لمبے ہیں مرے سائے اور میں گھٹا ہوا ہوں
ہجرت کی دھول سے میں کتنا اٹا ہوا ہوں مغرب کا ہے لبادہ پر سوچ روئے مشرق
اپنی ہی سرحدوں میں کتنا بٹا ہوا ہوں ترک تعلقات کے وعدے ہیں یوں نبھائے
کچھ وہ ہٹا ہوا ہے کچھ میں ہٹا ہوا ہوں انیس فاروقی - ٹورانٹو کینیڈا سے
یہاں تعلقات کا ت گر رہا ہے۔ گرنا ہی کہتے ہیں شاید مجھے ٹھیک سے علم نہیں۔ ابھی اساتذہ آتے ہی ہوں گے۔ اشعار معنویت کے اعتبار سے بہت عمدہ ہیں۔ اوہ میں خوش آمدید کہنا تو بھول ہی گیا بھائی۔ برادرم انیس فاروقی۔ ہمیں امید ہے کہ محفل میں آپ کا وقت اچھا گزرے گا۔ اور ہم آپ کے علم سے پوری طرح مستفید ہو سکیں گے۔ تعارف کے زمرے میں اپنا تعارف تو کرائیں۔
انیس فاروقی — مارچ 31، 2009 5:16 شام
تعارف خادم گزشتہ پندرہ برس سے کینیڈا میں رہائش پذیر ہے، مینجمنٹ سلسلہ روزگار ہے، ادبی مجلوں میں ادبی کاوشیں، اور ہفت روزہ اخبارات میں کالمی شرارتیں شغل ہیں، رائٹرز فورم کینیڈا میں سرگرم حصہ لینے کی بھرپور سی کوشش رہتی ہے، وغیرہ وغیرہ، شاعری بچپن سے ہی چل رہی ہے لیکن ہمیشہ وزن دھوکہ دے دیتا ہے جبکہ تکنیکی اعتبار سے بھی شرمندگی سے بچنے کے لئے اساتذہ کا ہی سہارہ عزت بچا لیتا ہے۔ باقی تفصیل پھر کبھی، امید ہے کہ یہاں ہمت افزائی ملے گی ۔ والسلام انیس فاروقی
الف عین — مارچ 31، 2009 6:10 شام
اس کے علاوہ مطلع میں ’میرے‘ بحر میں آتا ہے، لمبے ہیں میرے سائے۔
تعلقات کا ت کا گرنا سعود نے بتا ہی دیا ہے۔ معنویت کے لحاظ سے اچھے اشعار ہیں۔ بلکہ موزونیت بھی خاصی ہے۔ بس ذرا ایک آدھ لفظ تو کبھی کبھی کہنہ مشق بھی گڑبڑ کر دیتے ہیں۔
تعلقات والا مصرع ہی بدل دیں، یوں بھی موجودہ صورت میں تفہیم نہیں دے رہا۔
غالبا آپ کا تعلق وائس آف ٹورنٹو سے ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی اپنی آئی ڈی تبدیل کرانے کے لئے درخواست دیں گے۔
محفل میں خوش آمدید تو میں بھی کہنا بھول گیا۔ اب سہی۔۔۔
انیس فاروقی — مارچ 31، 2009 6:22 شام
بہت شکریہ آپ کی عزت افزائی کا، تعلقات والے شعر کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے اس بارے میں ضرور تجویز دیجئے گا، آپ نے صحیح پہچانا وائس آف ٹورونٹو ڈاٹ کام کی نظامت بھی کرنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے ، آئی ڈی تبدیل کرنے والی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں اگر ہو سکے تو وضاحت فرمایئے گا۔ آپ کی توجہ کو ایک مرتبہ پھر سے شکر گزار ہوں۔
ابن سعید — مارچ 31، 2009 6:31 شام
آئی ڈی تبدیل کرنے سے چاچو کی مراد اردو آئی ڈی کی ہوگی۔ یہاں جو لوگ اتفاقاً انگلش میں یوزر نیم بنا لیتے ہیں ور چند دنوں بعد ایڈمنز کو درخواست دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ اکثر ہوتا ہے خود میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔
انیس فاروقی — اپریل 1، 2009 3:53 شام
اچھا جناب احباب کے مشوروںکے بعد غزل اب تبدیل شدہ حالت میں پھر سے پیش خدمت ہے لمبے ہیں میرے سائے اور میں گھٹا ہوا ہوں
ہجرت کی دھول سے میں کتنا اٹا ہوا ہوں مغرب مرا نشیمن لب پہ صدائے مشرق
اپنی ہی سرحدوں میں دیکھو بٹا ہوا ہوں وعدے وفا کے ہم نے اکثر ہیں یوں نبھائے
کچھ وہ ہٹا ہوا ہے ، کچھ میں ہٹا ہوا ہوں مصروفیت میں سے تھوڑا سا وقت نکال کر اعجاز صاحب ذرا توجہ فرما دیجئے تو عنایت ہو گی، اور مزید حوصلہ افزائی بھی آئندہ کے لئے، چونکہ میں نیا ہوں اور مجھے احساس ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سا کلام آپ کے زیر نظر ہوگا اس لئے میں انتظار کروں گا۔ انیس
انیس فاروقی — اپریل 1، 2009 3:59 شام
دوسرے شعر میں یوں بھی سوچا تھا مغرب مرا نشیمن ہونٹوں پہ ساز مشرق کون سا ٹھیک لگ رہا ہے
یا پھر یوں مغرب مرا نشیمن، مشرق ہے دل کی دھڑکن
اپنے ہی جسم و جاں میں کتنا بٹا ہوا ہوں یہاں پر کتنا کے بجائے کچھ اور ہونا چاہیے لیکن سمجھ میں نہیں آرہا کیا لکھوں
نبیل — اپریل 1، 2009 5:15 شام
اگر آئی ڈی تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ دو یوزرز کو یکجا کرنا ہو تو اس کے بارے میں بھی بتا دیں۔
آئی ڈی تبدیل کرنے سے چاچو کی مراد اردو آئی ڈی کی ہوگی۔ یہاں جو لوگ اتفاقاً انگلش میں یوزر نیم بنا لیتے ہیں ور چند دنوں بعد ایڈمنز کو درخواست دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ اکثر ہوتا ہے خود میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔
جی بخوشی، دراصل میری یہ والی آئی ڈی کا پاسورڈ نہیں مل رہا تھا لیکن بعد میں درخواست بھیجنے سے وہ مسئلہ تو حل ہو گیا اس دوران میں نے گھبرا کر دوسری آئی ڈی بنا ڈالی ووٹورونٹو انگریزی میں تو براہ مہربانی دونون کو ایک ہی کر دیجئے یعنی انیس فاروقی یوزر نیم اور پاسورڈ تو خیر وہی رہے گا ۔ شکریہ
الف عین — اپریل 1، 2009 5:59 شام
اوہلو۔۔ یہ تو پرانے رکن نکلے لیکن خاموش رہے تھے اب تک، تین سال بعد اب۔۔۔
اور شاید اسی لئے میرا اصل نام بھی معلوم ہے اور شاید مجھ سے بھی واقف رہے ہوں گے۔ بہر حال۔۔
تعلقات والا شعر تو خود ہی اچھی اصلاح کر لی ہے۔ البتہ اس شعر میں پہلے میں نے صرف بحر و اوزان دیکھے تھے۔ جو درست تھے۔ اب معنویت پر غور کیا ہے تو لگتا ہے کہ مغرب اور مشرق کے لحاظ سے دونوں باتوں میں کچھ تعلق کی ضرورت ہے۔ ایک نشیمن، اور ایک ساز، یا دل کی دھڑکن۔۔ تینوں ممکنہ مصرعے جم نہیں رہے ہیں۔ میں بھی مزید سوچتا ہوں۔
اوہلو۔۔ یہ تو پرانے رکن نکلے لیکن خاموش رہے تھے اب تک، تین سال بعد اب۔۔۔
اور شاید اسی لئے میرا اصل نام بھی معلوم ہے اور شاید مجھ سے بھی واقف رہے ہوں گے۔ بہر حال۔۔
تعلقات والا شعر تو خود ہی اچھی اصلاح کر لی ہے۔ البتہ اس شعر میں پہلے میں نے صرف بحر و اوزان دیکھے تھے۔ جو درست تھے۔ اب معنویت پر غور کیا ہے تو لگتا ہے کہ مغرب اور مشرق کے لحاظ سے دونوں باتوں میں کچھ تعلق کی ضرورت ہے۔ ایک نشیمن، اور ایک ساز، یا دل کی دھڑکن۔۔ تینوں ممکنہ مصرعے جم نہیں رہے ہیں۔ میں بھی مزید سوچتا ہوں۔
دراصل میں شمالی امریکہ میں مقیم ہوں اور دل مرا برصغیر میں ہی رہ گیا ہے اس لئے میں ہزاروں میل کے درمیان بٹ کر رہ گیا ہوں، یہ بات کہنے کے لئے لفظ نہیں مل رہے، آپ کا تجویز کردہ مصرہ ء اول سے تسلی ہوئی ہے اور اس پر مزید غور و خوص کرکے اسے معنویت کے اعتبار سے ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چند مزید اور متبادل فرمائیں تو بہت عنایت ہو جائے گی۔
الف عین — اپریل 2، 2009 6:10 شام
ابھی مطلع کے بارے میں بھی مشورہ دیا تھا وہ کہاں گیا؟