استادِ محترم تابش صدیقی کی رہنمائی کے مطابق دوسرے شعر کے پہلے مصرعے میں عیبِ تنافر ہے جس سے بچنے کے لئے ان کی تجویز و اصلاح کے مطابق تبدیل کرنے کے بعد غزل کچھ اس طرح ہے۔
تیری محفل میں ہم گنگناتے رہے
بے سبب بے وجہ مسکراتے رہے
دل تھا مانوس باتوں سے اس کی ہی سو
شعر کہتے رہے دل دکھاتے رہے
ہجر کی رات اپنی ہی تنہائی کو
درد کی داستاں ہم سناتے رہے
جن کو آنے کی جلدی تھی اس دیس میں
وہ پڑے راہ میں سنگ کھاتے رہے
چاند تاروں سے تھی جس کو تشبیہ دی
وصل کی رات وہ جھلملاتے رہے
تھا بڑا ذوق احمد کو اس پار کا
غم کے دریا میں برسوں نہاتے رہے
اساتذہ سے اس تبدیلی پر نظرِ ثانی اور غزل میں مزید اصلاح و رہنمائی درکار ہے۔ جس کے لئے بندہِ ناچیز انتہائی ممنون رہے گا۔