وارث بھائی شکریہ کے ساتھ ساتھ دو الفاظ بھی لکھ دیتے،
محمد وارث — ستمبر 8، 2008 6:48 شام
وہ اعجاز صاحب کیلیئے چھوڑ دیئے تھے اچھی غزل ہے راجا صاحب، ماشاءاللہ پختگی آتی جا رہی ہے اور روانی بھی، کچھ اشعار مزید وضاحت چاہتے ہیں، انشاءاللہ اعجاز صاحب دیکھیں گے تفصیل سے۔ والسلام
ایم اے راجا — ستمبر 9، 2008 6:19 شام
بہت بہت شکریہ وارث صاحب، لگتا ہے اعجاز صاحب آجکل بہت مصروف ہیں یا ناراض ہیں، بحرحال انتظار کرتے ہیں۔ استادِ محترم کہاںںںںںںںں ہیںںںںںںںںں؟
الف عین — ستمبر 11، 2008 6:28 صبح
مصروف ہوں راجا۔ دلی گیا تھا کل۔ دیکھتا ہوں غزل۔
ایم اے راجا — ستمبر 11، 2008 6:05 شام
شکریہ استادِ محترم، کیا بات ہے دلی کی!
ایم اے راجا — ستمبر 12، 2008 7:04 شام
حضور اب اسکا نمبر لگائیے تا کہ دوسری کا نمبر لگوا سکوں، اگر مصروف ہیں تو معافی چاہتا ہوں
الف عین — ستمبر 13، 2008 2:10 صبح
اوہو، پھر رہ گئی۔ شاید سب کام چھوڑ کر پہلے غزل دیکھ لینی چاہیے ورنہ بعد میں بھول جاتا ہوں، اور یاد بھی آتا ہے تو یہ یاد نہیں آتا کہ کاپی پیسٹ کر کے کہاں کون سی فائل بنائی ہے!!
ایم اے راجا — ستمبر 13، 2008 6:49 صبح
بہت شکریہ استادِ محترم، نوازش ہے آپکی کہ ہمیں اتنا یاد رکھتے ہیں اور توجہ دیتے ہیں۔ شکریہ۔
الف عین — ستمبر 13، 2008 6:04 شام
ایک تو اکثر اشعار میں "بھی" ردیف درست نہیں آ رہی ہے، اکثر لگتا ہے کہ اس کی جگہ "تک" بہتر ہوتا۔ مجھے زندگی سے گلہ بھی نہیں ہے
اگرچہ کبھی کچھ ملا بھی نہیں ہے
درست ہے (یہاں بھی "ملا تک"‘ بہتر تھا۔)
محبت ہے بے لوث جذبہ دلوں کا
سو میں نے تو چاہا صلہ بھی نہیں ہے
///دونوں مصرعوں میں ربط نظر نہیں آ رہا۔ کیا اگر محبت ایسی نہیں ہوتی تو تم صلہ مانگتے؟ کس بات کا صلہ؟ "سو" کا مطلب ہوتا ہے "اس لئے"۔ اس وجہ سے تفہیم میں مزید مشکل ہو رہی ہے۔ ذرا سوچو کہ کیا کیا جا سکتا ہے اس کا۔ قبیلے نے میرے دیا تھا جو گھاؤ
ابھی تک کسی سے سلا بھی نہیں ہے
///یہاں گھاؤ بر وزن فعلن آ رہا ہے جو اچھا نہیں لگ رہا، درست بر وزن فعل ہے۔ اس کو یوں کیا جا سکتا ہے:
دیا تھا جو زخم اپنے لوگوں نے مجھ کو
ابھی تک۔۔۔۔
یہاں بھی "بھی" کی جگہ "تک " بہتر ہوتا یہ موسم کی سازش ہے بارش سے لوگو
کہ غنچہ چمن میں کھلا بھی نہیں ہے
///اچھا شعر ہے، اگر چہ ردیف کا "بھی" درست نہیں آ رہا ہے۔
امیروں نے شہروں میں راجا کبھی بھی
غریبوں کو بخشی جلا بھی نہیں ہے
///یہ تم امیر غریب ہمیشہ لاتے رہتے ہو۔ کمیونزم کو برا نہیں کہہ رہا، لیکن ایک ہلی موضوع ایک ہی طرح سے ہر بار اچھا نہیں لگتا۔
پھر کوئی جلا کیسے بخش سکتا ہے؟ اور شہروں سے کیا تخصیص، کیا گاؤوں میں امیر نہیں ہوتے؟ اس شعر کو نکال ہی دو۔
مزمل شیخ بسمل — جون 8، 2012 7:40 شام
محترم، میں اک بے قیمت انسان ہوں، شاعری سے بچپن سے شغف رہا ہے، تھوڑا سیکھنے کی نیت سے یہاں حاٖضر ہوا ہوں۔ میں بحر و اوزان کے علم میں کمزور ہوں ازراہ اس شعر کی تقطیع و بحر دونوں سے آگاہ فرمایں۔ ہو گیا وقتِ جماعت متّحد مسلم رہو،
یہ نہ ہووقتِ اذاں وقتِ اذاں جاتا رہا۔ (”مسلم“ سابقہ تخلص ہے ناچیز کا)
الف عین — جون 8، 2012 11:26 شام
تقطیع تو میں کر دیتا ہوں، تفصیلی بحر کے لئے محمد وارث کو آواز دیتا ہوں÷
ارکان ہیں
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
ہو گیا۔۔ وقتِ جماعت۔۔ متّحد مس۔۔ لم رہو
یہ نہ ہو۔۔وقتِ اذاں۔۔ وقتِ اذاں۔۔ جاتا رہا
محمد وارث — جون 9، 2012 5:55 صبح
جی یہ بہت زیادہ استعمال ہونے والی بحر ہے۔ نام بحر رمل مثمن محذوف ہے۔
مزمل شیخ بسمل — جون 9، 2012 5:35 شام
حضور طقتیع کے لیے بے حد شکر گزار ہوں، اک سوال تھا ، میں جانتا ہوں میری کوئی حیثیت نہیں پھر بھی اک تردد کا شکار ہوں دور فرمایں۔ فاعلاتن = ہو گیا وق
فاعلاتن = تے جماعت
فاعلاتن = متحد مس
فاعلن = لم رہو۔ فاعلاتن = یہ ن ہو وق
فاعلاتن = تے اذا وق
فاعلاتن = تے اذا جا
فاعلن = تا رہا کیا یہ ٹھیک تقطیع ھے؟
آپ کے جواب کا منتظر۔
حضور طقتیع کے لیے بے حد شکر گزار ہوں، اک سوال تھا ، میں جانتا ہوں میری کوئی حیثیت نہیں پھر بھی اک تردد کا شکار ہوں دور فرمایں۔ فاعلاتن = ہو گیا وق
فاعلاتن = تے جماعت
فاعلاتن = متحد مس
فاعلن = لم رہو۔ فاعلاتن = یہ ن ہو وق
فاعلاتن = تے اذا وق
فاعلاتن = تے اذا جا
فاعلن = تا رہا کیا یہ ٹھیک تقطیع ھے؟
آپ کے جواب کا منتظر۔
شکریہ محترم فاتح۔ استادِ محترم ”اع“ آپ کی طقتیع میں مجھسے وزن کی شنا سائی نہ ہو پا رہی۔ ازراہ تھوڑا سمجھا دیں تو بہت شکر گزار ہونگا۔ وارث صاحب کا بھی بہت شکریہ۔
خرم شہزاد خرم — جون 9، 2012 8:46 شام
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن ہو گیا۔۔ وقتِ جماعت۔۔ متّحد مس۔۔ لم رہو یہ نہ ہو۔۔وقتِ اذاں۔۔ وقتِ اذاں۔۔ جاتا رہا
اب شاہد میرے بھائی کو سمجھ آ گئی ہو اگر نہیں تو استادِ مخترم یہاں موجود ہیں فکر نا کریں آپ کی ہر طرح سے مدد کریں گے انشاءاللہ
فاتح — جون 9، 2012 8:55 شام
فاعلاتن ۔۔ فاعلاتن۔۔ فاعلاتن۔۔ فاعلن
ہو گیا وق۔۔ تِ جماعت۔۔ متّحد مس۔۔ لم رہو
یہ نہ ہو وق۔۔ تِ اذاں وق۔۔ تِ اذاں جا۔۔تا رہا
الف عین — جون 10، 2012 6:28 صبح
لاحول ولا قوۃ۔ میرا دھیان نہ جانے کس طرف تھا تقطیع کرتے وقت!! خیر، ثبوت مل گیا ہو گا سب کو میری جہالت کا!!
الف عین — جون 10، 2012 6:29 صبح
اپنے ہی پیغام سے غیر متفق ہونے کا آپشن ہی نہیں ہے، اس لئے اس عبارت کے ذریعے سہی