برائے اصلاح : آساں ہے دلِ ماہئ بے آب میں رہنا

جاسمن — اگست 23، 2023 4:26 صبح
اوقات میں رہنے کا تمہیں نسخہ بتاؤں ؟
دو چار منٹ حلقۂ احباب میں رہنا !
بہت خوب!
ویسے اشارہ کس طرف ہے؟:D
اشرف علی — اگست 23، 2023 6:09 شام
محترم الف عین صاحب
محترم یاسر شاہ صاحب
محترم محمد احسن سمیع راحلؔ صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔
~~~~~~~~~~
آساں ہے دلِ ماہئ بے آب میں رہنا
مشکل ہے ، ہمارے دلِ بے تاب میں رہنا !
خلوت میں مِلو اُس سے کہ جلوت میں مِلو تم
دونوں ہی جگہ عشق کے آداب میں رہنا
نازک بدن اتنے ہو ، کہیں ٹھنڈ نہ لگ جائے
کمرے میں تم اپنے ، شبِ مہتاب میں رہنا
قیدی کوئی رہتا ہے کسی جیل میں جیسے
ویسے ہی تم اِس عالمِ اسباب میں رہنا
تھا ان کی طبیعت میں تو پہلے سے ہی رومان
راس آتا نہ کیسے انہیں پنجاب میں رہنا
ہر تارِ نفَس میں تمہیں محسوس کروں مَیں
تم دل میں تو ہو ، اب مِرے اعصاب میں رہنا
دریا میں ، سمندر میں ، جو رہنے کا ہو عادی
کب اُس کے لیے سہل ہے تالاب میں رہنا !
اوقات میں رہنے کا تمہیں نسخہ بتاؤں ؟
دو چار منٹ حلقۂ احباب میں رہنا !
کرتا جو نہ مَیں بحرِ محبت کا تقاضہ
پڑتا نہ مجھے ہجر کے گرداب میں رہنا
جس خواب کی تعبیر تمہیں چاہیے اشرف !
کھوئے ہوئے ہر وقت تم اُس خواب میں رہنا
شکریہ جاسمن صاحبہ
اشرف علی — اگست 23، 2023 6:34 شام
بہت خوب!
ویسے اشارہ کس طرف ہے؟:D
بہت بہت شکریہ ، جزاک اللہ خیر
یہ بھی بتاناپڑے گا !:)
جاسمن — اگست 24، 2023 2:40 صبح
بہت بہت شکریہ ، جزاک اللہ خیر
یہ بھی بتاناپڑے گا !:)
آپ کا حلقہ احباب ڈھونڈنا پڑے گا۔ :D
اشرف علی — اگست 24، 2023 3:24 شام
آپ کا حلقہ احباب ڈھونڈنا پڑے گا۔ :D
مل جائے تومجھے بھی بتا دیجئے گا :)
اشرف علی — ستمبر 9، 2023 8:38 شام
سر ! کیا م تا م اب تمام اشعار ٹھیک ہیں ؟
~~~~~~~~~~~
آساں ہے دلِ ماہئ بے آب میں رہنا
مشکل ہے ، ہمارے دلِ بے تاب میں رہنا !
آساں ہے میاں ! حلقۂ گرداب میں رہنا
مشکل ہے ، دلِ عاشقِ بیتاب میں رہنا
میں عشق ہوں ، رہنا ہے مجھے دشت میں ، لیکن
تم حُسن ہو ، تم گلشنِ شاداب میں رہنا
ہر آن مزا زیست کا لینا ہے تو پھر تم
ہر سانس تلاشِ غمِ نایاب میں رہنا
نازک بدن اتنے ہو ، کہیں ٹھنڈ نہ لگ جائے
کمرے میں تم اپنے ، شبِ مہتاب میں رہنا
قیدی کوئی رہتا ہے کسی جیل میں جیسے
ویسے ہی تم اِس عالمِ اسباب میں رہنا
تھا ان کی طبیعت میں تو پہلے سے ہی رومان
راس آتا نہ کیسے انہیں پنجاب میں رہنا
دریا میں ، سمندر میں ، جو رہنے کا ہو عادی
کب اُس کے لیے سہل ہے تالاب میں رہنا !
اوقات میں رہنے کا تمہیں نسخہ بتاؤں ؟
دو چار منٹ حلقۂ احباب میں رہنا !
تب مجھ پہ کھلا بحرِ محبت کا ہر اک راز
جب مجھ کو پڑا ہجر کے گرداب میں رہنا
جس خواب کی تعبیر تمہیں چاہیے اشرف !
کھوئے ہوئے ہر وقت تم اُس خواب میں رہنا
حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ محمد امین صدیق صاحب
جزاک اللہ خیر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA-%DB%81%DB%92-%D8%AF%D9%84%D9%90-%D9%85%D8%A7%DB%81%D8%A6-%D8%A8%DB%92-%D8%A2%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81%D9%86%D8%A7.119715/page-3