برائے تنقید و اصلاح

عاطف ملک — جنوری 17، 2017 8:53 شام
باقی معاملے تو احباب ٹھیک ٹھیک طے کر چکے، عاطف بھائی۔ مجھے ایک رسید دینی ہے۔ اور وہ اس بات کی کہ مجھے آپ کا بےباک لہجہ بہت بھاتا ہے۔ ابھی کچھ کچھ خام ہے۔ تھوڑا وقت لگے گا اسے صاف اور شائستہ ہونے میں۔ مگر ان شاء اللہ نشتر ہو جائے گا۔ :redheart::redheart::redheart:
تقطیع سے قطعِ نظر، اس خیال پہ بھائی کا ماتھا چومنے کو جی چاہتا ہے۔ کے ای آنے کا ویسے بھی ارادہ بن رہا ہے بہت دنوں سے۔ جادۂِ رہ کششِ کافِ کرم ہے مجھ کو! :in-love::in-love::in-love:
مرحبا!
اگر KE آنا ہو تو خدمت کا موقع ضرور دیجیے گا مجھے۔۔۔۔۔منتظر رہوں گا
اور جہاں تک آپ کی تعریف کا تعلق ہے،اس میں آپ کا حسنِ نظر ہی ہے۔۔۔۔۔اور بہت سا حصہ اس فورم کا۔۔۔۔
یقیناً وقت لگے گا بہتری میں،اور محنت بھی۔۔۔۔بس تھوڑی سی تحریک رہنی چاہیے
عاطف ملک — جنوری 17، 2017 9:04 شام
آپ سب کی توجہ سے سیکھنے کا بہت مواد و موقع ملا - ایک گستاخانہ کوشش کررہا ہوں:
تبسم میں اب کے ادا اور کوئی ہے
اس حسن پہ تیرے فدا اور کوئی ہے
(مفعول فاعِلات مفاعیل فاعلن) پہ اترتی ہے؟
میری ناقص رائے میں تو نہیں!
منصور محبوب چوہدری — جنوری 17، 2017 9:08 شام
میری ناقص رائے میں تو نہیں!
جناب، سمجھا بھی دیجئے- نوازش ہوگی
عاطف ملک — جنوری 17، 2017 9:17 شام
جناب، سمجھا بھی دیجئے- نوازش ہوگی
قدرے مشکل کام کہہ دیا ہے آپ نے مجھے۔۔۔
دراصل عروض سے میری شناسائی بھی بہت واجبی سی ہے۔سو میں آپ کی کچھ خاص مدد نہیں کر سکتا اس معاملے میں۔
اساتذہ کرام ہی وضاحت کر سکتے ہیں۔
سلامت رہیں
الف عین — جنوری 18، 2017 5:59 صبح
منصور میاں اصلاح سخن کیے تمام مراسلوں کو غور سے پڑھیں تو بحر و ارکان اور تقطیع کے کچھ اصول معلوم ہو سکتے ہیں۔ ایک دو سوالات ادھر ادھر پوچھنے سے علم حاصل نہیں ہوتا۔
سید عاطف علی — جنوری 18، 2017 6:08 صبح
منصور میاں اصلاح سخن کیے تمام مراسلوں کو غور سے پڑھیں تو بحر و ارکان اور تقطیع کے کچھ اصول معلوم ہو سکتے ہیں۔ ایک دو سوالات ادھر ادھر پوچھنے سے علم حاصل نہیں ہوتا۔
اس ضمن میں اگر سنجیدگی سے سیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے سالم بحور سے آغاز کریں ۔وہاں سے مزاج موزوں ہو نا شروع ہوگا۔ ہمارے عزیز محمد خلیل الرحمٰن کافی شافی مشورے رکھتے ہیں ۔
حافظ عاصم — جنوری 18، 2017 9:07 صبح
دارِ جفا پہ چڑھ کہ بھی زندہ ہوں اب تلک(
ایک چھوٹی سی غلطی محسوس ہوئی۔۔پتا نہیں کہ اب ہے بھی یا نہیں۔۔دار جفا پہ چڑھ کے بھی ٹھیک ہو گا یا چڑھ کہ بھی۔۔؟؟
عاطف ملک — جنوری 18، 2017 9:35 صبح
ایک چھوٹی سی غلطی محسوس ہوئی۔۔پتا نہیں کہ اب ہے بھی یا نہیں۔۔دار جفا پہ چڑھ کے بھی ٹھیک ہو گا یا چڑھ کہ بھی۔۔؟؟
ٹائپنگ کی غلطی ہے۔۔۔۔۔۔نشاندہی کا شکریہ
حافظ عاصم — جنوری 18، 2017 9:41 صبح
ٹائپنگ کی غلطی ہے۔۔۔۔۔۔نشاندہی کا شکریہ
:nerd2:
عاطف ملک — مارچ 16، 2017 4:38 صبح
استادِ محترم الف عین ،سر آپ کی اصلاح کی منتظر ہے یہ غزل۔۔۔۔۔۔
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
کھلتی سی اس ہنسی میں ادا اور کوئی ہے
اس رشکِ گلستاں پہ فدا اور کوئی ہے
اجڑے ہوئے چمن میں خزاں مضطرب ہے کیوں
نوخیز اس کلی کی ضیا اور کوئی ہے
ہے داغ داغ دل کا سبب گرچہ عینِ عشق
بے چین دھڑکنوں کی صدا اور کوئی ہے
مانگا جو "اس" کو ہوتا تو پا لیتا بالیقیں
پر کیا کروں کہ میری دعا اور کوئی ہے
دارِ جفا پہ چڑھ کے بھی زندہ ہوں میں تو یوں
الفت ہے میرا جرم، سزا اور کوئی ہے
ہم کو رلانے آئے تھے، پر خود بھی رو دیے
عاطف نے آج شعر پڑھا اور کوئی ہے
الف عین — مارچ 16، 2017 10:50 صبح
ہاں اب درست ایک ہی بحر میں ہو گئی ہے غزل۔ اشعار بھی درست ہیں
عاطف ملک — مارچ 16، 2017 10:52 صبح
ہاں اب درست ایک ہی بحر میں ہو گئی ہے غزل۔ اشعار بھی درست ہیں
بہت شکریہ استادِ محترم!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.94244/page-2