برائے اصلاح و تنقید

امان زرگر — اپریل 23، 2017 3:27 شام
طوالت کی طرف پھیلائے جب فرقت کی شب دامن
اٹھے پھر اک نیا فتنہ مرے احوالِ مفتوں میں
یا
طوالت کی طرف پھیلائے جب فرقت کی شب دامن
اٹھے آہ سحر سے ایک فتنہ حال مفتوں میں
سر الف عین
امان زرگر — اپریل 23، 2017 3:43 شام
ضرور۔ محزوں کا مطلب اداس ہوتا ہے۔دور بذات خود اداس نہیں ہوتا، ’اداسی کا‘ ہو سکتا ہے۔
کشش پائے مرا دل اب شبِ عزلت کے افسوں میں
تری چاہت مجھے لے آئی کس احساس محزوں میں
الف عین — اپریل 23، 2017 4:54 شام
کشش پائے مرا دل اب شبِ عزلت کے افسوں میں
تری چاہت مجھے لے آئی کس احساس محزوں میں
احساس بھی محزوں نہیں ہوتا۔ احساسِ محزونی ہوتا ہے۔ دلِ محزوں ہی بولا جاتا ہے عام طور پر۔
الف عین — اپریل 23، 2017 4:55 شام
دوسرے اشعار قابل قبول ہیں۔ جو چاہے رکھو۔
امان زرگر — اپریل 23، 2017 4:57 شام
احساس بھی محزوں نہیں ہوتا۔ احساسِ محزونی ہوتا ہے۔ دلِ محزوں ہی بولا جاتا ہے عام طور پر۔
دل محزوں وزن کے حوالے سے درست ہو گا؟ سر
الف عین — اپریل 23، 2017 5:10 شام
دل محزوں وزن کے حوالے سے درست ہو گا؟ سر
تقطیع میں نہیں آ سکتا، یہی تو مشکل ہے۔ لیکن محزوں کے ساتھ اور کچھ بنتا بھی نہیں۔
امان زرگر — اپریل 23، 2017 5:15 شام
تقطیع میں نہیں آ سکتا، یہی تو مشکل ہے۔ لیکن محزوں کے ساتھ اور کچھ بنتا بھی نہیں۔
'دلے محزوں' میں 'ے' گرایا بھی تو جا سکتا ہے اگر اجازت ہو!
الف عین — اپریل 23، 2017 5:24 شام
میری اجازت سے کیا ہو گا۔ ’دلے‘ مفاعیلن میں فٹ تو ہوتا ہی نہیں۔
امان زرگر — اپریل 23، 2017 5:42 شام
میری اجازت سے کیا ہو گا۔ ’دلے‘ مفاعیلن میں فٹ تو ہوتا ہی نہیں۔
کشش پائے مرا دل اب شبِ عزلت کے افسوں میں
تبدل یوں تری چاہت ہے لائی فکر محزوں میں
یا
کشش پائے مرا دل اب شبِ عزلت کے افسوں میں
تصرف یوں تری چاہت نے برتا فکر محزوں میں
کچھ بگڑی بن سکے اگر
الف عین — اپریل 24، 2017 5:43 صبح
کشش پائے مرا دل اب شبِ عزلت کے افسوں میں
تبدل یوں تری چاہت ہے لائی فکر محزوں میں
یا
کشش پائے مرا دل اب شبِ عزلت کے افسوں میں
تصرف یوں تری چاہت نے برتا فکر محزوں میں
کچھ بگڑی بن سکے اگر
نہیں بن سکی۔ فکر بھی احساس کی طرح محزوں کیسے ہو سکتی ہے، مجھے علم نہیں۔
امان زرگر — اپریل 24، 2017 6:20 صبح
نہیں بن سکی۔ فکر بھی احساس کی طرح محزوں کیسے ہو سکتی ہے، مجھے علم نہیں۔
سر 'ساز سلسبیل' میں 'مظفر عازم' نے 'فکر محزوں' کو برتا ہے.
'فکر محزوں کو گدگداتی ہے'
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 24، 2017 6:26 صبح
واہ جی کیا بات ہے آپ کی ۔بہت خوبصورت غزل ہے۔
امان زرگر — اپریل 24، 2017 8:12 صبح
نہیں بن سکی۔ فکر بھی احساس کی طرح محزوں کیسے ہو سکتی ہے، مجھے علم نہیں۔
کشش پائے مرا دل اب شبِ عزلت کے افسوں میں
اتر آئے تری صورت جو میری چشم محزوں میں
یا
کشش پائے مرا دل اب شبِ عزلت کے افسوں میں
اتر آئے وہ گل اندام جیسے چشم محزوں میں
یا
عجب لذت ملے دل کو شب عزلت کے افسوں میں
اتر آئے وہ گل اندام جیسے چشم محزوں میں
الف عین — اپریل 24، 2017 5:31 شام
عجب لذت ملے دل کو شب عزلت کے افسوں میں
اتر آئے وہ گل اندام جیسے چشم محزوں میں
بہترین ہے
امان زرگر — اپریل 24، 2017 7:20 شام
شکریہ سر
عاطف ملک — اپریل 24، 2017 7:27 شام

Well deserved :applause::applause::notworthy::notworthy:
ماشااللہ بہت محنت کی ہے آپ نے اس غزل پر۔
اب جلدی سے مکمل غزل پوسٹ کیجیے۔
امان زرگر — اپریل 25، 2017 11:10 صبح
بھائی عاطف ملک
درج ذیل چار اشعار محترم الف عین صاحب نے قبول فرما لئے۔
عجب لذت ملے دل کو شبِ عزلت کے افسوں میں
اتر آئے وہ گل اندام جیسے چشمِ محزوں میں
طلاطم خیز قلزم میں اٹھیں یوں سرخ سی موجیں
اتر آئے جگر کا خون میری چشمِ گلگوں میں
وہ دل کو لوٹنے والا، پری رخ اور ستم پرور
اصولِ حسن سب ہیں کار فرما نقشِ موزوں میں
زمیں کے ریگ زاروں میں مرے ہی دم سے رونق ہے
مرے ہی تذکرے ہیں ہر گھڑی اربابِ گردوں میں

درج ذیل اشعار پر تحفظات کا اظہار ہوا تھا لیکن ان پر کام نہ ہو سکا۔ مزید رہنمائی کا طالب ہوں۔
جو بکھرا تھا مرا خوں، زینتِ قرطاس وہ سمجھے
حقیقت میں وہ تھا اظہارِ غم ہستی کے مضموں میں
عنایت اک ستم پرور کی یہ سوزِ دروں میرا
رگوں میں درد بہتا ہے جنوں شامل مرے خوں میں
بدل دے اے تصور اب وفا کی رسمِ فرسودہ
کہاں لیلٰی کی گلیاں ہی رہیں پندارِ مجنوں میں

درج ذیل اشعار شرف قبولیت پا چکے مگر ان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ احباب کی مدد مطلوب ہے۔
طوالت کی طرف پھیلائے جب فرقت کی شب دامن
اٹھے پھر اک نیا فتنہ مرے احوالِ مفتوں میں
یا
طوالت کی طرف پھیلائے جب فرقت کی شب دامن
اٹھے آہِ سحر سے ایک فتنہ حالِ مفتوں میں

جبکہ اس شعر کو غزل بدر کرنے کا ارادہ ہے۔
لگا دی اس کی الفت میں جو ہم نے جان کی بازی
دیا پھر دردِ دل ظالم نے اجرِ غیرِممنوں میں
امان زرگر — اپریل 26، 2017 1:54 شام
عنایت اک ستم پرور کی یہ سوزِ دروں میرا
رگوں میں درد بہتا ہے جنوں شامل مرے خوں میں
جنوں میں خون شامل کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ کوما یا نو کوما، یہ واضح نہیں ہوتا،
عنایت اک ستم پرور کی یہ سوزِ دروں میرا
رگ و پے میں مرے سودا، جنوں شامل ہوا خوں میں
یا
عنایت اک ستم پرور کی یہ سوزِ دروں میرا
رگوں میں درد بہتا ہے جنوں شامل ہوا خوں میں​
الف عین — اپریل 26، 2017 5:13 شام
عنایت اک ستم پرور کی یہ سوزِ دروں میرا
رگوں میں درد بہتا ہے جنوں شامل ہوا خوں میں
یوں ہو تو
رگوں میں درد شامل ہے، جنوں شامل ہوا خوں میں
امان زرگر — اپریل 26، 2017 5:40 شام
یوں ہو تو
رگوں میں درد شامل ہے، جنوں شامل ہوا خوں میں
جی سر او کے ہو گیا، مکمل غزل پوسٹ کی تھی مختلف رنگوں والی، ایک نظر آپ دیکھ کر جو اشعار قابل قبول نہیں ہے ان کے بارے بتا دیتے تو ان کو غزل بدر کر کے فائنل کر لیتا غزل کو.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF.95958/page-2