بجا فرمایا۔۔۔ یہاں ایک تو ابن رضا بھائی نے بوکھلائے تجویز کیا ہے۔۔۔ دوسرا اگر دل و جاں لٹانا یا گنوانا فعل مانا جائے تو کیا اس کو یوں کیا جا سکتا ہے کہ
کچھ فدا ہوں گے ان پہ روزِ حشر
کچھ یہیں دل گنوائے جاتے ہیں۔
یا
کچھ فدا ہوں گے ان پہ روزِ حشر
ہم یہیں جاں لٹائے جاتے ہیں۔۔۔؟
آپ کا مشورہ بہت خوب ہے کہ کچھ پئے دید طور پر بھی چڑھے ۔۔۔ اور سولی چڑھنا تو مستعمل ہے شاید ؟۔۔۔
ذرہ نوازی کے لئے نہایت شکر گزار ہوں۔۔۔