تازہ غزل برائے اصلاح و تنقید

امان زرگر — اپریل 13، 2017 12:41 شام
احباب سے مشاورت اور اساتذہ کی اصلاح کے بعد مکمل غزل پیشِ خدمت ہے۔۔۔ رہنمائی کے لئے اساتذہ اور احباب کا شکر گزار ہوں۔
عشق کو میرے عجب ندرت ملی
درد کو بھی پھول سی نزہت ملی
فرطِ الفت سے نہ مر جاؤں کہیں
میرے دل کو بس تری چاہت ملی
تیرے پہلو میں بھی بیٹھے مضطرب
طبعِ ناداں کو عجب فرقت ملی
کب بھلا تھا شوقِ رسوائی مجھے
زندگی میں عشق کی تہمت ملی
پر سکوں سو جائیں جا کر قبر میں
چل مرے دل، عشق سے فرصت ملی
کب تھا میرا شوق ایسا نا تواں
ہر قدم پر عزم کی طاقت ملی
رشک ہے جس پر مری تہذیب کو
دہر میں ایسی مجھے وحشت ملی​
عظیم — اپریل 13، 2017 2:13 شام
رشک جس پر ہے مری تہذیب کو
یہ مصرع مجھے یوں زیادہ رواں محسوس ہو رہا ہے ۔
÷رشک ہے جس پر مری تہذیب کو
امان زرگر — اپریل 13، 2017 4:11 شام
یہ مصرع مجھے یوں زیادہ رواں محسوس ہو رہا ہے ۔
÷رشک ہے جس پر مری تہذیب کو
متفق, تدوین بھی کر دی مگر سر الف عین کی منظوری ضروری ہے.
الف عین — اپریل 14، 2017 6:11 صبح
مشورہ اچھا ہے عظیم کا۔ آخرشاگرد کس کا ہے؟
امان زرگر — اپریل 14، 2017 7:59 صبح
مشورہ اچھا ہے عظیم کا۔ آخرشاگرد کس کا ہے؟
جی سر،
عظیم — اپریل 14، 2017 2:08 شام
مشورہ اچھا ہے عظیم کا۔ آخرشاگرد کس کا ہے؟
جزاک اللہ خیر بابا ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF.95683/page-3