مغرب مرا نشیمن تو مشرق ہے دل کی دھڑکین
اپنے ہی جسم و جاں میں کتنا بٹا ہوا ہوں
ہم اس شعر کے معنی کو یوں خیال کر بیٹھے ۔ ممکن ہے غلط ہو۔
مغرب میں ہے نشیمن ، مشرق میں دل کی دھڑکن
اپنے ہی جسم و جاں میں کتنا بٹا ہوا ہوں
محفل میں ایک بار پھر خوش آمدید انیس فاروقی صاحب۔
آپ تو اپنے ہی قبیلے کے نکلے م کینیڈا کے ایک شمارے کارواں میں میرے کالم شائع ہوتے رہیں
شاید وہیں کہیں آپ کا ذکر بھی رہا ۔ ممکن ہے میں غلطی پر ہوں۔
والسلام