمیں گُرو مان لیا مگر خیال رہے آپ گریں تو ہم رہبری نہ کرسکیں گے ۔۔
بہت اچھی کوشش ہے نور ۔۔۔ :)

ممنون ہوں کہ اچھی لگی ۔۔۔بس ابھی ابھی لکھ پوسٹ کردی
ابن رضا — جنوری 7، 2016 11:12 صبح
اچھی کاوش کے لیے بہت سی داد نور
نور وجدان — جنوری 7، 2016 11:13 صبح
اچھی کاوش کے لیے بہت سی داد نور

شکریہ رضا بھائی
کاشف اسرار احمد — جنوری 7، 2016 12:53 شام
اچھی غزل ہے نور!
صحیح اصلاح تو اساتذہ ہی کرینگے۔ میں جو کچھ عرض کرونگا اسے آپ نظر انداز بھی کر سکتی ہیں۔
اپنی رائے اقتباس میں شامل کر دی ہے۔
زندگی میں خُوشی کی جستجو ہے
فاصلے ختم کیوں نہیں ہوتے
میری رائے میں خوشی کی "تلاش" کی جاتی ہے جستجو نہیں!
آزمائش کے سلسلے ہیں نئے
راستے ختم کیوں نہیں ہوتے
گلہ تقدیر کا کریں کیا ہم
حادثے ختم کیوں نہیں ہوتے
میکدہ بن گیا ہے دل میرا
سانحے ختم کیوں نہیں ہوتے
سانحے کے بعد "دل" کے "میکدہ" بن جانے کا کچھ تُک سمجھ نہیں آیا۔
اشک بہنے لگے جو بن کے لہو
سلسلے ختم کیوں نہیں ہوتے
دونوں مصرعوں میں کچھ ربط کی کمی محسوس ہوتی ہے یا شاید میرا گمان ہے۔
عظیم خواجہ — جنوری 8، 2016 1:39 صبح
بہنا جی آپ کا اعلی سخن بولتا ہے کہ آپ ہم لوگوں کی اصلاح فرمایا کریں۔
خُشی کی بجائے " خوشی" کیوں نہیں؟ جبکہ دونوں کا وزن ایک ہی ہے ؟
اب کہ میخانہ دل بنا میرا ۔ یہاں " اب کہ" کچھ جچا نہیں ۔۔۔۔سیدھا ہی " میکدہ بن گیا ہے دل میرا"
گلہ تقدیر کا کریں ہم کیا میں ہم اور کیا کی نشستیں ادل بدل کی جا سکتی ہیں
آزمائش کے سلسلے نئے ہیں ۔ کی بجائے" آزمائش کے سلسلے ہیں نئے " بہتر صورت لگتی ہے
اشک بہنے لگے جو بن کے خوں ۔۔۔ خون کی جگہ لہو بہتر رہے گا۔ (گنجائش ہو تو عِلن میں باندھا گیا اختتامی لفظ زیادہ متوازن تاثر چھوڑتا ہے)
( اس گستاخی کو اصلاح نہیں ایک مبتدی بھائی کا علمی استفسار سمجھیے گا)
اتنی اچھی اصلاح اور طریقہ اصلاح۔ کیا بات ہے ماشا اللہ۔
الف عین — جنوری 8، 2016 5:24 صبح
نور تمہاری ایک باے بالکل پسند نہیں آئی۔۔پوچھو کیا؟
میں اکثر لکھتا رہتا ہوں کہ اصلاح سخن میں کوئی تخلیق جب اصلاح کے لئے ہی پوسٹ کی جاتی ہے تو مشوروں کے بعد کیا کیا ترمیمات قبول کی گئی ہیں، اس کا پتہ بھی چلنا چاہئے۔ یعنی اپنی پہلی پوسٹ کو مدون نہیں کرنا چاہئے۔ اصل شکل کا سب کو پتہ چلنا چاہئے تاکہ ہر اصلاح کا طالب مبتدی اس عمل سے سیکھ سکے۔
سعید میاں نے کچھ مصرعوں کو رواں کرنے کے درست مشورے دئے جن کو تم نے قبول کر لیا۔ ان دو اشعار میں مفہوم پر غور نہیں کیا جن کی کاشف نے نشان دہی کی ہے۔ میں اس سے بھی منتخب ہوں۔
میرے خیال میں خوشی کی جستجو بھی غلط تو نہیں ہے۔ ہاں اس لفظ کی ’و‘ کا اسقاط کانوں کو بھلا نہیں لگتا۔ اس لئے تلاش استعمال کر کے ہی مصرعے کو بدلا جا سکتا ہے۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 8، 2016 5:38 صبح
بہت خوب۔
نور وجدان — جنوری 8، 2016 12:43 شام
نور تمہاری ایک باے بالکل پسند نہیں آئی۔۔پوچھو کیا؟
میں اکثر لکھتا رہتا ہوں کہ اصلاح سخن میں کوئی تخلیق جب اصلاح کے لئے ہی پوسٹ کی جاتی ہے تو مشوروں کے بعد کیا کیا ترمیمات قبول کی گئی ہیں، اس کا پتہ بھی چلنا چاہئے۔ یعنی اپنی پہلی پوسٹ کو مدون نہیں کرنا چاہئے۔ اصل شکل کا سب کو پتہ چلنا چاہئے تاکہ ہر اصلاح کا طالب مبتدی اس عمل سے سیکھ سکے۔
سعید میاں نے کچھ مصرعوں کو رواں کرنے کے درست مشورے دئے جن کو تم نے قبول کر لیا۔ ان دو اشعار میں مفہوم پر غور نہیں کیا جن کی کاشف نے نشان دہی کی ہے۔ میں اس سے بھی منتخب ہوں۔
میرے خیال میں خوشی کی جستجو بھی غلط تو نہیں ہے۔ ہاں اس لفظ کی ’و‘ کا اسقاط کانوں کو بھلا نہیں لگتا۔ اس لئے تلاش استعمال کر کے ہی مصرعے کو بدلا جا سکتا ہے۔

معذرت ! آپ کو مجھ سے شکایت ہوئی ہے ۔ اب دوبارہ ایسی ہر گز نہیں ہو گی ۔۔ میں آن لائن ہی نہیں تھی ان کے مشورے مجھے دل و جان سے قبول ہیں ۔ اس کو ترامیم کے ساتھ پیش کروں گی
نور وجدان — جنوری 8، 2016 12:44 شام
بہت خوب۔[/QUOTE
شکریہ
اچھی غزل ہے نور!
صحیح اصلاح تو اساتذہ ہی کرینگے۔ میں جو کچھ عرض کرونگا اسے آپ نظر انداز بھی کر سکتی ہیں۔
اپنی رائے اقتباس میں شامل کر دی ہے۔
شکریہ ۔۔ معذرے جواب تاخیر سے ہوا ہے ۔۔۔ آپ کی بات قبول ہیں کاشف بھائی ایسا ہر گز مت سوچیں کہ میں اصلاح میں قبول نہیں کروں گی کسی بات کو
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.86966/