بہت کوب جیا صاحبہ بہت اچھی غزل کہی ہے، مگر بعد نکالنے کے بعد مطلع کا حسن ختم ہو جائے گا، اسی میں مصرع کو درست قافیہ کے ساتھ سیٹ کریں، یقینن خاصہ مشکل ہو گا، مگر کیونکہ مطلع ہمیں بہت پسند آیا سو گزارش کی، باقی آپکی مرضی۔شکریہ۔
جیا صاحبہ بہت عمدہ اور رواں غزل ہے ۔ یہ بحر اپنی نغمگی کی بنا پر مجھے بہت پسند ہے اور آپ نے اسے خوب نبھایا ہے۔ اس غزل کو پڑھ کر آپ کی وہ غزل یاد آئی جس میں آپ نے خوب شرطیں باندھیں تھیں۔ اس غزل کے مضامین بالکل اُس کے برخلاف ہیں۔ ایسا کیا انقلاب آگیا دو چار دن میں۔ بتائیے گا ضرور۔ اور ہاں داد دینا تو بھول ہی گیا۔ جی تو وہ کیا کہتے ہیں۔ بہت سی داد پیشِ خدمت ہے قبول کیجے۔
مگر آپ تو بڑی تیزی سے 'ماہر' ہونے کو ہیں !! لڑکے بھی کبھی پیارے ہوئے ہیں بھلا ! (اففف۔۔۔ کہیں 'حقوقِ مرداں' والے نہ آ جائیں۔۔ ) غزل کی پسندیدگی کا شکریہ
مگر آپ تو بڑی تیزی سے 'ماہر' ہونے کو ہیں !! لڑکے بھی کبھی پیارے ہوئے ہیں بھلا ! (اففف۔۔۔ کہیں 'حقوقِ مرداں' والے نہ آ جائیں۔۔ ) غزل کی پسندیدگی کا شکریہ
جس ماہر پن کی بات آپ کر رہی ہیں ........اس میں تو آپ اور ہم برابرا ہیں ........دیکھ لیں پوسٹیں ......اب دیکھیے کون پھرتیلا ہے: ہاں کیوں نہیں ماں باپ کو لڑکے بڑے ہی پیارے ہوتے ہیں .........
جس ماہر پن کی بات آپ کر رہی ہیں ........اس میں تو آپ اور ہم برابرا ہیں ........دیکھ لیں پوسٹیں ......اب دیکھیے کون پھرتیلا ہے: ہاں کیوں نہیں ماں باپ کو لڑکے بڑے ہی پیارے ہوتے ہیں .........
ساری جیا، بھول گیا تھا کہ اس پر بھی کچھ کہنا تھا مجھے۔
صوتی قوافی کا چلن آج کل بڑھ گیا ہے اور اب مجبورآ اسے قبول کر ہی لینا چاہیے۔
درست تلفظ چاہے عربی میں مختلف ہو۔ فراز کی مثال کی وجہ سے کہ رہا ہوں۔
اس غزل میں جس ک زمین صحرا رکھے، پیاسا رکھے، اس میں مصرع ہے
اے مری جان کے دشمن تجھےاللہ رکھے۔ اللہ کا تلفظ بھی الاٌّ نہیں، اور یہ بگاڑ تو جوکھم بھرا تھا۔۔۔
البہ: اس کی تفہیم نہئں ہو رہی:
غم سہہ کر بھی غزلیں اپنی چڑیوں کی چہکاریں ہیں
جیا ! بتاو شعر ہمارے کب نالہ، فریاد بنے
اگر اسے یوں کہو تو:
غم سہہ کر بھی غزلیں کیا ہیں، چڑیوں کی چہکاریں ہیں
جیا ! بتاو شعر ہمارے کب نالہ، فریاد بنے
یوں اصلاح کی ضرورت تو اور نظر نہیں آ رہی۔ بلکہ اس مقطع میں بھی،۔
ساری جیا، بھول گیا تھا کہ اس پر بھی کچھ کہنا تھا مجھے۔
صوتی قوافی کا چلن آج کل بڑھ گیا ہے اور اب مجبورآ اسے قبول کر ہی لینا چاہیے۔
درست تلفظ چاہے عربی میں مختلف ہو۔ فراز کی مثال کی وجہ سے کہ رہا ہوں۔
اس غزل میں جس ک زمین صحرا رکھے، پیاسا رکھے، اس میں مصرع ہے
اے مری جان کے دشمن تجھےاللہ رکھے۔ اللہ کا تلفظ بھی الاٌّ نہیں، اور یہ بگاڑ تو جوکھم بھرا تھا۔۔۔
البہ: اس کی تفہیم نہئں ہو رہی:
غم سہہ کر بھی غزلیں اپنی چڑیوں کی چہکاریں ہیں
جیا ! بتاو شعر ہمارے کب نالہ، فریاد بنے
اگر اسے یوں کہو تو:
غم سہہ کر بھی غزلیں کیا ہیں، چڑیوں کی چہکاریں ہیں
جیا ! بتاو شعر ہمارے کب نالہ، فریاد بنے
یوں اصلاح کی ضرورت تو اور نظر نہیں آ رہی۔ بلکہ اس مقطع میں بھی،۔
میری نظر میں اتنی طاقت ہوتی تو عینک کیوں لگا تا .......... اچھا اب بتاو گی یا نہیں .........اب کیا بہانہ چلے گا...دیکھتے ہیں .........یا کم عیدی ملی ہے اس وجہ سے شرما رہی ہیں آپ.......
فاتح — اکتوبر 3، 2008 3:57 شام
واہ! واہ! واہ! سبحان اللہ! انتہائی خوبصورت غزل ہے خصوصآ ذیل کے اشعار:
تتلی، جگنو، چاند، ستارے، برکھا، جھرنے اور گلاب پہلے یہ سب دوست تھے میرے لیکن اب تو یاد بنے وہ یہ چاہے مجھ کو ساری فکروں سے آزاد کرے میں یہ چاہوں قید کرے اور میرا وہ صیاد بنے مجھ کو جب سمجھاتا ہے دل، کمسن بچہ لگتا ہے خود کو ہی شاگرد کرے جو اپنا ہی استاد بنے
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ "بعد" کے متعلق ہماری رائے عمار اور وارث صاحبان سے یقینآ مختلف ہوتی اگر۔۔۔ یہ قافیہ ہم نے استعمال کیا ہوتا۔۔۔ کیونکہ 'مستند ہے میرا فرمایا ہوا'
البہ: اس کی تفہیم نہئں ہو رہی:
غم سہہ کر بھی غزلیں اپنی چڑیوں کی چہکاریں ہیں
جیا ! بتاو شعر ہمارے کب نالہ، فریاد بنے
اگر اسے یوں کہو تو:
غم سہہ کر بھی غزلیں کیا ہیں، چڑیوں کی چہکاریں ہیں
جیا ! بتاو شعر ہمارے کب نالہ، فریاد بنے
اعجاز صاحب! میرے خیال میں تو خاصا واضح مضمون ہے کہ چہکار تو خوشی کا اظہار ہوا کرتی ہے لیکن ہنوز ہماری غزلیں اس قدر غم سہنے کے باوجود چہکاروں کے ہی مماثل ہیں۔
آپ کیا کہتے ہیں؟
صوتی قوافی کا چلن آج کل بڑھ گیا ہے اور اب مجبورآ اسے قبول کر ہی لینا چاہیے۔
درست تلفظ چاہے عربی میں مختلف ہو۔ فراز کی مثال کی وجہ سے کہ رہا ہوں۔
اس غزل میں جس ک زمین صحرا رکھے، پیاسا رکھے، اس میں مصرع ہے
اے مری جان کے دشمن تجھےاللہ رکھے۔ اللہ کا تلفظ بھی الاٌّ نہیں، اور یہ بگاڑ تو جوکھم بھرا تھا۔۔۔
اللہ کے وزن کے متعلق آپ نے صحیح کہا اعجاز صاحب، اسکا صحیح وزن مفعول ہے لیکن اس کی ہ گرا کر اس کو فعلن باندھنے کی مثالوں سے تو فارسی اردو شاعری بھری پڑی ہے۔ جہاں تک عربی تلفظ کا تعلق ہے تو برصغیر کے باسیوں کا عربی حروف و الفاظ کا تلفظ خواہ کچھ بھی ہو (جیسے اعجاز کا ہندی میں 'اجاج' اور علامہ اقبال کا پنجابی میں ' لامہ کَبال' ) وہ جب لکھیں جائیں گے یا ان کا وزن معین ہوگا تو اصلی املا اور تلفظ پر ہی۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک شعراء کو "ع" اور "ح" گرانے کی اجازت نہیں چاہے وہ اسکا تلفظ "الف" اور "ہ" ہی کرتے ہوں۔ صوتی قافیے کا چلن واقعی عام ہو گیا ہے جیسے ابھی ہم نے ظفر اقبال کی ایک غزل میں بھی دیکھا تھا۔ اردو شاعری میں صوتی قافیے کو اب، بہ امرِ مجبوری، اپنایا چا رہا ہے اور اتنی رعایت شاید دے بھی دینی چاہیئے، لیکن اسکے ساتھ کیا "کہ" اور "نہ" کو ایک سببِ خفیف ماننے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے!
اردو شاعری میں صوتی قافیے کو اب، بہ امرِ مجبوری، اپنایا چا رہا ہے اور اتنی رعایت شاید دے بھی دینی چاہیئے، لیکن اسکے ساتھ کیا "کہ" اور "نہ" کو ایک سببِ خفیف ماننے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے!
وارث صاحب! جس قدر شد و مد کے ساتھ ہم نہ اور کہ کے بطور سبب خفیف استعمال کے حق میں دلائل پیش کر رہے ہیں۔۔۔ شاید کچھ دن میں اعجاز صاحب کو اسے سبب خفیف تو کیا بلکہ وتد یا فاصلہ بھی ماننا پڑ جائے۔
(ویسے میں نے بھی اس بدنام زمانہ نظم "نفرت" میں ایک دو جگہ نہ اور کہ کو بطور فع استعمال کیا ہے)
الف عین — اکتوبر 4، 2008 4:37 شام
اس معاملے میں نہ جانے کیوں دل گوارا نہیں کرتا کہ نہ اور ’کہ‘ کا اس طرح تلفظ باندھا جائے۔اور اگر باندھا بھی جائے تو اسے ’نا‘ ہی لکھیں نا۔۔ اور کہیں کہیں فارسی الفاظ کے ساتھ ہو تو ’نے‘ کتنا مترنم لفظ ہے، غالب نے بہت استعمال کیا ہے۔۔ نے ہاتھ باگ پر ہے۔۔۔ اور یہاں تو فارسی الفاظ بھی نہیں۔ ’نا ہاتباگ پر ہے‘ بھی کہا جارتا تو درست مانا جا سکتا تھا۔
الف عین — اکتوبر 4، 2008 4:39 شام
ہاں جیا۔۔ مطلع چلنے دو اور مقطع میں بھی بات واضح تو ہوتی ہے، لیکن مجھے یوں لگا کہ جس طرح میں نے ترمیم کی ہے، اس سے بات زیادہ واضح ہوتی ہے۔