(۴)
سنو بچو! کہ اگلی چودھویں کی رات جب آئی
تو ہر سُو چاند کی روپہلی کرنوں کی ضیا ٔ چھائی
اکیلا نے کہیں جنگل کی اِک اُونچی پہاڑی پر
صدا جنگل کے سارے بھیڑیوں کو دی کھڑے ہوکر
سیَونی جھُنڈ کے سب بھیڑئیے آئے صدا سُن کر
وہ اپنے سارے بچّوں کو بھی لائے آج چُن چُن کر
اکیلا دیکھ کر چیخا، ’’ اے میرے بھیڑیو ! پیارو!‘‘
’’ذرا تُم غور سے دیکھو، او میرے ساتھیو ! یارو!‘‘
بنا کر دائرہ بیٹھے ، درندوں کی وہ مجلس میں
سبھی تھے خون کے پیاسے، سبھی خونخوار تھے جِس میں
’’مگر جنگلی درندوں کا بھی اِک قانون ہوتا ہے‘‘
جو اِس قانون کو توڑے ہمیشہ خود ہی روتا ہے
یہی قانون تھا اُس جھُنڈ کا، بچے وہاں لائیں
کہ یوں پلّے یہ اُن کے، جھُنڈ میں شامِل کیے جائیں
جب اُن کے سامنے بچّے یہ کھیلے، خوش ہوئے سب ہی
مگر انسان کے بچّے کو دیکھا ، چونک اُٹھے سب ہی
یہ انسانوں کا بچّہ ہے ، یہاں کیا کرنے آیا ہے؟
یہ انسانوں کا بچّہ ہے اِسے یاں کون لایا ہے؟
اِسی اثناٗ میں بھُوکے شیر کی آواز یوں آئی
’’ شکاری ہوں ، نوالہ یہ مِرا ہے، مجھ کو دو بھائی!‘‘
تمہی جنگل کے ہو آزاد باسی یہ دِکھادو نا!
تمہیں انسان کے بچے سے کیا مطلب بتادو نا!
یہ سننا تھاکہ وہ چلّائے ہم آواز ہوکر سب
’’ہم اِس جنگل کے باسی ہیں ، ہمیں اِس شے سے کیا مطلب؟‘‘