جیسا بھی ہے ،جہان تیرا ہے

محمد بلال اعظم — جولائی 10، 2012 6:20 صبح
جیسا بھی ہے جہان تیرا ہے
بحر:
بحر خفیف​
اشعار:
جیسا بھی ہے ،جہان تیرا ہے​
دل کہاں ہے ،مکان تیرا ہے​
فصلِ سود و زیاں کہ میری ہے​
فصلِ غم کا لگان تیرا ہے​
وسعتِ نظری اہلِ الفت کی دیکھ​
کیا زمیں، آسمان تیرا ہے​
تھے جو مشکل سوال، سب میرے​
پیش اب امتحان تیرا ہے​
میرے گھر کی گلی کے جو ہے​
سامنے، آستان تیرا ہے​
گھر ہو، مے خانہ ہو کہ محفل ہو​
ہم کو ہر جاء دھیان تیرا ہے​
توڑ دی قیودِ جسم و جاں​
دل کو اب بھی گمان تیرا ہے​
محمد بلال اعظم — جولائی 11، 2012 2:04 شام
مزید چند چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں
جیسا بھی ہے ،جہان تیرا ہے
دل کہاں ہے ،مکان تیرا ہے
فصل سود و زیاں کی میری ہے
فصلِ غم کا لگان تیرا ہے
وسعتِ نظری اہلِ الفت کی دیکھ
کیا زمیں، آسمان تیرا ہے
تھے جو مشکل سوال، سب میرے
پیش اب امتحان تیرا ہے
میرے گھر کی گلی کے جو ہے
سامنے، آستان تیرا ہے
گھر ہو، مے خانہ ہو کہ محفل ہو
ہم کو ہر جاء دھیان تیرا ہے
توڑ دی ہیں قیودِ جسم و جاں
دل کو پھر بھی گمان تیرا ہے
محمد بلال اعظم — جولائی 13، 2012 1:17 شام
ایک تبدیلی اور، مقطع شامل کیا ہے
جیسا بھی ہے ،جہان تیرا ہے
دل کہاں ہے ،مکان تیرا ہے​
فصل سود و زیاں کی میری ہے​
فصلِ غم کا لگان تیرا ہے​
وسعتِ نظری اہلِ الفت کی دیکھ​
کیا زمیں، آسمان تیرا ہے​
تھے جو مشکل سوال، سب میرے​
پیش اب امتحان تیرا ہے​
میرے گھر کی گلی کے جو ہے​
سامنے، آستان تیرا ہے​
گھر ہو، مے خانہ ہو کہ محفل ہو​
ہم کو ہر جاء دھیان تیرا ہے​
توڑ دی ہیں قیودِ جسم و جاں​
دل کو پھر بھی گمان تیرا ہے​
میکدے کو بلال گھر سمجھے
کیسا یہ پاسبان تیرا ہے
احمد بلال — جولائی 16، 2012 7:58 صبح
ایک تبدیلی اور، مقطع شامل کیا ہے
جیسا بھی ہے ،جہان تیرا ہے

دل کہاں ہے ،مکان تیرا ہے​


فصل سود و زیاں کی میری ہے​

فصلِ غم کا لگان تیرا ہے​


وسعتِ نظری اہلِ الفت کی دیکھ​

کیا زمیں، آسمان تیرا ہے​


تھے جو مشکل سوال، سب میرے​

پیش اب امتحان تیرا ہے​


میرے گھر کی گلی کے جو ہے​

سامنے، آستان تیرا ہے​


گھر ہو، مے خانہ ہو کہ محفل ہو​

ہم کو ہر جاء دھیان تیرا ہے​


توڑ دی ہیں قیودِ جسم و جاں​

دل کو پھر بھی گمان تیرا ہے​


میکدے کو بلال گھر سمجھے

کیسا یہ پاسبان تیرا ہے
اچھی غزل ہے۔ کچھ وزن کی غلطیاں ہیں۔ تیسرے شعر کا پہلا مصرع وزن سے گرا ہوا ہے۔ اسی مصرعے میں وسعتِ نظری استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق میرا خیال ہے کہ صحیح لفظ وسعتِ نظر ہوتا ہے۔ اسی طرح پانچویں شعر کے پہلے مصرعے میں بھی وزن کا خلا ہے۔ آخری رکن "فعلن " کو پورا نہیں کیا گیا۔ دوسری بات گلی کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ گھر کے سامنے ہونا زیادہ اچھا خیال ہے۔ اس شعر پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ جا (جگہ) کے آگے ء نہیں آتا۔ یہ شاید ٹائپنگ کی غلطی ہے۔ البتہ مطلع ، چوتھا ، چھٹا اور ساتواں شعر بہت اعلیٰ ہیں ۔
محمد بلال اعظم — جولائی 16، 2012 8:40 صبح
اچھی غزل ہے۔ کچھ وزن کی غلطیاں ہیں۔ تیسرے شعر کا پہلا مصرع وزن سے گرا ہوا ہے۔ اسی مصرعے میں وسعتِ نظری استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق میرا خیال ہے کہ صحیح لفظ وسعتِ نظر ہوتا ہے۔ اسی طرح پانچویں شعر کے پہلے مصرعے میں بھی وزن کا خلا ہے۔ آخری رکن "فعلن " کو پورا نہیں کیا گیا۔ دوسری بات گلی کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ گھر کے سامنے ہونا زیادہ اچھا خیال ہے۔ اس شعر پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ جا (جگہ) کے آگے ء نہیں آتا۔ یہ شاید ٹائپنگ کی غلطی ہے۔ البتہ مطلع ، چوتھا ، چھٹا اور ساتواں شعر بہت اعلیٰ ہیں ۔

واہ بلال صاحب، آپ تو شاعر نکلے، بہت خوشی ہوئی آپ کے بارے میں جان کر۔
وسعتِ نظری والا شعر زیرِ غور ہے، احمد بھائی نے بھی اس کے متعلق کہا تھا،
جا کے متعلق درست فرمایا، ٹائپنگ کی غلطی ہے۔
گلی والا شعر بھی دوبارہ دیکھتے ہیں۔
آپ نے سارے اشعار کا بتا دیا ہے، بس دوسرا رہ گیا ہے، اس کے متعلق بھی کچھ بتائیں۔
اور جو اشعار آپ کو پسند آئے ان کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔
مزید کے لئے جناب استادِ محترم الف عین اور محمد وارث کا انتظار کرتے ہیں۔
احمد بلال — جولائی 16، 2012 10:52 صبح
واہ بلال صاحب، آپ تو شاعر نکلے، بہت خوشی ہوئی آپ کے بارے میں جان کر۔
وسعتِ نظری والا شعر زیرِ غور ہے، احمد بھائی نے بھی اس کے متعلق کہا تھا،
جا کے متعلق درست فرمایا، ٹائپنگ کی غلطی ہے۔
گلی والا شعر بھی دوبارہ دیکھتے ہیں۔
آپ نے سارے اشعار کا بتا دیا ہے، بس دوسرا رہ گیا ہے، اس کے متعلق بھی کچھ بتائیں۔
اور جو اشعار آپ کو پسند آئے ان کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔
مزید کے لئے جناب استادِ محترم الف عین اور محمد وارث کا انتظار کرتے ہیں۔
فصل ِ غم کے لگان کا مفہوم کچھ سمجھ نہیں آیا اس لیے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔
محمد بلال اعظم — جولائی 18، 2012 2:46 شام
چند مزید تبدیلیاں اور مقطع کے دوسرے مصرعے کا ایک متبادل حجاز بھائی نے بھی بتایا ہے۔
جیسا بھی ہے ،جہان تیرا ہے
دل کہاں ہے ،مکان تیرا ہے
فصل سود و زیاں کی میری ہے
فصلِ غم کا لگان تیرا ہے
دیکھ دل والوں کی سخاوت بھی
کیا زمیں، آسمان تیرا ہے
تھے جو مشکل سوال، سب میرے
پیش اب امتحان تیرا ہے
ہم غریبوں کے آستانے کے
سامنے، آستان تیرا ہے
گھر ہو، مے خانہ ہو کہ محفل ہو
ہم کو ہر جاء دھیان تیرا ہے
توڑ دی ہیں قیودِ جسم و جاں
دل کو پھر بھی گمان تیرا ہے
میکدے کو بلال گھر سمجھے
کیسا یہ پاسبان تیرا ہے
یا پھر​
میکدے کو بلال گھر سمجھے​
ساقیا آستان تیرا ہے
محمد بلال اعظم — جولائی 20، 2012 7:21 صبح
جیسا بھی ہے ،جہان تیرا ہے
دل کہاں ہے ،مکان تیرا ہے
فصل سود و زیاں کی میری ہے
فصلِ غم کا لگان تیرا ہے
دیکھ دل والوں کی سخاوت بھی
کیا زمیں، آسمان تیرا ہے
تھے جو مشکل سوال، سب میرے
پیش اب امتحان تیرا ہے
ہم غریبوں کے آستانے کے
سامنے، آستان تیرا ہے
گھر ہو، مے خانہ ہو کہ محفل ہو
ہم کو ہر جاء دھیان تیرا ہے
توڑ دی ہیں قیودِ جسم و جاں
دل کو پھر بھی گمان تیرا ہے
میکدے کو بلال گھر سمجھے
کیسا یہ پاسبان تیرا ہے
یا پھر​
میکدے کو بلال گھر سمجھے​
ساقیا آستان تیرا ہے
یا پھر
میکدے کو بلال گھر سمجھو
ساقی کا خوان تیرا ہے
محمد بلال اعظم — جولائی 20، 2012 8:37 صبح
احمد بلال بھائی وجہ بھی تو بتائیں غیر متفق ہونے کی۔
محمد بلال اعظم — جولائی 21، 2012 10:19 صبح
استادِ محترم الف عین یہ غزل آپ کی توجہ کی منتظر ہے۔
بس کوئی تاریخ ہی بتا دیں تاکہ دلِ نادان کو تسلی ہو جائے۔
الف عین — جولائی 21، 2012 11:03 صبح
آج ہی لو بلکہ ابھی
جیسا بھی ہے ،جہان تیرا ہے
دل کہاں ہے ،مکان تیرا ہے
//یوں بہتر اور رواں ہو گا
جان تیری، جہان تیرا ہے
دل کہاں ہے ،مکان تیرا ہے
فصل سود و زیاں کی میری ہے
فصلِ غم کا لگان تیرا ہے
//درست
دیکھ دل والوں کی سخاوت بھی
کیا زمیں، آسمان تیرا ہے
//شعر مبہم ہے
تھے جو مشکل سوال، سب میرے
پیش اب امتحان تیرا ہے
//درست
ہم غریبوں کے آستانے کے
سامنے، آستان تیرا ہے
//درست
گھر ہو، مے خانہ ہو کہ محفل ہو
ہم کو ہر جاء دھیان تیرا ہے
//دھیان کا تلفظ غلط ہے، یوں کر دو
ہر جگہ ہم کو دھیان تیرا ہے
توڑ دی ہیں قیودِ جسم و جاں
دل کو پھر بھی گمان تیرا ہے
//درست
میکدے کو بلال گھر سمجھے
کیسا یہ پاسبان تیرا ہے
یا پھر
میکدے کو بلال گھر سمجھے
ساقیا آستان تیرا ہے
یا پھر
میکدے کو بلال گھر سمجھو
ساقی کا خوان تیرا ہے
//یہ تینوں ہی شکلیں پسند نہیں آئیں۔
میکدے کو بلال گھر سمجھیں؟
یا کہ یہ آستان تیرا ہے
کچھ بہتر ہے، بہتر ہوتا کہ ساقیا بھی کہیں گھس سکتا!!!
محمد بلال اعظم — جولائی 21، 2012 2:32 شام
آج ہی لو بلکہ ابھی
جیسا بھی ہے ،جہان تیرا ہے
دل کہاں ہے ،مکان تیرا ہے
//یوں بہتر اور رواں ہو گا
جان تیری، جہان تیرا ہے
دل کہاں ہے ،مکان تیرا ہے
واقعی اب بہت بہتر ہے۔
فصل سود و زیاں کی میری ہے
فصلِ غم کا لگان تیرا ہے
//درست
شکریہ
دیکھ دل والوں کی سخاوت بھی
کیا زمیں، آسمان تیرا ہے
//شعر مبہم ہے
میں اس میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ زمین جیسی چھوٹی چیز سے لے کر آسمان جیسی وسیع چیز بھی دل والے لٹا دیتے ہیں مطلب محبت چھوٹی بڑی چیزوں کی پرواہ نہیں کرتی۔
تھے جو مشکل سوال، سب میرے
پیش اب امتحان تیرا ہے
//درست
ہم غریبوں کے آستانے کے
سامنے، آستان تیرا ہے
//درست
شکریہ
گھر ہو، مے خانہ ہو کہ محفل ہو
ہم کو ہر جاء دھیان تیرا ہے
//دھیان کا تلفظ غلط ہے، یوں کر دو
ہر جگہ ہم کو دھیان تیرا ہے
بہت بہتر سر
توڑ دی ہیں قیودِ جسم و جاں
دل کو پھر بھی گمان تیرا ہے
//درست
شکریہ
میکدے کو بلال گھر سمجھے
کیسا یہ پاسبان تیرا ہے
یا پھر
میکدے کو بلال گھر سمجھے
ساقیا آستان تیرا ہے
یا پھر
میکدے کو بلال گھر سمجھو
ساقی کا خوان تیرا ہے
//یہ تینوں ہی شکلیں پسند نہیں آئیں۔
میکدے کو بلال گھر سمجھیں؟
یا کہ یہ آستان تیرا ہے
کچھ بہتر ہے، بہتر ہوتا کہ ساقیا بھی کہیں گھس سکتا!!!
کوشش کرتا ہوں۔
الف عین — جولائی 22، 2012 7:32 صبح
کیا زمیں آسماں تیرا ہے سے یہ کہاں پتہ چلتا ہے کہ دل والے اسے قربان کرنا چاہتے ہیں؟
محمد بلال اعظم — جولائی 22، 2012 8:40 صبح
کیا زمیں آسماں تیرا ہے سے یہ کہاں پتہ چلتا ہے کہ دل والے اسے قربان کرنا چاہتے ہیں؟

جی سر بہت بہتر۔
اس کا کوئی حل سوچتا ہوں ورنہ پھر حذف کر دیتے ہوں۔
احمد بلال — جولائی 23، 2012 6:21 صبح
احمد بلال بھائی وجہ بھی تو بتائیں غیر متفق ہونے کی۔
پہلی آپشن زیادہ ہہتر ہے۔ وزن بھی گرا دیا گیا ہے۔
محمد بلال اعظم — جولائی 23، 2012 6:23 صبح
پہلی آپشن زیادہ ہہتر ہے۔ وزن بھی گرا دیا گیا ہے۔

آپ کا مطلب ہے یہ والا
میکدے کو بلال گھر سمجھے
کیسا یہ پاسبان تیرا ہے؟
احمد بلال — جولائی 23، 2012 6:28 صبح
ساقیا آستان تیرا ہے والا کہا تھا۔ لیکن اب میں نے الف عین کی اصلاح دیکھی ہے۔ ان نے جو فرمایا درست ہے۔ میں تو خود ابھی طفل مکتب ہوں۔
محمد بلال اعظم — جولائی 23، 2012 1:39 شام
مزید تبدیلیاں، اور مقطع کے لئے ایک اور شعر، باقی آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔​
جان تیری، جہان تیرا ہے​
دل کہاں ہے ،مکان تیرا ہے​
فصل سود و زیاں کی میری ہے​
فصلِ غم کا لگان تیرا ہے​
کوئی بھی آسرا نہیں دیتا
کیا زمیں، آسمان تیرا ہے​
تھے جو مشکل سوال، سب میرے​
پیش اب امتحان تیرا ہے​
ہم غریبوں کے آستانے کے​
سامنے، آستان تیرا ہے​
گھر ہو، مے خانہ ہو کہ محفل ہو​
ہر جگہ ہم کو دھیان تیرا ہے​
توڑ دی ہیں قیودِ جسم و جاں​
دل کو پھر بھی گمان تیرا ہے​
میکدے کو بلال گھر سمجھو
ساقی کا آستان تیرا ہے
الف عین — جولائی 24، 2012 8:21 صبح
مقطع اب بھی پسند نہیں آیا، ویسے صیغے کی غلطی تو درست ہو سکتی ہے اس طرح
مے کدے کو بلال گھر ہی سمجھ
لیکن ساقی کا میں ’قِکا‘ اچھا نہیں لگتا۔ ویسے بھی آستان عام طور پر شاعری میں غنہ کے ساتھ ہی مستعمل ہے۔
محمد بلال اعظم — جولائی 24، 2012 8:24 صبح
مقطع اب بھی پسند نہیں آیا، ویسے صیغے کی غلطی تو درست ہو سکتی ہے اس طرح
مے کدے کو بلال گھر ہی سمجھ
لیکن ساقی کا میں ’قِکا‘ اچھا نہیں لگتا۔ ویسے بھی آستان عام طور پر شاعری میں غنہ کے ساتھ ہی مستعمل ہے۔

جی جناب شکریہ۔
کچھ اور سوچتا ہوں اس کا۔اور باقی غزل کا کیا حال ہے۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%8C%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%DB%81%DB%92.52582/