تیرے نزدیک آئے جاتے ہیں۔۔۔ بن پیے لڑکھڑائے جاتے ہیں۔۔۔

نور وجدان — فروری 3، 2016 8:35 صبح
کچھ پئے دید کوہ طور چڑھے
بعض سُولی چڑھائے جاتے ہیں

جہاں تک میں سمجھی یہ جذباتی وابستگی کا اظہار ہے ۔۔۔۔۔ اس میں دو تمثیل یا تلمیحات جو تضاد رکھتی ہیں باقی کے اشعار سے کیا اللہ کی محبت یا جلوہ کسی مجازی جذباتی وابستگی کے اظہار کے لیے جائز ہے ؟ یہ اپنے علم میں اضافے کے لیے پوچھ رہی ۔۔۔۔۔۔کہ انا الحق کہنے والے منصور اور کوہ طور براہ راست اللہ کی طرف لے جاتے ہیں ۔۔باقی اشعار مجاز کے ہیں ۔۔۔
ابن رضا — فروری 3، 2016 9:48 صبح
جہاں تک میں سمجھی یہ جذباتی وابستگی کا اظہار ہے ۔۔۔۔۔ اس میں دو تمثیل یا تلمیحات جو تضاد رکھتی ہیں باقی کے اشعار سے کیا اللہ کی محبت یا جلوہ کسی مجازی جذباتی وابستگی کے اظہار کے لیے جائز ہے ؟ یہ اپنے علم میں اضافے کے لیے پوچھ رہی ۔۔۔۔۔۔کہ انا الحق کہنے والے منصور اور کوہ طور براہ راست اللہ کی طرف لے جاتے ہیں ۔۔باقی اشعار مجاز کے ہیں ۔۔۔
میرا اشارہ فقط پہلے مصرعے کی نثری شکل کہ طرف ہے کہ "پیے دید" یعنی دید پی کر کوہ طور چڑھے مطلب واضح نہیں
محمد تابش صدیقی — فروری 3، 2016 10:15 صبح
میرا اشارہ فقط پہلے مصرعے کی نثری شکل کہ طرف ہے کہ "پیے دید" یعنی دید پی کر کوہ طور چڑھے مطلب واضح نہیں
یہ پَئے دید لکھا ہے۔ پ پر زبر ہے۔ :)
الشفاء — فروری 3، 2016 11:08 صبح
ذرہ نوازی کے لئے شکر گزار ہوں، سید صاحب۔۔۔:)
الشفاء — فروری 3، 2016 11:10 صبح
پہلا مصرع بھی واضح نہیں" پیے؟"
میرا اشارہ فقط پہلے مصرعے کی نثری شکل کہ طرف ہے کہ "پیے دید" یعنی دید پی کر کوہ طور چڑھے مطلب واضح نہیں

جی ۔ یہ پئے دید ہے یعنی دیدار کے لئے ۔۔۔:)
ابن رضا — فروری 3، 2016 11:10 صبح
یہ پَئے دید لکھا ہے۔ پ پر زبر ہے۔ :)
بن پیے لڑکھڑا جاتے ہیں
اس شعر میں بھی یہی والا پیے پڑھ گیا تھا:)
الشفاء — فروری 3، 2016 11:17 صبح
دل میں سما گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔واہ ۔۔۔۔ بن پیے لڑکھڑائے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔پینے کے بعد کیا حال ہوگا ۔۔۔۔۔اعلیٰ
بہت شکریہ نور بہنا۔۔۔یقین کریں کہ ہم نے بھی بہت غور کیا لیکن کچھ سمجھ نہیں آیا کہ "حال پینے کے بعد کیا ہوگا" ۔۔۔
خوش رہیں۔۔۔:)
نور وجدان — فروری 3، 2016 11:21 صبح
میرا اشارہ فقط پہلے مصرعے کی نثری شکل کہ طرف ہے کہ "پیے دید" یعنی دید پی کر کوہ طور چڑھے مطلب واضح نہیں
رضا بھائی ۔۔۔۔آپ کی بات اپنی جگہ درست ہے مگر میرا نکتہ اور ہے ۔۔۔۔۔۔۔یہاں پر اپنے محبوب کی طرف اشارہ ہے یقینا وہ سب کے محبوب ہیں مگر مجاز کی حیثیت میں ۔۔۔۔۔۔جبکہ منصور یا طور کا اشارہ تب مستعمل جب ہم اللہ کی طرف اشارہ کرتے یا کوئی اور بات ہے
1۔ پوری منظوم اگر مجاز دکھے اور حقیقت کی تلمیح کا استعمال درست ؟
2۔ مجاز و حقیت کے بین بین ہو منظوم ہو اور ایک براہ راست حقیقت کی جانب اشارہ کرے ۔وہ درست ؟
3آپ کی نثری ترتیب وای بات بھی درست ہے
نور وجدان — فروری 3، 2016 11:22 صبح
بہت شکریہ نور بہنا۔۔۔یقین کریں کہ ہم نے بھی بہت غور کیا لیکن کچھ سمجھ نہیں آیا کہ "حال پینے کے بعد کیا ہوگا" ۔۔۔
خوش رہیں۔۔۔:)
اگر اپ کا اشارہ پینے مراد دید کا ہے تو بعد دید کے کیا ہوگا ۔
الشفاء — فروری 3، 2016 11:23 صبح
جہاں تک میں سمجھی یہ جذباتی وابستگی کا اظہار ہے ۔۔۔۔۔ اس میں دو تمثیل یا تلمیحات جو تضاد رکھتی ہیں باقی کے اشعار سے کیا اللہ کی محبت یا جلوہ کسی مجازی جذباتی وابستگی کے اظہار کے لیے جائز ہے ؟ یہ اپنے علم میں اضافے کے لیے پوچھ رہی ۔۔۔۔۔۔کہ انا الحق کہنے والے منصور اور کوہ طور براہ راست اللہ کی طرف لے جاتے ہیں ۔۔باقی اشعار مجاز کے ہیں ۔۔۔
جی بجا فرمایا۔ اس شعر میں کوہ طور سے موسٰی علیہ السلام اور سولی سے منصور کا ذکر ہی مقصود ہے۔۔۔:)
نور وجدان — فروری 3، 2016 11:25 صبح
جی بجا فرمایا۔ اس شعر میں کوہ طور سے موسٰی علیہ السلام اور سولی سے منصور کا ذکر ہی مقصود ہے۔۔۔:)
آپ اور بھی لکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم منتظر نہیں بلکہ مشتاق ہیں
الشفاء — فروری 3، 2016 11:30 صبح
اگر اپ کا اشارہ پینے مراد دید کا ہے تو بعد دید کے کیا ہوگا ۔
مطلع میں پینے سے مراد پینا ہی ہے اور لڑکھڑانے سے مراد مست ہونا ہے۔۔۔ یعنی جوں جوں ان کے نزدیک ہوتے جا رہے ہیں ، مدہوشی چھاتی جا رہی ہے اور ہم بغیر پیے ہی لڑکھڑا رہے ہیں ، قرب کی مستی کی وجہ سے۔۔۔:)
ابن رضا — فروری 3، 2016 12:01 شام
آپ اور بھی لکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم منتظر نہیں بلکہ مشتاق ہیں
ہائیں :confused3: آپ مشتاق ہیں ؟ میری معلومات کے مطابق تو آپ پر صیغہِ تانیث لاگو ہوتا ہے (نور ایمان) :p:p:p:p
الشفاء — فروری 3، 2016 12:07 شام
آپ اور بھی لکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم منتظر نہیں بلکہ مشتاق ہیں

ذرہ نوازی کے لئے شکر گزار ہوں بہنا ۔۔۔
اصلاح سخن میں ہی چند تک بندیاں پڑی ہیں۔ جن میں سے دو نعتیہ لڑیوں کے لنک آپ کے ذوق کی نذر۔۔۔
میں بھی ہو جاتا ہوں آقا کے ثنا خوانوں میں۔۔۔
جس کی بھی نظر گنبد خضریٰ پہ پڑی ہے۔۔۔
نور وجدان — فروری 3، 2016 12:45 شام
ہائیں :confused3: آپ مشتاق ہیں ؟ میری معلومات کے مطابق تو آپ پر صیغہِ تانیث لاگو ہوتا ہے (نور ایمان) :p:p:p:p
مشتاق کے ساتھ اس لیے تو ہم لگا لیا تھا ۔۔ ورنہ تو خوب پکڑ کرتے
نایاب — فروری 3، 2016 2:45 شام
ان کی زلفوں سے کچھ مہک لے کر
مشک و عنبر بنائے جاتے ہیں

سبحان اللہ
کیا ہی خوب کلام ہے ۔۔۔۔۔
بلاشبہ جن کا ذکر روح تک کو مہکا دے ۔ ان کی زلفوں کی مہک کے سامنے " عود و عنبر " کی مہک پھیکی ۔۔۔۔۔
ان گنت درود وسلام آپ جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پاک پر ۔۔۔۔
اب انہیں سے شفا کی ہے امّید
درد دل جو بڑھائے جاتے ہیں
ایک ان کا ہی در ہے جس پہ شفا
سارے ، اپنے پرائے جاتے ہیں
حق تعالی عرضی قبول فرمائے ۔۔۔۔ آمین
بہت دعائیں
الف عین — فروری 3، 2016 2:50 شام
مبتلائے کے علاوہ باقی کوئی اور قابل اعتراض بات محسوس نہیں ہوئی مجھے۔ یہاں بطور فعل استعمال ہوا ہے، ’مبتلانا‘ کوئی فعل نہیں کہ ’مبتلائے اس سے مشتق بنایا جائے۔ مبتلائے غم میں بطور اسم ہے۔
کچھ پئے دید کوہ طور چڑھے
بعض سُولی چڑھائے جاتے ہیں
کوہ طور ’پر‘ چڑھنا اور اسی طرح سولی ’پر‘ تو لوگ چڑھائے جاتے ہیں لیکن سولی چڑھانا سمجھ میں نہیں آیا۔
ظہیراحمدظہیر — فروری 3، 2016 3:22 شام
تیرے نزدیک آئے جاتے ہیں
بن پیے لڑکھڑائے جاتے ہیں
وہ جو یوں مسکرائے جاتے ہیں
تار دل کے ہلائے جاتے ہیں
آفریں مرحبا وہ آتے ہیں
دل کو تھامو کہ ہائے جاتے ہیں
ان کی زلفوں سے کچھ مہک لے کر
مشک و عنبر بنائے جاتے ہیں
کچھ قیامت میں ان کو دیکھیں گے
کچھ یہیں مبتلائے جاتے ہیں

کچھ پئے دید کوہ طور چڑھے
بعض سُولی چڑھائے جاتے ہیں
ہم سے سن کر وہ ہجر کے قصے
زیر لب مسکرائے جاتے ہیں
اب انہیں سے شفا کی ہے امّید
درد دل جو بڑھائے جاتے ہیں
ایک ان کا ہی در ہے جس پہ شفا
سارے ، اپنے پرائے جاتے ہیں

۔۔۔​

بہت خوب !! کیا اچھی غزل ہے بھائی الشفاء ۔ کئی اچھے اشعار ہیں۔ بہت داد آپ کے لئے ۔ بس ایک دو جگہوں پر کچھ چیزیں کھٹکتی ہیں ۔ انہیں دیکھ لیجئے۔
آفریں مرحبا وہ آتے ہیں
دل کو تھامو کہ ہائے جاتے ہیں
پہلے مصرع میں تقابل ردیفین ہے ۔ بلکہ آتے کی نشست کی وجہ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ مطلع ثانی ہے جبکہ ایسی بات نہیں ہے ۔ یہ مصرع بدل ڈالئے
- مبتلانا کوئی فعل نہیں ہے ۔ اس لئے مبتلائے جانا درست نہیں

کچھ پئے دید کوہ طور چڑھے
بعض سُولی چڑھائے جاتے ہیں

کوہ چڑھنا درست نہیں ہے ۔ کوہ پر چڑھنا درست ہے ۔کچھ اس طرح کی صورت لائیے : کچھ پئے دید طور پر بھی چڑھے ۔ ۔ ۔ ۔ پئے دیدار طور پر چڑھے کچھ ۔ وغیرہ
ایک ان کا ہی در ہے جس پہ شفا
سارے ، اپنے پرائے جاتے ہیں
دوسرے مصرع میں سارے کے بجائے سبھی کا استعمال بہتر اور قرینِ مدعا ہوگا۔
ظہیراحمدظہیر — فروری 3، 2016 3:26 شام
اپنا تبصرہ لکھ کر پوسٹ کیا تو معلوم ہوا کہ اس دوران استادِ محترم اعجاز صاحب نے یہی باتیں لکھ دی ہیں ۔ یقینا ان کی ٹائپ کرنے کی رفتار مجھ سے بہت تیز ہے ۔ :):)
الشفاء — فروری 4، 2016 3:50 صبح
سبحان اللہ
کیا ہی خوب کلام ہے ۔۔۔۔۔
بلاشبہ جن کا ذکر روح تک کو مہکا دے ۔ ان کی زلفوں کی مہک کے سامنے " عود و عنبر " کی مہک پھیکی ۔۔۔۔۔
ان گنت درود وسلام آپ جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پاک پر ۔۔۔۔
حق تعالی عرضی قبول فرمائے ۔۔۔۔ آمین
بہت دعائیں
بہت شکریہ نایاب بھیا۔ اور کیا خوب ترکیب بھی عنایت فرمادی عود و عنبر کی۔۔۔
اللہ عزوجل آپ کو خوش رکھے۔۔۔:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D9%86%D8%B2%D8%AF%DB%8C%DA%A9-%D8%A2%D8%A6%DB%92-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D9%86-%D9%BE%DB%8C%DB%92-%D9%84%DA%91%DA%A9%DA%BE%DA%91%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA%DB%94%DB%94%DB%94.87700/page-2