تِرا حُسن جلوہ نما تو ہے

فاروق احمد بھٹی — جون 6، 2015 1:17 شام
اساتذہِ کرام جناب محمد یعقوب آسی صاحب و جناب الف عین صاحب۔۔اور دیگر صاحبان علم و محفلین سے غزل پہ اصلاحی نظر فرمانے کی گزارش ہے۔
جو ازل سے باعثِ یاس ہے
وہ تِرے وصال کی آس ہے
رہِ خار زارِ حیات میں
مجھے کب خوشی کوئی راس ہے
تِرا حُسن جلوہ نما تو ہے
تُو نہیں جو بندہ شناس ہے
تو جو درمیاں نہ ہو بے وفا
کسے دشمنوں کا ہراس ہے
ہے تو ہی جو آ کے مٹا سکے
یہ جو تشنگی ہے جو پیاس ہے
تِری یاد ہے مِری زندگی
تِرا ہجر میری اساس ہے
مگر آرزوئے ملن جواں
سبھی غم غلط، تو جو پاس ہے
خرم انصاری — جون 6، 2015 3:06 شام
جو ازل سے باعثِ یاس ہے
فاروق احمد بھٹی — جون 6، 2015 5:24 شام
۔
فاروق احمد بھٹی — جون 8، 2015 7:27 صبح
سید عاطف علی ادب دوست مزمل شیخ بسمل
لئیق احمد — جون 8، 2015 8:27 صبح
اچھی کوشش ہے :)
سید عاطف علی — جون 8، 2015 9:57 صبح
فیالحال ایک دو باتیں ۔ آرزو کے ساتھ ملن کی ترکیب لطیف نہیں ۔ ملن گانوں اور گیتوں کا تاثر رکھتا ہے۔اور آرزو کی اضافت کے ساتھ تو اور نا ہموار لگ رہا ہے ۔
دوسرے "رہِ خار زار " میں خارزار ایک اسمی ترکیب لگ رہی ہے ، اسے رہِ کی اضات کے ساتھ صفاتی ترکیب یا لفظ ہو نا چاہیے۔ اسی لیے یہ (مجھے ) کچھ عجیب سی لگ رہی ہے۔ مزید اضافت اس پر حیات کی بھی ہے لیکن مجموعی شکل پھر بھی لفظی طور پر بہتر ہو تو اچھا ہے۔
اساس والے شعر میں مصرعوں کا ربط کمزور ہے۔
ہراس کا لفظ خوف کے بغیر غیر محاوراتی سا لگ رہا ہے ۔
ادب دوست — جون 8، 2015 10:29 صبح

حاضر جناب۔۔:):):)
ابن رضا — جون 8، 2015 10:57 صبح
فیالحال ایک دو باتیں ۔ آرزو کے ساتھ ملن کی ترکیب لطیف نہیں ۔ ملن گانوں اور گیتوں کا تاثر رکھتا ہے۔اور آرزو کی اضافت کے ساتھ تو اور نا ہموار لگ رہا ہے ۔
دوسرے "رہِ خار زار " میں خارزار ایک اسمی ترکیب لگ رہی ہے ، اسے رہِ کی اضات کے ساتھ صفاتی ترکیب یا لفظ ہو نا چاہیے۔ اسی لیے یہ (مجھے ) کچھ عجیب سی لگ رہی ہے۔ مزید اضافت اس پر حیات کی بھی ہے لیکن مجموعی شکل پھر بھی لفظی طور پر بہتر ہو تو اچھا ہے۔
اساس والے شعر میں مصرعوں کا ربط کمزور ہے۔
ہراس کا لفظ خوف کے بغیر غیر محاوراتی سا لگ رہا ہے ۔

اور ان اشعار کے متعلق کچھ نہیں کہا آپ نے؟
تِرا حُسن جلوہ نما تو ہے
تُو نہیں جو بندہ شناس ہے
ہے تو ہی جو آ کے مٹا سکے
یہ جو تشنگی ہے جو پیاس ہے
ادب دوست — جون 8، 2015 11:07 صبح
بہت اعلیٰ فاروق بھائی بہت ساری داد قبول کیجیئے ۔۔ واہ واہ واہ۔۔ بہت خوبصورت۔۔
فنی بحث تو اساتذہ کریں گے خیال نےمتاثر کیا ہے خاص طور سے ان اشعار میں
جو ازل سے باعثِ یاس ہے
وہ تِرے وصال کی آس ہے
رہِ خار زارِ حیات میں
مجھے کب خوشی کوئی راس ہے

دونوں اشعار کو حقیقی رنگ میں سمجھا ۔ بہت اعلیٰ
تِرا حُسن جلوہ نما تو ہے
تُو نہیں جو بندہ شناس ہے
واہ صاحب بہت خوب۔
تو جو درمیاں نہ ہو بے وفا
کسے دشمنوں کا ہراس ہے

یہ غزل (مجازی) میں سمجھا ۔۔ بہت خوب بہت اعلیٰ۔
فاروق احمد بھٹی — جون 8، 2015 6:38 شام
فیالحال ایک دو باتیں ۔ آرزو کے ساتھ ملن کی ترکیب لطیف نہیں ۔ ملن گانوں اور گیتوں کا تاثر رکھتا ہے۔اور آرزو کی اضافت کے ساتھ تو اور نا ہموار لگ رہا ہے ۔
دوسرے "رہِ خار زار " میں خارزار ایک اسمی ترکیب لگ رہی ہے ، اسے رہِ کی اضات کے ساتھ صفاتی ترکیب یا لفظ ہو نا چاہیے۔ اسی لیے یہ (مجھے ) کچھ عجیب سی لگ رہی ہے۔ مزید اضافت اس پر حیات کی بھی ہے لیکن مجموعی شکل پھر بھی لفظی طور پر بہتر ہو تو اچھا ہے۔
اساس والے شعر میں مصرعوں کا ربط کمزور ہے۔
ہراس کا لفظ خوف کے بغیر غیر محاوراتی سا لگ رہا ہے ۔
شاہ جی بندہ ممنون و مشکور ہے آپ کی گراں قدر آرا پہ یونہی ہم مبتدیوں کی اصلاح فرماتے رہیے۔۔اللہ جزائے خیر عطا فرمائے۔۔
فاروق احمد بھٹی — جون 8، 2015 6:45 شام
بہت اعلیٰ فاروق بھائی بہت ساری داد قبول کیجیئے ۔۔ واہ واہ واہ۔۔ بہت خوبصورت۔۔
فنی بحث تو اساتذہ کریں گے خیال نےمتاثر کیا ہے خاص طور سے ان اشعار میں
بہت بہت شکریہ نوازش آپ کی پسند آوری بندے کے لیے باعث مسرت ہے۔
آپ بھی تھوڑی اصلاحی بحث فرما دیا کیجیے۔ کہ آپ کی رائے بھی میرے لیے گراں قدر ہے۔
یہ غزل (مجازی) میں سمجھا ۔۔ بہت خوب بہت اعلیٰ۔
جی بالکل یہ مجازی ہی ہے۔۔۔اور مجازی تک مشقِ سخن لے آئی۔۔ ایک دفعہ مشق کا مرحلہ طے کر کے آگے نکلیں تو پھر کریں گے من کی باتیں۔
فاروق احمد بھٹی — جون 9، 2015 6:23 صبح
اور ان اشعار کے متعلق کچھ نہیں کہا آپ نے؟
تِرا حُسن جلوہ نما تو ہے
تُو نہیں جو بندہ شناس ہے
ہے تو ہی جو آ کے مٹا سکے
یہ جو تشنگی ہے جو پیاس ہے
اور مطلع بھی تو بلا تبصرہ رہ گیا ابن رضا بھائی۔
ادب دوست — جون 9، 2015 8:37 صبح
آپ بھی تھوڑی اصلاحی بحث فرما دیا کیجیے۔ کہ آپ کی رائے بھی میرے لیے گراں قدر ہے۔

فاروق بھائی آپ کی محبت ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ اساتذہ کی موجودگی میں بات کرنا حدِ ادب کے منافی لگتا ہے۔
آپ کا ارو ہمارا عقیده ہے کہ با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب۔
ہاں کبھی کبھی شرارتی بچے کی طرح، بلیک بورڈ کے سامنے کھڑے ہو کر استاد کی نقل کرنا ، بس کبھی کبھی کی شرارت ہے :p:p
فاروق احمد بھٹی — اگست 23، 2015 7:16 شام
استاد محترم جناب محمد یعقوب آسی صاحب و جناب الف عین صاحب آپ کی آرا کے بغیر کمی سی محسوس ہو رہی ہے۔ نظر عنائیت فرمائیں۔ شکریہ
محمد یعقوب آسی — اگست 23، 2015 7:23 شام
جو ازل سے باعثِ یاس ہے
وہ تِرے وصال کی آس ہے
۔۔۔ آس کو یاس تک بھی تو پہنچائیے نا! آس باعثِ رنج ہو تو ہو باعثِ یاس کیوں کر ہو؟ یاس کا مطلب تو آس کا باقی نہ رہنا ہے۔
محمد یعقوب آسی — اگست 23، 2015 7:25 شام
رہِ خار زارِ حیات میں
مجھے کب خوشی کوئی راس ہے
۔۔۔ یا تو خارزارِ حیات کہئے یا راہِ حیات کہئے۔ قاری تو الجھ گیا کہ آپ راہ میں ہیں یا خارزار میں اترے ہوئے ہیں۔
محمد یعقوب آسی — اگست 23، 2015 7:27 شام
تِرا حُسن جلوہ نما تو ہے
تُو نہیں جو بندہ شناس ہے
۔۔۔ یعنی؟ تو بندہ شناس نہیں؟ دونوں مصرعوں میں ربط؟ اور یہ بندہ پنجابی والا ہے یا فارسی والا ہے؟ فارسی والے تو مردم شناس کہتے ہیں۔
محمد یعقوب آسی — اگست 23، 2015 7:28 شام
تو جو درمیاں نہ ہو بے وفا
کسے دشمنوں کا ہراس ہے
۔۔۔ اگر وہ درمیان میں نہ ہو تو دشمنوں کی دشمنی کا کوئی اور جواز لائیے۔ موجودہ لفظیات میں اس کو درمیان سے نکال دیجئے، دشمنی کی بنا ہی ختم ہو جاتی ہے۔
محمد یعقوب آسی — اگست 23، 2015 7:30 شام
ہے تو ہی جو آ کے مٹا سکے
یہ جو تشنگی ہے جو پیاس ہے
۔۔۔ مناسب ہے۔ پہلے مصرعے کو بہتر کر سکیں تو بہتر ہے۔ ترا وصل ہے جو مٹا سکے وغیرہ۔ رعایات کا اہتمام شعر کو حسن بخشتا ہے۔
محمد یعقوب آسی — اگست 23، 2015 7:32 شام
تِری یاد ہے مِری زندگی
تِرا ہجر میری اساس ہے
۔۔۔ یہاں قافیہ شاید بہت موزوں نہیں ہے۔ ہجر کو اپنی اساس کہنا؟ آپ جانئے۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%90%D8%B1%D8%A7-%D8%AD%D9%8F%D8%B3%D9%86-%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81-%D9%86%D9%85%D8%A7-%D8%AA%D9%88-%DB%81%DB%92.82541/