عاطف ملک — جنوری 17، 2017 7:29 صبح
اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں تنقید اور اصلاح کے لیے پیش ہے۔۔۔۔۔
مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
کھلتے سے تبسم میں ادا اور کوئی ہے
اس رشکِ بہاراں پہ فدا اور کوئی ہے
اجڑا ہے چمن پھر بھی خزاں لرزہ بر اندام
نوخیز اس کلی کی ضیا اور کوئی ہے
بے چین دھڑکنوں کا سبب گو ہے عینِ عشق
ویرانیِ نظر کی وجہ اور کوئی ہے
مانگا جو "اس" کو ہوتا تو پا لیتا بالیقیں
پر کیا کروں کہ میری دعا اور کوئی ہے
دارِ جفا پہ چڑھ کہ بھی زندہ ہوں اب تلک
کیا جرمِ محبت کی سزا اور کوئی ہے؟؟؟
آئے تو تھے رلانے مگر خود ہی ہنس پڑے
عاطف نے آج شعر پڑھا اور کوئی ہے
عاطف ملک — جنوری 17، 2017 7:31 صبح
استادِ محترم جناب
الف عین
جناب
راحیل فاروق
جناب
سید عاطف علی
جناب
محمد ریحان قریشی
جناب
کاشف اسرار احمد
آپ سے یہ گزارش ہے کہ آیا یہ غزل قابلِ اصلاح بھی ہے یا End Stage Disease میں پہنچ چکی ہے؟؟
سید عاطف علی — جنوری 17، 2017 7:41 صبح
آپ نے دو بحریں جمع کر دیں ہیں ۔۔پہلے غزل کو ایک بحر میں لائیے۔
کئی مصرع اس بحر میں ہین ۔
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
۔
عاطف ملک — جنوری 17، 2017 7:47 صبح
آپ نے دو بحریں جمع کر دیں ہیں ۔۔پہلے غزل کو ایک بحر میں لائیے۔
کئی مصرع اس بحر میں ہین ۔
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
۔
دراصل میں خود تقطیع نہیں کر پا رہا ان اشعار کی۔۔۔۔اسی لیے رہنمائی طلب کی ہے۔۔۔۔جب تک مرض کا پتا نا چلے علاج نہیں ہوسکتا،سو تشخیص کے لیے آپ کی جراحت کا سہارا لینا پڑا۔۔۔۔۔ازراہِ کرم نشاندہی کیجیے گا ان اشعار کی۔
سید عاطف علی — جنوری 17، 2017 7:57 صبح
دراصل میں خود تقطیع نہیں کر پا رہا ان اشعار کی۔۔۔۔اسی لیے رہنمائی طلب کی ہے۔۔۔۔جب تک مرض کا پتا نا چلے علاج نہیں ہوسکتا،سو تشخیص کے لیے آپ کی جراحت کا سہارا لینا پڑا۔۔۔۔۔ازراہِ کرم نشاندہی کیجیے گا ان اشعار کی۔
شروع کے تین مصرع اس مذکورہ بحر میں ہیں جبکہ لفظ کوئی کو فعو کے وزن پر تصور کیا جائے۔
آپ نے شاید کوئی کو فاع تصور کر کے استعمال کیاہے ۔ کوئی کو دونوں طرح استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن بحر کا خیال رکھنا لازم ہے۔
اس بات کو مد نظر رکھ کر تقطیع کریں امید ہے کہ آپ کو دونوں بحروں کا فرق محسوس ہو جائے گا۔یہ بحریں اکثر خلط ملط ہو جاتی ہیں۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 17، 2017 8:05 صبح
اس طرح دیکھئے:
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن پر تقطیع ہو سکنے والے مصارع نیلےرنگ میں ہیں
کھلتے سے تبسم میں ادا اور کوئی ہے
اس رشکِ بہاراں پہ فدا اور کوئی ہے
اجڑا ہے چمن پھر بھی خزاں لرزہ بر اندام
نوخیز اس کلی کی ضیا اور کوئی ہے( مفعولن فاعلن مفاعیل فَعَل )
بے چین دھڑکنوں کا سبب گو ہے عینِ عشق( مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلاتُ )
ویرانیِ نظر کی وجہ اور کوئی ہے( مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن )
مانگا جو "اس" کو ہوتا تو پا لیتا بالیقیں( مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن )
پر کیا کروں کہ میری دعا اور کوئی ہے
دارِ جفا پہ چڑھ کہ بھی زندہ ہوں اب تلک( مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن )
کیا جرمِ محبت کی سزا اور کوئی ہے؟؟؟
آئے تو تھے رلانے مگر خود ہی ہنس پڑے( مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن )
عاطف نے آج شعر پڑھا اور کوئی ہے ( مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن)
عاطف ملک — جنوری 17، 2017 8:36 صبح
اس طرح دیکھئے:
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن پر تقطیع ہو سکنے والے مصارع نیلےرنگ میں ہیں
بہت بہت شکریہ محترم!
انشااللہ اب کوشش کرتا ہوں
عاطف ملک — جنوری 17، 2017 8:40 صبح
یہ بحریں اکثر خلط ملط ہو جاتی ہیں۔
اب ذرا سا اطمینان ہوا(اگر یہ تسلی برائے تسلی نہیں ہے تو!)
ورنہ میں تو دل چھوڑ بیٹھا تھا!
سید عاطف علی — جنوری 17، 2017 9:59 صبح
اب ذرا سا اطمینان ہوا(اگر یہ تسلی برائے تسلی نہیں ہے تو!)
ورنہ میں تو دل چھوڑ بیٹھا تھا!
ان میں اتنا ہی فرق ہے جتنا گائے اور بھینس میں ۔

عاطف ملک — جنوری 17، 2017 10:58 صبح
ان میں اتنا ہی فرق ہے جتنا گائے اور بھینس میں ۔
امید ہے کہ یہ بات آپ نے "ہزج" اور "مضارع" کے بارے کی ہے نہ کہ "اطمینان ہونے" اور دل چھوڑنے" کے متعلق

ویسے گائے اور بھینس میں تو کافی فرق ہوتا ہے!!!

عاطف ملک — جنوری 17، 2017 11:12 صبح
جی، "مجھے چھوڑ" تو خود بیٹھ جاتا ہے باقیوں کو ذرا زدوکوب کرنا پڑتا ہے۔
راحیل فاروق بھائی!
یہاں "زدوکوب" چل سکتا ہے؟؟؟
٭سنجیدہ سوال

سید عاطف علی — جنوری 17، 2017 11:38 صبح
امید ہے کہ یہ بات آپ نے "ہزج" اور "مضارع" کے بارے کی ہے نہ کہ "اطمینان ہونے" اور دل چھوڑنے" کے متعلق

ویسے گائے اور بھینس میں تو کافی فرق ہوتا ہے!!!
بھئی اگر گائے بھینس میں کافی فرق ہے تو گائے اور گھوڑے میں کتنا ہو گا ۔۔۔۔ اب یہ دیکھیں کہ دونوں فرقوں میں کتنا فرق ہے۔؟

سید لبید غزنوی — جنوری 17، 2017 12:05 شام
خاصے جاندار تبصرے اصلاح کرنے والوں کے اللہ سب کو سلامت رکھے آمین
اسی سے ہمیں بھی سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے اللہ سب اساتذہ کرام کی زندگیوں میں برکت دے آمین
محمد ریحان قریشی — جنوری 17، 2017 4:43 شام
اول تین اور آخر سے تیسرا مصرع بحرِ ہزج(مثمن اخرب مکفوف محذوف) میں ہیں۔ باقی درست ہیں۔
وجہ بر وزنِ فعَل غلط العام ہے۔ درست وزن فاع ہے۔
عاطف ملک — جنوری 17، 2017 4:49 شام
اول تین اور آخر سے تیسرا مصرع بحرِ ہزج(مثمن اخرب مکفوف محذوف) میں ہیں۔ باقی درست ہیں۔
وجہ بر وزنِ فعَل غلط العام ہے۔ درست وزن فاع ہے۔
"وجہ" بطورِ قافیہ درست ہے اس غزل میں؟
عاطف ملک — جنوری 17، 2017 4:49 شام
اول تین اور آخر سے تیسرا مصرع بحرِ ہزج(مثمن اخرب مکفوف محذوف) میں ہیں۔ باقی درست ہیں۔
وجہ بر وزنِ فعَل غلط العام ہے۔ درست وزن فاع ہے۔
"وجہ" بطورِ قافیہ درست ہے اس غزل میں؟
محمد ریحان قریشی — جنوری 17، 2017 4:51 شام
"وجہ" بطورِ قافیہ درست ہے اس غزل میں؟
اگر غلط العام تلفظ کے ساتھ باندھا جائے تو بالکل درست ہے۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 17، 2017 4:58 شام
اگر غلط العام تلفظ کے ساتھ باندھا جائے تو بالکل درست ہے۔
میری رائے میں اس تلفظ کو غلط العام نہیں غلط العوام کہا جائے گا.
شاعری میں درست تلفظ ہی باندھا جاتا ہے.
راحیل فاروق — جنوری 17، 2017 5:59 شام
منصور محبوب چوہدری — جنوری 17، 2017 8:52 شام
آپ سب کی توجہ سے سیکھنے کا بہت مواد و موقع ملا - ایک گستاخانہ کوشش کررہا ہوں:
تبسم میں اب کے ادا اور کوئی ہے
اس حسن پہ تیرے فدا اور کوئی ہے
(مفعول فاعِلات مفاعیل فاعلن) پہ اترتی ہے؟