تیری محفل میں ہم گنگناتے رہے۔۔۔غزل برائے اصلاح

نوید خان — جولائی 19، 2016 5:29 شام
تیری محفل میں ہم گنگناتے رہے​
بے سبب بے وجہ مسکراتے رہے​

دل تھا مانوس اس کی ہی باتوں سے سو​
شعر کہتے رہے دل دکھاتے رہے​

ہجر کی رات اپنی ہی تنہائی کو​
درد کی داستاں ہم سناتے رہے​

جن کو آنے کی جلدی تھی اس دیس میں​
وہ پڑے راہ میں سنگ کھاتے رہے​

چاند تاروں سے تھی جس کو تشبیہ دی​
وصل کی رات وہ جھلملاتے رہے​

تھا بڑا ذوق احمد کو اس پار کا​
غم کے دریا میں برسوں نہاتے رہے​

نوید احمد​
حسن محمود جماعتی — جولائی 19، 2016 5:33 شام
بھیا خوب کہا ہے۔ اچھی کاوش۔ اصلاح تو خیر اساتذہ کریں گے۔ ہمیں تو انداز اور بیان اچھا لگا۔
نو وار ہیں اس محفل پہ آپ شاید۔ یہاں نئی لڑی دے کر اپنا تعارف دے دیں۔
محمدابوعبداللہ — جولائی 19، 2016 5:36 شام
بھیا خوب کہا ہے۔ اچھی کاوش۔ اصلاح تو خیر اساتذہ کریں گے۔ ہمیں تو انداز اور بیان اچھا لگا۔
نو وار ہیں اس محفل پہ آپ شاید۔ یہاں نئی لڑی دے کر اپنا تعارف دے دیں۔
آتے ہی شاعری۔
:shameonyou:
حسن محمود جماعتی — جولائی 19، 2016 5:37 شام
اے بندہ اے بھائی۔۔!! لڑی ویکھ ڈریا ساں پر ناں پڑیا تے جان آئی۔۔۔
نوید خان — جولائی 19، 2016 5:38 شام
پسندیدگی کا شکریہ بھائی۔۔۔محفل میں اندراج تو تھوڑہ عرصہ قبل کیا تھا لیکن ارسال کرنے کا سلسلہ ابھی شروع کیا ہے۔۔۔جی ضرور میں کوشش کرتا ہوں ابھی اپنا تعارف پیش کرنے کے لئے۔
نوید خان — جولائی 19، 2016 5:42 شام
ابو عبداللہ بھائی شاعری تو میں بچپن سے ہی سیکھ رہا ہوں۔۔۔چونکہ یہاں ابھی نیا ہوں اور بہت ساری چیزوں کا معلوم نہیں ہے۔ معذرت اگر کچھ صحیح نہیں ہوا تو۔۔۔
محمدابوعبداللہ — جولائی 19، 2016 5:50 شام
ابو عبداللہ بھائی شاعری تو میں بچپن سے ہی سیکھ رہا ہوں۔۔۔چونکہ یہاں ابھی نیا ہوں اور بہت ساری چیزوں کا معلوم نہیں ہے۔ معذرت اگر کچھ صحیح نہیں ہوا تو۔۔۔
بہت عمدہ لکھا آپ نے کچھ بھی غلط نہیں۔
بس آپ کی آمد پر انگشت بدنداں ہیں۔
نوید خان — جولائی 19، 2016 6:13 شام
بہت عمدہ لکھا آپ نے کچھ بھی غلط نہیں۔
بس آپ کی آمد پر انگشت بدنداں ہیں۔
تعارف لکھ دیا ہے بھائی۔ امید کرتا ہوں آپ کے تحفظات کا ازالہ ہو جائے گا۔
نوید خان — جولائی 19، 2016 6:15 شام
بہت عمدہ لکھا آپ نے کچھ بھی غلط نہیں۔
بس آپ کی آمد پر انگشت بدنداں ہیں۔
پسندیدگی کا بہت شکریہ بھائی۔ اگر کچھ صحیح نہ ہو تو برائے کرم رہنمائی فرما دیا کریں۔ آپ کے تعاون کا طلب گار ہوں۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 19، 2016 6:22 شام
تعارف لکھ دیا ہے بھائی۔ امید کرتا ہوں آپ کے تحفظات کا ازالہ ہو جائے گا۔
بے فکر رہیں. ہمارے بھائی کو کچھ عرصہ پہلے شاک لگا تھا،ابھی تک اس سے باہر نہیں آئے ہیں. :)
اپنی کاوشات پیش کرتے رہئے. اساتذہ رہنمائی فرمائیں گے ان شاء اللہ
محمدابوعبداللہ — جولائی 19، 2016 6:25 شام
بے فکر رہیں. ہمارے بھائی کو کچھ عرصہ پہلے شاک لگا تھا،ابھی تک اس سے باہر نہیں آئے ہیں. :)
اپنی کاوشات پیش کرتے رہئے. اساتذہ رہنمائی فرمائیں گے ان شاء اللہ
:rollingonthefloor::rollingonthefloor:
نوید خان — جولائی 19، 2016 6:27 شام
بے فکر رہیں. ہمارے بھائی کو کچھ عرصہ پہلے شاک لگا تھا،ابھی تک اس سے باہر نہیں آئے ہیں. :)
اپنی کاوشات پیش کرتے رہئے. اساتذہ رہنمائی فرمائیں گے ان شاء اللہ
آپ کی حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ بھائی۔ جزاک اللہ خیر۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 19، 2016 7:06 شام
عمدہ کاوش ہے،بہت خوب
تفصیلی طور پر تو اساتذہ ہی دیکھیں گے. ایک دو باتیں
بے سبب بے وجہ مسکراتے رہے
وجہ کے اعراب وَجْہ ہیں وَجَہ نہیں.
دل تھا مانوس اس کی ہی باتوں سے سو
یہاں غالباً عیبِ تنافر ہے. الفاظ کی نشست بدلنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا.
نوید خان — جولائی 19، 2016 8:25 شام
عمدہ کاوش ہے،بہت خوب
تفصیلی طور پر تو اساتذہ ہی دیکھیں گے. ایک دو باتیں
وجہ کے اعراب وَجْہ ہیں وَجَہ نہیں.
یہاں غالباً عیبِ تنافر ہے. الفاظ کی نشست بدلنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا.
اصلاح کے لئے بے حد مشکور ہوں۔ ایک مختصر سی رہنمائی درکار ہے کہ لغت میں وجہ کے اعراب وَجْہ کے علاوہ متغیرات میں وَجَہ بھی بیان کئے گئے ہیں۔ کیا ان کا استعمال جائز نہیں؟
سید عقیل شاہ صاحب کی صاحب کی ایک غزل میں کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔
وہی بے وجہ سی اداسیاں کبھی وحشتیں ترے شہر میں
تُو گیا تو مجھ سے بچھڑ گئیں سبھی رونقیں ترے شہر میں
اس میں وجہ کے اعراب جو مجھ ناقص العقل کو سمجھ میں آئے ہیں وَجَہ (فَعَل) ہیں۔ آپ کی رہنمائی کا منتظر ہوں۔
دل تھا مانوس اس کی ہی باتوں سے سو
اس مصرعے کو اگر یوں لکھا جائے تو آپ کی نظر میں کیسا رہے گا۔
اس کی باتوں سے مانوس تھا دل مِرا
آپ نے بہت خوب نشاندہی کی ہے۔ آپ کی نشاندہی اور رہنمائی کا تہ دل سے مشکور ہوں اور امید کرتا ہوں آپ آئندہ بھی اسی طرح رہنمائی کرتے رہیں گے۔
جزاک اللہ خیر۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 19، 2016 10:39 شام
جی. وجہ پر اساتذہ کی رائے کا انتظار کر لیتے ہیں.
اس کی باتوں سے مانوس تھا دل
دل دوسرے مصرع میں بھی ہے. تکرار مناسب نہیں.
محض الفاظ کی نشست بدلنے سے ہی مصرع درست ہو سکتا ہے. مثلاً
دل تھا مانوس باتوں سے اس کی ہی سو
یا کوئی اور ترتیب جو مناسب لگے.
اس پر بھی اساتذہ کی رائے دیکھ لیتے ہیں. :)
ان کہی — جولائی 19، 2016 11:17 شام
بہت خوب ،اچھی کاوش................!!
نوید خان — جولائی 20، 2016 5:55 صبح
جی. وجہ پر اساتذہ کی رائے کا انتظار کر لیتے ہیں.
دل دوسرے مصرع میں بھی ہے. تکرار مناسب نہیں.
محض الفاظ کی نشست بدلنے سے ہی مصرع درست ہو سکتا ہے. مثلاً
دل تھا مانوس باتوں سے اس کی ہی سو
یا کوئی اور ترتیب جو مناسب لگے.
اس پر بھی اساتذہ کی رائے دیکھ لیتے ہیں. :)
آپ کی بتائی ہوئی ترتیب زیادہ موزوں ہے اس لئے تدوین کر رہا ہوں۔ اصلاح اور رہنمائی کے لئے بے حد مشکور ہوں۔
نوید خان — جولائی 20، 2016 5:57 صبح
بہت خوب ،اچھی کاوش................!!
پسندیدگی کے لئے بہت شکریہ بھائی۔
فاخر رضا — جولائی 20، 2016 6:04 صبح
آپ لکھتے رہیں. بہت اچھا لگا
La Alma — جولائی 20، 2016 6:04 صبح
اچھی کوشش ہے .
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%85-%DA%AF%D9%86%DA%AF%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%92-%D8%B1%DB%81%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.91038/