برائے اصلاح - بہت شکریہ!

سارہ بشارت گیلانی — ستمبر 9، 2012 8:19 صبح
عجب سی کشمکش میں لوگ ہم کو چھوڑ جاتے ہیں
تمهارا نام لے کر آج بهی ہم کو بلاتے ہیں
عبادت اور الفت میں نہیں کچھ فرق نیت کا
جہاں بگڑی بنانی ہو وہاں سر کو جهکاتے ہیں
ہمیں ایسے وہ آ کے رنج و غم اپنے سناتے ہیں
کچھ ایسے دوست ہیں روتے ہوئے دل کو رلاتے ہیں
چلو پهر سے ملیں پهر سے کریں آغاز الفت کا
گئی عمروں کے وہ لمحے ہمیں پهر سے بلاتے ہیں
محمد اظہر نذیر — ستمبر 9، 2012 8:27 صبح
واہ کیا بات ہے جی
محمد خلیل الرحمٰن — ستمبر 9، 2012 8:30 صبح
خوبصورت اشعار سارہ بشارت گیلانی بہنا! داد قبول فرمائیے
مہ جبین — ستمبر 9، 2012 8:36 صبح
بہت خوب
محفل میں سارہ بشارت گیلانی کو خوش آمدید
عاطف بٹ — ستمبر 9، 2012 8:38 صبح
واہ، بہت خوب۔
سارہ بشارت گیلانی — ستمبر 9، 2012 8:43 صبح
بہت بہت شکریہ حوصلہ افزائی کے لئے!
نایاب — ستمبر 9، 2012 8:49 صبح
بہت خوب کلام
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 9، 2012 9:02 صبح
عجب سی کشمکش میں لوگ ہم کو چھوڑ جاتے ہیں
تمهارا نام لے کر آج بهی ہم کو بلاتے ہیں
پہلا شعر بے عیب اور لا جواب لگتا ہے۔۔
عبادت اور الفت میں نہیں کچھ فرق نیت کا
عبادت اور الفت میں نیت کا فرق کیوں کر ہو؟ شاید یوں بہتر رہے،
جہاں بگڑی بنانی ہو وہاں سر کو جهکاتے ہیں
یہاں نیت کو آپنے "نیّت" باندھا ہے۔۔ شاید قابل قبول بات نہیں۔
ہمیں ایسے وہ آ کے رنج و غم اپنے سناتے ہیں
کچھ ایسے دوست ہیں روتے ہوئے دل کو رلاتے ہیں
دوسرے مصرع میں "دوست" کی "ت" گرتی ہے۔۔۔ اسے "یار" کردیں بہتری آئے گی۔ اور اسے مطلع کے فوراً بعد حسن مطلع کے طور پر رکھ دیں۔
چلو پهر سے ملیں پهر سے کریں آغاز الفت کا
گئی عمروں کے وہ لمحے ہمیں پهر سے بلاتے ہیں
خوب شعر ہوا ہے۔
مقطع کی کمی شدید ہے۔
بہت اعلیٰ غزل ہوئی ہے۔۔۔ داد مقبول خاطر ہو۔۔۔
احمد بلال — ستمبر 9، 2012 8:39 شام
اچھی غزل ہے۔ خوب صورت کلام ہے۔ البتہ مہدی نقوی حجاز صاحب سےمعذرت کے ساتھ۔۔۔
نیت کا درست تلفظ وہی ہے جو محترمہ نے باندھا ہے یعنی بتشدید ی۔ لہذا محترمہ کا مصرع تقطیع میں درست ہوا۔
اس کے علاوہ دوست یہاں صحیح تقطیع ہو رہا ہے۔ اس پہ حجت غالب کا مصرع ہے ع
دوستدار دشمن ہے، اعتمادِ دل معلوم بحر فاعلن مفاعیلن، فاعلن مفاعیلن۔ البتہ یہاں قاعدہ کیا لگ رہا اور لگ رہا ہے بھی یا نہیں ، یہ @محمدوارث صاحب، الف عین صاحب ، مزمل شیخ بسمل صاحب جیسے فنِ عروض کے ماہرین ہی بتائیں گے۔
لیکن سارہ بشارت گیلانی صاحبہ مجھے اس شعر کے پہلے مصرعے میں "ایسے " کھٹک رہا ہے۔ اگر ا س کی جگہ اکثر کر دیں تو میرے خیال میں بہتر ہو جائے گا۔ یعنی "ہمیں اکثر وہ آ کے رنج و غم اپنے سناتے ہیں"۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 9، 2012 8:57 شام
بہت اعلیٰ غزل ہوئی ہے۔۔۔ داد مقبول خاطر ہو۔۔۔
اچھی غزل ہے۔ خوب صورت کلام ہے۔ البتہ مہدی نقوی حجاز صاحب سےمعذرت کے ساتھ۔۔۔
نیت کا درست تلفظ وہی ہے جو محترمہ نے باندھا ہے یعنی بتشدید ی۔ لہذا محترمہ کا مصرع تقطیع میں درست ہوا۔
اس کے علاوہ دوست یہاں صحیح تقطیع ہو رہا ہے۔ اس پہ حجت غالب کا مصرع ہے ع
دوستدار دشمن ہے، اعتمادِ دل معلوم بحر فاعلن مفاعیلن، فاعلن مفاعیلن۔ البتہ یہاں قاعدہ کیا لگ رہا اور لگ رہا ہے بھی یا نہیں ، یہ @محمدوارث صاحب، الف عین صاحب ، مزمل شیخ بسمل صاحب جیسے فنِ عروض کے ماہرین ہی بتائیں گے۔
لیکن سارہ بشارت گیلانی صاحبہ مجھے اس شعر کے پہلے مصرعے میں "ایسے " کھٹک رہا ہے۔ اگر ا س کی جگہ اکثر کر دیں تو میرے خیال میں بہتر ہو جائے گا۔ یعنی "ہمیں اکثر وہ آ کے رنج و غم اپنے سناتے ہیں"۔

لفظ ’’دوست، گوشت، پوست، زیست وغیرہ میں جو تیسرا ساکن یعنی ”ت“ ہے وہ نوے فیصد سے بھی زیادہ شعرا نے اپنے کلام میں گرایا ہے۔ بلکہ اگر یوں کہوں کے اسے شمار ہی نہیں کیا جاتا تو غلط نہ ہوگا۔
نیت کا وزن بھی احمد سے اتفاق کرتے ہوئے فعلن ہی ہے جو شاعرہ کے حق میں ہے۔
قرۃالعین اعوان — ستمبر 9، 2012 9:01 شام
خوب!
سارہ بشارت گیلانی — ستمبر 10، 2012 6:40 صبح
بہت اعلیٰ غزل ہوئی ہے۔۔۔ داد مقبول خاطر ہو۔۔۔

بہت بہت شکریہ! واقعی بہت زیادہ شکر گزار ہوں آپ کی اس مدد کے لئے! کتنی اچھی باتیں بتائی ہیں آپ نے!
سارہ بشارت گیلانی — ستمبر 10، 2012 6:44 صبح
اچھی غزل ہے۔ خوب صورت کلام ہے۔ البتہ مہدی نقوی حجاز صاحب سےمعذرت کے ساتھ۔۔۔
نیت کا درست تلفظ وہی ہے جو محترمہ نے باندھا ہے یعنی بتشدید ی۔ لہذا محترمہ کا مصرع تقطیع میں درست ہوا۔
اس کے علاوہ دوست یہاں صحیح تقطیع ہو رہا ہے۔ اس پہ حجت غالب کا مصرع ہے ع
دوستدار دشمن ہے، اعتمادِ دل معلوم بحر فاعلن مفاعیلن، فاعلن مفاعیلن۔ البتہ یہاں قاعدہ کیا لگ رہا اور لگ رہا ہے بھی یا نہیں ، یہ @محمدوارث صاحب، الف عین صاحب ، مزمل شیخ بسمل صاحب جیسے فنِ عروض کے ماہرین ہی بتائیں گے۔
لیکن سارہ بشارت گیلانی صاحبہ مجھے اس شعر کے پہلے مصرعے میں "ایسے " کھٹک رہا ہے۔ اگر ا س کی جگہ اکثر کر دیں تو میرے خیال میں بہتر ہو جائے گا۔ یعنی "ہمیں اکثر وہ آ کے رنج و غم اپنے سناتے ہیں"۔

بہت بہت شکریہ!
میں آپ سب سے بہت کچھ سیکھ رہی ہوں۔
I'm really very thankful to all of you for your help
سارہ بشارت گیلانی — ستمبر 10، 2012 6:53 صبح
مقطع کے لئے تھوڑی سی guidance چاہیئے please.
مقطع میں کیا خاص ہوتا ہے؟ میرا کوئی تخلص نہیں ہے۔
sounds silly to be asking but I really don't know
ناعمہ عزیز — ستمبر 10، 2012 7:00 صبح
بہت خوب
احمد بلال — ستمبر 10، 2012 7:51 صبح
بہت بہت شکریہ!
میں آپ سب سے بہت کچھ سیکھ رہی ہوں۔
I'm really very thankful to all of you for your help
you are welcome
احمد بلال — ستمبر 10، 2012 7:56 صبح
مقطع کے لئے تھوڑی سی guidance چاہیئے please.
مقطع میں کیا خاص ہوتا ہے؟ میرا کوئی تخلص نہیں ہے۔
sounds silly to be asking but I really don't know
خیر کوئی بات نہیں۔ یہاں ایسے ایسے نو مشق بھی آتے ہیں جن کا کوئی مصرع ڈھنگ کا نہیں ہوتا۔ آپ کا کلام بہت بہتر ہے۔ جب تک تخلص نہیں ہو گا مقطع ناممکن ہے۔ کیونکہ مقطع ہوتا ہی وہ ہے جس میں تخلص ہو۔
الف عین — ستمبر 10، 2012 11:49 صبح
نیت کا تلفظ بالکل درست ہے اور ’دوست‘ کا استعمال بھی جائز ہی ہے۔ غزل مکمل درست ہے، البتہ زبان و بیان میں یہاں ’بگڑی بنتی‘ کا محل ہے۔ بگڑی بناتی‘ کا نہیں۔
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 10، 2012 6:51 شام
اچھی غزل ہے۔ خوب صورت کلام ہے۔ البتہ مہدی نقوی حجاز صاحب سےمعذرت کے ساتھ۔۔۔
نیت کا درست تلفظ وہی ہے جو محترمہ نے باندھا ہے یعنی بتشدید ی۔ لہذا محترمہ کا مصرع تقطیع میں درست ہوا۔
اس کے علاوہ دوست یہاں صحیح تقطیع ہو رہا ہے۔ اس پہ حجت غالب کا مصرع ہے ع
دوستدار دشمن ہے، اعتمادِ دل معلوم بحر فاعلن مفاعیلن، فاعلن مفاعیلن۔ البتہ یہاں قاعدہ کیا لگ رہا اور لگ رہا ہے بھی یا نہیں ، یہ @محمدوارث صاحب، الف عین صاحب ، مزمل شیخ بسمل صاحب جیسے فنِ عروض کے ماہرین ہی بتائیں گے۔
لیکن سارہ بشارت گیلانی صاحبہ مجھے اس شعر کے پہلے مصرعے میں "ایسے " کھٹک رہا ہے۔ اگر ا س کی جگہ اکثر کر دیں تو میرے خیال میں بہتر ہو جائے گا۔ یعنی "ہمیں اکثر وہ آ کے رنج و غم اپنے سناتے ہیں"۔
معذرت کی کوئی جا نہیں محترم۔۔۔ ہم بھی اپنی ہی اصلاح کی خاطر یہاں طبع آزمائی کر رہے تھے۔۔
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 10، 2012 6:52 شام
بہت بہت شکریہ! واقعی بہت زیادہ شکر گزار ہوں آپ کی اس مدد کے لئے! کتنی اچھی باتیں بتائی ہیں آپ نے!
اچھی باتیں تو خیر غلط از آب در آئیں۔۔ :grin:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%A8%DB%81%D8%AA-%D8%B4%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DB%81.54181/