مطلع آپ کی آراء کے نشتر سے محفوظ رہا۔ تعجب ہے۔۔۔
چاند اترا دشتِ دل میں
ضو فشانی آب و گل میں
محترمہ La Almaآپ کا شعر صوفیانہ مزاج کا ہے . مصرع اول نا مکمل اور اس کا بقیہ حصّہ مصرع دوم میں ہونے کی وجہ سے شعر پہلی نظر میں مبہم معلوم ہوتا ہے .
اس مبہم کیفیت کا شافعی علاج تجویز ہو جائے تو صورت یہ نہ رہے
ریحان بھائی حکم کی تعمیل ہو گی. ظل قافیہ کی وجہ سے یہ کرنا پڑا. اس شعر اور غزل پہ اصلاح تو دے دیں پلیز
ضو فشانی کا آب و گل میں اترنا محلِ نظر ہے اور دونوں مصرعوں کا ربط بھی واضح نہیں۔
اول تو"ہر دام کا" شعر میں موجود ہی نہیں ہے۔ دوم ہر دام میں کم دام والا بھی آئے گا اور یہ محبوب کے شایانِ شان نہیں ہے۔
مجھے احساس ہے کہ معیاری اشعار ترتیب نہ پا سکے لیکن میں پہلے ہی اظہار کر چکا ہوں کہ خام حالت شعر کو پختہ کرنے میں اساتذہ کس طرح شعر کو تراشتے ہیں اس انداز نظر کا سیکھنا مقصد ہے کہ کس کس انداز سے شعراء شعر کی خبر گیری کرتے ہیں. گستاخیوں سے صرف نظر کی التجا ہے
خندہ رو ہےاک گلستاں
دوبارہ دیکھنے پر شعر درست لگ رہا ہے۔ دوسرے مصرعے میں "ایک" حشو ہے۔ ہر کھل میں کا محل ہے۔
میں نے ایک کو ہر سے تبدیل کرنے کا مشورہ نہیں دیا صرف اتنا کہا ہے کہ ایک کی جگہ ہر کا مقام ہے۔
ہر کھل 22 بن رہا ہے جبکہ وزن 21 ہونا ہے فاعلاتن
ایک ابھی بھی حشو ہی ہے۔
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.95131/page-2