سر
الف عین
بھائی
عاطف ملک
سر
محمد ریحان قریشی
میرے دل کو پھول سی نزہت ملی
میری ہستی کو عجب ندرت ملی
(درد کو بھی پھول سی نزہت ملی
دل کی ہستی کو عجب ندرت ملی)
فرط الفت سے نہ مر جاؤں کہیں
بس مرے دل کو تری چاہت ملی
(بس تری دل کو مرے چاہت ملی)
پرسکوں جا کر لحد میں سوئیں گے
چل مرے دل عشق سے فرصت ملی
تیرے پہلو میں بھی بیٹھے مضطرب
میرے دل کو اک عجب فرقت ملی
کب جنوں میں شوق میرا ناتواں
ہر قدم پر عزم کی طاقت ملی
کب بھلا تھا شوق رسوائی مجھے
زندگی میں عشق کی تہمت ملی
رشک جس پر ہے مری تہذیب کو
کیسی یہ دل کو مرے وحشت ملی