یہ بارِ گراں دل سے ہٹا کیوں نہیں دیتا
یہ مصرع عنوانات میں اصلاح کے لیے دیکھ کر میں حیران ہی رہ گیا کہ ہائیں یہ تو ہمارا مصرع ہے لیکن یہ اصلاح کے لیے کیوں لگایا ہے اور کس نے۔۔۔ پھر دیکھا کہ معمولی سا تبدیل شدہ ہے۔
میرا ایک مشاہد ہے جناب فاتح صاحب! خاص طور پر اُن دوستوں کی شعری کاوشوں کے حوالے سے جو کسی مشترکہ تنظیم یا پلیٹ فارم سے منسلک ہوں۔ ہم لوگ ایک دوسرے کی شاعری ’’سنتے‘‘ ہیں (کلامِ شاعر بزبانِ شاعر یا بقلمِ شاعر) اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شعر یا مصرع ذہن کے نہاں خانوں میں جا بستا ہے۔ کبھی کوئی تحریک ہوئی تو وہ شعر یا مصرع یوں سامنے آیا جیسے یہ ’’میں نےکہا ہے‘‘۔ وہ تو بعد میں کوئی دوست بتاتا ہے کہ میاں یہ تو فلاں کا شعر ہے۔ شرمندگی تو ظاہر ہے ہوتی ہے، تاہم اس میں نیت کا فتور نہیں ہوتا۔ یوں بھی کچھ مصرعوں میں ایسی سادگی یا روانی یا کشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے سے لگتے ہیں۔
بارے یوں ہوا کہ میں نے ایک غزل میں اپنے قریبی شاعر دوست جناب احمد فاروق کا ایک مصرع (اپنا سمجھتے ہوئے) اسی زمین میں غزل کہہ دی، حلقے میں سنائی بھی۔
بعد میں مجھے پتہ چلا تو میرے پاس بہت سادہ سا حل تھا، سو میں نےکر دیا ۔۔ اس مصرعے پر واوین لگا دئے!!