جیا راؤ — ستمبر 23، 2008 2:53 صبح
تیرا رستہ دیکھتے اپنے دن گنتی، اعداد بنے
پہلے ہم نے ہجر گزارا شاعر اﹸس کے بعد بنےتتلی، جگنو، چاند، ستارے، برکھا، جھرنے اور گلاب
پہلے یہ سب دوست تھے میرے لیکن اب تو یاد بنےوہ یہ چاہے مجھ کو ساری فکروں سے آزاد کرے
میں یہ چاہوں قید کرے اور میرا وہ صیاد بنےہوا ہے شاید ہر مکتب میں عشق کا پڑھنا لازم اب
ہر لڑکی شیریں کہلائے، ہر لڑکا فرہاد بنےمجھ کو جب سمجھاتا ہے دل، کمسن بچہ لگتا ہے
خود کو ہی شاگرد کرے جو اپنا ہی استاد بنےغم سہہ کر بھی غزلیں اپنی چڑیوں کی چہکاریں ہیں
جیا ! بتاو شعر ہمارے کب نالہ، فریاد بنےلیجئیے مغل جی اس بار ہم نے غزل اصلاح سخن میں پوسٹ کی ہے ﴿اسپتال کے بجائے۔۔۔
﴾
شمشاد — ستمبر 23، 2008 3:13 صبح
وہ یہ چاہے مجھ کو ساری فکروں سے آزاد کرے
میں یہ چاہوں قید کرے اور میرا وہ صیاد بنے
واہ جیا جی واہ، کیا خوب کلام ہے۔
فیصل عظیم فیصل — ستمبر 23، 2008 3:39 صبح
بہت خوب اللہ آپ کو مزید سے مزید تر کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔آمین
زھرا علوی — ستمبر 23، 2008 5:11 صبح
بہت خوب جیا !
بہت اچھی غزل ہے۔۔۔

عمار ابن ضیا — ستمبر 23، 2008 5:21 صبح
مجھ کو جب سمجھاتا ہے دل، کمسن بچہ لگتا ہے
خود کو ہی شاگرد کرے جو اپنا ہی استاد بنے
دلچسپ۔ بہت اعلی۔
مغزل — ستمبر 23، 2008 6:29 صبح
لیجئیے مغل جی اس بار ہم نے غزل اصلاح سخن میں پوسٹ کی ہے ۔۔اسپتال کے بجائے۔۔۔
شکریہ آپ نے اس بیمارِ سخن کی بات رکھ لی

غزل پر تو بات ہوگی ۔۔ اس قدر تبدیلی ۔۔ ماشا اللہ ۔
عمار ابن ضیا — ستمبر 23، 2008 9:32 صبح
لیکن میں اس بارے میں کنفیوژ ہوں کہ فرہاد، فریاد، استاد کے قافیے میں "بعد" بطورِ قافیہ استعمال کرنا کیسا ہے؟
محمد وارث — ستمبر 23، 2008 11:03 صبح
بہت خوب جیا راؤ، بہت اچھی غزل ہے۔ اگر آپ کا نام نہ لکھا ہوتا تو میں اسے ابنِ انشا کی غزل سمجھتا! کیا خوبصورت بحر ہے، کیا اچھے اشعار ہیں۔
عمار کی بات درست ہے، اعداد، فریاد، صیاد، فرہاد کے ساتھ 'بعد' کا قافیہ 'صوتی قافیہ' تو کہلا سکتا ہے وہ بھی ہمارے غلط تلفظ میں (الف اور عین کا تلفظ ہم عموماً ایک سا ہی کرتے ہیں) یعنی ہم 'بعد' کو 'باد' بول جائیں گے لیکن اہلِ زبان (عربی) بعد کو عین کے صحیح مخرج کے ساتھ ہی ادا کرتے ہیں۔
تکنیکی طور پر یہ قافیہ صحیح نہیں ہے۔ ان قافیوں میں 'د' حرفِ روی مقید ہے اور د سے قبل ساکن الف ردفِ اصلی ہے لہذا اب ہر قافیہ میں ردف (یعنی ساکن الف) بھی لانا ہوگا، 'بعد' میں ردفِ اصلی نہیں ہے بلکہ 'قید' ہے (ع) لہذا یہ قافیہ درست نہیں۔
قطع نظر اس قافیہ کے، مجموعی طور پر انتہائی خوبصورت غزل ہے!
جیا راؤ — ستمبر 24، 2008 4:33 شام
وہ یہ چاہے مجھ کو ساری فکروں سے آزاد کرے
میں یہ چاہوں قید کرے اور میرا وہ صیاد بنے
واہ جیا جی واہ، کیا خوب کلام ہے۔
غزل پسند کرنے کا شکریہ شمشاد جی 
جیا راؤ — ستمبر 24، 2008 4:34 شام
بہت خوب اللہ آپ کو مزید سے مزید تر کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔آمین
شکریہ جناب۔۔۔۔ 
جیا راؤ — ستمبر 24، 2008 4:36 شام
جیا راؤ — ستمبر 24، 2008 4:37 شام
شکریہ عمار 
جیا راؤ — ستمبر 24، 2008 4:39 شام
جیا راؤ — ستمبر 24، 2008 4:40 شام
لیکن میں اس بارے میں کنفیوژ ہوں کہ فرہاد، فریاد، استاد کے قافیے میں "بعد" بطورِ قافیہ استعمال کرنا کیسا ہے؟
ہمممم۔۔۔ اس پر تو ہم نے غور ہی نہیں کیا تھا۔۔۔۔توجہ کا شکریہ 
جیا راؤ — ستمبر 24، 2008 4:44 شام
جیا راؤ — ستمبر 24، 2008 4:45 شام
اعجاز انکل کہاں ہیں؟؟ 

الف عین — ستمبر 24، 2008 6:16 شام
حاضر ہوں جیا۔۔۔ در اصل دفتر میں ادھر دس دن سے انٹر نیٹ غائب ہے، کل رات کے بعد آج گھر پر ہی دیکھ رہا ہوں۔
اور کیوں کہ اس عرصے میں تمہاری ملیر میں بھی کافی پانی بہہ گیا ہے، اس لئے کچھ وقفے کے بعد اس پر غور کرتا ہوں۔ ’بعد‘ کے قافئے پر گفتگو ہو ہی چکی ہے۔ باقی کوئی غلطی فوراً تو نظر نہیں آئی ہے لیکن بہتری کی گنجائش تو غالب کئ کلام میں بھی کہی جا سکتی ہے!!
لو۔ تعریف تو کرنا ہی بھول گیا۔۔ اچھے اشعار نکالے ہیں تم نے۔
ایم اے راجا — ستمبر 24، 2008 6:37 شام
بہت کوب جیا صاحبہ بہت اچھی غزل کہی ہے، مگر بعد نکالنے کے بعد مطلع کا حسن ختم ہو جائے گا، اسی میں مصرع کو درست قافیہ کے ساتھ سیٹ کریں، یقینن خاصہ مشکل ہو گا، مگر کیونکہ مطلع ہمیں بہت پسند آیا سو گزارش کی، باقی آپکی مرضی۔شکریہ۔
محمداحمد — ستمبر 27، 2008 11:06 صبح
جیا صاحبہ
بہت عمدہ اور رواں غزل ہے ۔ یہ بحر اپنی نغمگی کی بنا پر مجھے بہت پسند ہے اور آپ نے اسے خوب نبھایا ہے۔ اس غزل کو پڑھ کر آپ کی وہ غزل یاد آئی جس میں آپ نے خوب شرطیں باندھیں تھیں۔ اس غزل کے مضامین بالکل اُس کے برخلاف ہیں۔ ایسا کیا انقلاب آگیا دو چار دن میں۔ بتائیے گا ضرور۔
اور ہاں داد دینا تو بھول ہی گیا۔ جی تو وہ کیا کہتے ہیں۔ بہت سی داد پیشِ خدمت ہے قبول کیجے۔
جیا راؤ — اکتوبر 3، 2008 6:42 صبح
حاضر ہوں جیا۔۔۔ در اصل دفتر میں ادھر دس دن سے انٹر نیٹ غائب ہے، کل رات کے بعد آج گھر پر ہی دیکھ رہا ہوں۔
اور کیوں کہ اس عرصے میں تمہاری ملیر میں بھی کافی پانی بہہ گیا ہے، اس لئے کچھ وقفے کے بعد اس پر غور کرتا ہوں۔ ’بعد‘ کے قافئے پر گفتگو ہو ہی چکی ہے۔ باقی کوئی غلطی فوراً تو نظر نہیں آئی ہے لیکن بہتری کی گنجائش تو غالب کئ کلام میں بھی کہی جا سکتی ہے!!
لو۔ تعریف تو کرنا ہی بھول گیا۔۔ اچھے اشعار نکالے ہیں تم نے۔
شکریہ اعجاز انکل۔۔۔ 
