جیا راؤ — دسمبر 9، 2009 6:16 شام
تھا کبھی حقیقت وہ، کھو گیا سرابوں میں
اُس کے لمس کی خوشبو آج تک ہے ہاتھوں میں
بے تحاشہ پیار آیا اُس نے مجھ سے پوچھا جب
'کیا وفا بھی شامل ہے عشق کے نصابوں میں!'
کیا دہکتی رنگت تھی، کیسا آتشیں لہجہ!
کیا عجیب لذت تھی اسکی تلخ باتوں میں
میرا نام صفحوں سے اب مٹا بھی ڈالو تم
مجھ کو قید رکھو گے کب تلک کتابوں میں!
جاں! تمہاری سنگت میں کب گمان تھا ہم کو
یوں اکیلا کر دوگے سردیوں کی راتوں میں
زھرا علوی — دسمبر 9، 2009 6:33 شام
واہ جیا ایسے شگفتہ غزل پڑھ کے اچھا لگا۔۔
بہت پیاری کاوش ہے۔۔۔

محمود احمد غزنوی — دسمبر 10، 2009 4:13 صبح
بہت خوبصورت۔ ۔ ۔واہ

فاتح — دسمبر 10، 2009 5:07 صبح
واہ کیا خوبصورت غزل ہے۔ مبارک باد قبول کیجیے۔
محمد وارث — دسمبر 10، 2009 5:41 صبح
اچھی غزل ہے جیا راؤ، خوب اشعار کہے ہیں آپ نے۔
جاں! تمہاری سنگت میں کب گمان تھا ہم کو
ایسے تنہا کر دوگے سردیوں کی راتوں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

ابن سعید — دسمبر 10، 2009 5:42 صبح
ہر بار کی طرح درست تراش خراش کے ساتھ ایک اور لطیف سی غزل۔
کیا کہنے جیا بٹیا!
الف عین — دسمبر 10، 2009 4:52 شام
برائے اصلاح؟؟؟؟ ویسے درست ہے، اور سچ پوچھو تو بہت اچھی ہے۔ بس ایک تبدیلی چاہوں گا اگر کر سکو تو۔۔
جاں! تمہاری سنگت میں کب گمان تھا ہم کو
ایسے تنہا کر دوگے سردیوں کی راتوں میں
دوسرے مصرع میں تنہا کا الف ساقط ہو رہا ہے جو اچھا نہیں لگ رہا۔ اس کی جگہ
یوں اکیلا/اکیلی چھوڑو گے
یا
یوں اکیلا/اکیلی کر دو گے
کیسا رہے گا؟
ثمرینہ جبین — دسمبر 10، 2009 8:29 شام
بہت خوب جی بہت خوب
کیا دہکتی رنگت تھی، کیسا آتشیں لہجہ!
کیا عجیب لذت تھی اسکی تلخ باتوں میں
میرا نام صفحوں سے اب مٹا بھی ڈالو تم
مجھ کو قید رکھو گے کب تلک کتابوں میں!
سید محمد نقوی — دسمبر 10، 2009 10:00 شام
بہت خوب، ماشاءاللہ
بہت اچھی غزل ہے
Imran Niazi — دسمبر 11، 2009 1:54 شام
ماشااللہ بہت ہی خوب غزل لکھی ہے
بہت اچھی لگی مبارکباد قبول کیجیئے
جیا راؤ — دسمبر 11، 2009 5:10 شام
واہ جیا ایسے شگفتہ غزل پڑھ کے اچھا لگا۔۔
بہت پیاری کاوش ہے۔۔۔
شکریہ زہرا۔۔۔۔
آپ کو غزل پسند آئی مجھے بھی اچھا لگا۔۔۔
جیا راؤ — دسمبر 11، 2009 5:13 شام
بہت خوبصورت۔ ۔ ۔واہ
شکریہ جناب۔۔۔۔

جیا راؤ — دسمبر 11، 2009 5:22 شام
واہ کیا خوبصورت غزل ہے۔ مبارک باد قبول کیجیے۔
شکریہ جناب ہمت افزائی کا۔۔۔۔

فاتح — دسمبر 11، 2009 5:25 شام
شکریہ جناب ہمت افزائی۔۔۔۔
میرا نام "ہمت افزائی" نہیں بلکہ "فاتح" ہے

جیا راؤ — دسمبر 11، 2009 5:32 شام
اچھی غزل ہے جیا راؤ، خوب اشعار کہے ہیں آپ نے۔
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
غزل کی پسندیدگی کا شکریہ۔۔۔۔

جیا راؤ — دسمبر 11، 2009 5:35 شام
ہر بار کی طرح درست تراش خراش کے ساتھ ایک اور لطیف سی غزل۔
کیا کہنے جیا بٹیا!
بہت شکریہ جناب۔۔۔ کافی عرصے بعد اپنی غزل پر آپ کا تبصرہ دیکھ کر اچھا لگا۔۔۔۔

جیا راؤ — دسمبر 11، 2009 5:39 شام
برائے اصلاح؟؟؟؟ ویسے درست ہے، اور سچ پوچھو تو بہت اچھی ہے۔ بس ایک تبدیلی چاہوں گا اگر کر سکو تو۔۔
جاں! تمہاری سنگت میں کب گمان تھا ہم کو
ایسے تنہا کر دوگے سردیوں کی راتوں میں
دوسرے مصرع میں تنہا کا الف ساقط ہو رہا ہے جو اچھا نہیں لگ رہا۔ اس کی جگہ
یوں اکیلا/اکیلی چھوڑو گے
یا
یوں اکیلا/اکیلی کر دو گے
کیسا رہے گا؟
اعجاز انکل اصلاح کا بے حد شکریہ۔۔۔۔ غزل میں تبدیلی کر دی ہے۔۔۔

ابن سعید — دسمبر 11، 2009 5:40 شام
بس اسے میرا بڑھاپا کہہ لیں کہ جیا بٹیا کی کوئی غزل عرصہ سے دکھی ہی نہیں۔
جیا راؤ — دسمبر 11، 2009 5:45 شام
بہت خوب جی بہت خوب
کیا دہکتی رنگت تھی، کیسا آتشیں لہجہ!
کیا عجیب لذت تھی اسکی تلخ باتوں میں
میرا نام صفحوں سے اب مٹا بھی ڈالو تم
مجھ کو قید رکھو گے کب تلک کتابوں میں!
حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ ثمرینہ۔۔۔۔

جیا راؤ — دسمبر 11، 2009 5:50 شام