بھائی ، ٹیگ کرنے کا شکریہ۔ اشعار کہ جن میں تلفظ کے مسائل ہیں ان پربات ہوچکی ہے ، میں دو تین اشعار اورتعقید کے عمومی پہلو کی طرف آپ کو متوجہ کروں گا۔
شعر میں لفظی تعقید کم سے کم ہو تو بہتر ہے ۔ حتی الامکان کوشش کیجیے کہ مصرع میں لفظی ترتیب نثر ی صورت کے قریب قریب ہو ۔ خاص طور پر محاورے میں لفظی ترتیب کو نہیں بگاڑنا چاہیے ۔ ایک آدھ لفظ اگر شعری ضرورت کے تحت اپنی جگہ سے ذرا سا ہل جائے تو چل جاتا ہے لیکن محاورے کی اصل صورت کو اس سے زیادہ مسخ کرنا جائز نہیں ہے ۔
باہم یوں ہوئے گھر کے مکیں دست و گریباں
گھر زیر و زبر ہے کہ دکھائی نہیں دیتا
اصل محاورہ ہے باہم دست و گریباں ہونا ۔ لیکن یہاں باہم مصرع کے شروع میں ، ہوئے درمیان میں اور دست و گریباں بالکل آخر میں آئے ہیں ۔ یہاں محاورے کی لفظی شکل برقرار نہیں رہی بلکہ بالکل ہی مسخ ہوگئی۔ یہ ٹھیک نہیں ہے ۔
بے نور ہیں آنکھیں کہ دماغوں میں خلل ہے
کچھ پیشِ نظر ہے کہ دکھائی نہیں دیتا
یہاں پیشِ نظر کا محل نہیں ہے ۔ اگر کوئی چیز ( پردہ ، دیوار وغیرہ) آنکھوں کے آگے آکر نگاہ کی رکاوٹ بن جائے تو اسے پیشِ نظر ہونا نہیں کہیں گے۔ پیشِ نظر کے معنی لغت میں دیکھ لیجیے ۔ پھر وہی بات دہراؤں گا کہ محنت کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔درست تلفظ اور معنی کے لیے لغت دیکھنے کو عادت بنائیے ۔ جہاں شک و شبہ ہو فوراً لغت کھولی لیجیے ۔ آج کل تو آنلائن دستیاب ہے ۔ ایک کلک کرنا پرتا ہے ۔ ہم نے تو ساری عمر تین چار کلو کی کتاب اٹھا کر ورق گردانی کی ہے ۔

وہ دجل کا ہے اب کہ گھٹا ٹوپ اندھیرا
امکانِ سحر ہے کہ دکھائی نہیں دیتا
پہللا مصرع مہمل ہے ۔ اس کی نثر بنا کر دیکھیے ۔ تعقید حد سے زیادہ ہو تو فقرہ چیستان بن جاتا ہے ۔ مجھ سے تو اس مصرع کی بامعنی نثر بھی نہیں بن سکی لیکن گمان غالب ہے کہ اس کی نثر یوں ہونا چاہیے: دجل کا وہ گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے کہ اب