کوئی عروضی محقق بننا چاہے تو اور بات ہے، ورنہ اچھی شاعری کرنے کے لئے عروض کی جتنی شدبد درکار ہے، یہ کتاب اس کا سامان بہم پہنچاتی ہے۔
یوں تو دیگر احباب نے بھی عروض کی آسان تفہیم کی سعی کی ہے مگر قبلہ و استاذی حضرتِ سرورؔ کا تجربہ اور جہاں دیدگی اس کتاب کو ایک الگ ہی خصوصیت عطا کرتا ہے۔ قبلہ قدیم روایت کے امین بھی ہیں اور جدید اسلوب کے حامی بھی، اور ان دونوں افکار کا حسین امتزاج ان کی کتاب میں موجود ہے۔ افسوس اردو کی ایسی عظیم خدمت کی وہ قدر نہیں ہوتی جس کی یہ حقدار ہے۔ اسی قبیل میں آپ کی عروض کی ویب سائیٹ بھی شامل ہے۔ اہلِ اردو سے تو امید نہیں، ان شاء اللہ رب کریم ضرور آپ کو اس کی جزا عطا فرمائے گا۔ آمین