دل ، زخم گنتے گنتے وحشی سا ہو گیا ہے

شوکت پرویز — مئی 25، 2015 7:02 صبح
آپ اشعار کی تقطیع کس طرح کرتی ہیں؟
:)
نور وجدان — مئی 25، 2015 7:07 صبح
خود کرتی ہوں ۔ جہاں تک تقطیع کا علم ہے
شوکت پرویز — مئی 25، 2015 7:12 صبح
جب میں نے گنگنائیں لکھ لکھ کے اس کی یادیں
تخیل میں اُبھرنے چہرہ وہی لگا ہے​
اس کی تقطیع کریں، ممکن ہو تو یہاں پر بتائیں کہ آپ نے تقطیع کس طرح کی۔
نور وجدان — مئی 25، 2015 7:17 صبح
جب میں نے (مفعول) گن گ نا ئی (فاعلاتن) لک لک کے (مفعول) اس ک یا، دی (فاعلاتن(
تخ خی ل (مفعول) میں ا بر نے (فاعلاتن) چہ رہ و ( مفعول) ہی ل گا ہے ( فاعلاتن
شوکت پرویز — مئی 25، 2015 7:25 صبح
تقطیع کا طریقہ تو درست ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے "تخیل" کا تلفظ مفعول باندھا ہے، لیکن اس کا درست وزن فعولن ہے۔
اقبال:
ناپید ترے بحر تخیل کے کنارے
پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے
ادب دوست — مئی 25، 2015 11:17 صبح
تقطیع کا طریقہ تو درست ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے "تخیل" کا تلفظ مفعول باندھا ہے، لیکن اس کا درست وزن فعولن ہے۔
اقبال:
ناپید ترے بحر تخیل کے کنارے
پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے

میرا خیال ہے دونوں تلفظ درست ہیں
تخیّل اور تخیل
ت + خی + ل
ت + خی + یل
مزمل شیخ بسمل — مئی 25، 2015 12:55 شام
میرا خیال ہے دونوں تلفظ درست ہیں
تخیّل اور تخیل
ت + خی + ل
ت + خی + یل

میرے خیال میں تخیل اور تخییل میں لازم اور متعدی کا فرق ہے۔ دونوں کے معانی میں بھی فرق ہے۔ اور شعر کے حوالے سے اصطلاح تخیل بوزن فعولن ہی شاید درست ہے۔
سید عاطف علی — مئی 25، 2015 1:12 شام
میرے خیال میں تخیل اور تخییل میں لازم اور متعدی کا فرق ہے۔ دونوں کے معانی میں بھی فرق ہے۔ اور شعر کے حوالے سے اصطلاح تخیل بوزن فعولن ہی شاید درست ہے۔
درست کہا ۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ عموما اردو میں ایسے الفاظ کا پہلی "ی" کو "ء" سے بدل دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ مثلاً تزئین۔تخئیل۔اس کی اصل شکل تزیین اور تخییل ہی ہے فارسی میں بھی غالبا اصلی شکل میں مستعمل ہیں۔
خیام کے تراجم میں محشر نقوی صاحب نے باندھا ہے کہ
یہ ذہن رسائے انساں کی تخئیل کاہے سب افسانہ۔
مزمل شیخ بسمل — مئی 25، 2015 1:28 شام
درست کہا ۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ عموما اردو میں ایسے الفاظ کا پہلی "ی" کو "ء" سے بدل دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ مثلاً تزئین۔تخئیل۔اس کی اصل شکل تزیین اور تخییل ہی ہے فارسی میں بھی غالبا اصلی شکل میں مستعمل ہیں۔
خیام کے تراجم میں محشر نقوی صاحب نے باندھا ہے کہ
یہ ذہن رسائے انساں کی تخئیل کاہے سب افسانہ۔
جی یہ تو املائی فرق ہے جو عربی سے امتیاز میں لکھا جاتا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں۔ تاہم شعر یا دوسری اصناف کے حوالے سے کوئی مضمون یا منظر کے "خیال میں آنے" کا عمل شاید تخیل ہی ہے جسے ہم محاسنِ سخن میں پڑھتے ہیں۔ اس حوالے سے چند اشعار:
نا پید ترے بحرِ تخیل کے کنارے
پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے
-علامہ اقبال
وہ اس وقت اک پیکرِ نور ہوتی
تخیل کی پرواز سے دور ہوتی
-اسرار الحق مجاز
ابھی ذہن میں تھا یہ روشن تخیل
فضا میں جو اڑتا چلا جا رہا ہے
-کیفی اعظمی
شباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیں
وقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں
-فیض
کم سے کم حسنِ تخیل کا تماشا دیکھتے
جلوۂ یوسف تو کیا خوابِ زلیخا دیکھتے
-اصغر گونڈوی

تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار

-علامہ اقبال
راحیل فاروق — مئی 25، 2015 1:31 شام
اچھے شعر کہتی ہیں آپ۔ باقی اختلافات ہو سکتے ہیں مگر ہمیں تو کلام کی روانی ہی پسند آئی ہے۔ شاید اس میں اصلاح کا دخل ہو۔ داد بہرحال ہم آپ ہی کو دیں گے!
راحیل فاروق — مئی 25، 2015 1:36 شام
شباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیں
وقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں
کیا یاد دلا دیا شیخ صاحب۔ آپ تو ہمیں بھی بسمل بنا ڈالیں گے۔ کیا خوبصورت مثال دی ہے۔
پیالہ گیر کہ مے را حلال می گویند
حدیث اگرچہ ضعیف است راویاں ثقہ اند​
سید عاطف علی — مئی 25، 2015 1:57 شام
جی یہ تو املائی فرق ہے جو عربی سے امتیاز میں لکھا جاتا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں۔ تاہم شعر یا دوسری اصناف کے حوالے سے کوئی مضمون یا منظر کے "خیال میں آنے" کا عمل شاید تخیل ہی ہے جسے ہم محاسنِ سخن میں پڑھتے ہیں۔ اس حوالے سے چند اشعار:
نا پید ترے بحرِ تخیل کے کنارے
پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے
-علامہ اقبال
وہ اس وقت اک پیکرِ نور ہوتی
تخیل کی پرواز سے دور ہوتی
-اسرار الحق مجاز
ابھی ذہن میں تھا یہ روشن تخیل
فضا میں جو اڑتا چلا جا رہا ہے
-کیفی اعظمی
شباب جس سے تخیل پہ بجلیاں برسیں
وقار جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں
-فیض
کم سے کم حسنِ تخیل کا تماشا دیکھتے
جلوۂ یوسف تو کیا خوابِ زلیخا دیکھتے
-اصغر گونڈوی

تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار

-علامہ اقبال
جی ہاں بالکل ۔۔۔۔ میں در اصل تخییل کے بارے میں کہہ رہا تھا ، باقی رہا تخیُّل۔سو وہ تو ہے ہی شعر کی معنوی بنیاد ۔
حامد ڈرائیور — مئی 25، 2015 2:07 شام
دل ، زخم گنتے گنتے وحشی سا ہو گیا ہے
اس زندگی نے مجھ کو اتنا تھکا دیا ہے
میں جس کی جستجو میں پھرتی نگر نگر ہوں
آئینہ بن کے میرا مجھ میں مکیں رہا ہے
بسمل کی مثل بے جاں میں رقص سے ہوئی جب
دیکھا تماشہ سب نے کب آسرا دیا ہے
جاتے ہوئے بھی مڑ کر اس نے مجھے نہ دیکھا
آنسو کوئی نہ ٹپکا بس دل بھرا بھرا ہے
خاموشی میرا مسلک، ماہر وہ گفتگو میں
مشکل سفر کو میں نے اطمیناں سے سہا ہے
تھا قرض جاں پہ اس کی ، وہ واجِبُ الاَدا ہے
میں کیا گلہ کروں اب، وہ دور جا بسا ہے
آوارگی سے اب ہیں سارے ہی ربط دل کے
رنجش سے ہے محبت ، دشمن لگا بھلا ہے
تم روبرو ہوئے جب، ہیں حرف سانس لیتے
یادوں کا باب اک اور ہونے رقم لگا ہے
اےنورؔ کاش ہوتا ذوقِ سُخن اسے بھی
ہر شعر جس کی خاطر برسوں سے جو کہا ہے​
بہت خوب
Mystic Enigma — مئی 25، 2015 2:22 شام
دل ، زخم گنتے گنتے وحشی سا ہو گیا ہے!
اس زندگی نے مجھ کو اتنا تھکا دیا ہے!
تھا قرض جاں پہ اس کی وہ واجِبُ الاَدا ہے!
اب کیا گلہ ہو اس پر جو دور جا بسا ہے!
میں جس کی جستجو میں پھرتی نگر نگر ہوں
آئینہ بن کے میرا مجھ میں مکیں رہا ہے!
خاموشی میرا مسلک، ماہر وہ گفتگو میں
مشکل سفر کو میں نے آرام سے سہا ہے!
رشتے تمام دل کے آوارگی سےنکلے
رنجش سے ہے محبت ، دشمن لگا بھلا ہے
جاتے ہوئے بھی، مڑ کر اس نے مجھے نہ دیکھا
آنسو تو کچھ نہ ٹپکا بس دل بھرا بھرا ہے
بسمل کے رقص کو سب تکنے ضرور ٹھہرے
گِرتوں کو ،اس جہاں نے کب آسرا دیا ہے
جب میں نے گنگنائیں لکھ لکھ کے اس کی یادیں
احساس میں اُبھرنے چہرہ وہی لگا ہے
؛
اےنورؔ کاش ہوتا ذوقِ سُخن اسے بھی
ہر شعر جس کی خاطر مدت تلک کہا ہے​
بہت خوب!
ماہ نوراحمد — مئی 25، 2015 3:01 شام
دل ، زخم گنتے گنتے وحشی سا ہو گیا ہے!
اس زندگی نے مجھ کو اتنا تھکا دیا ہے!
تھا قرض جاں پہ اس کی وہ واجِبُ الاَدا ہے!
اب کیا گلہ ہو اس پر جو دور جا بسا ہے!
میں جس کی جستجو میں پھرتی نگر نگر ہوں
آئینہ بن کے میرا مجھ میں مکیں رہا ہے!
خاموشی میرا مسلک، ماہر وہ گفتگو میں
مشکل سفر کو میں نے آرام سے سہا ہے!
رشتے تمام دل کے آوارگی سےنکلے
رنجش سے ہے محبت ، دشمن لگا بھلا ہے
جاتے ہوئے بھی، مڑ کر اس نے مجھے نہ دیکھا
آنسو تو کچھ نہ ٹپکا بس دل بھرا بھرا ہے
بسمل کے رقص کو سب تکنے ضرور ٹھہرے
گِرتوں کو ،اس جہاں نے کب آسرا دیا ہے
جب میں نے گنگنائیں لکھ لکھ کے اس کی یادیں
احساس میں اُبھرنے چہرہ وہی لگا ہے
؛
اےنورؔ کاش ہوتا ذوقِ سُخن اسے بھی
ہر شعر جس کی خاطر مدت تلک کہا ہے​
لطف آیا. عمدہ کاوش
نور وجدان — مئی 26، 2015 4:46 صبح
تخییل اور تخیل دونوں کے معانی
اچھے شعر کہتی ہیں آپ۔ باقی اختلافات ہو سکتے ہیں مگر ہمیں تو کلام کی روانی ہی پسند آئی ہے۔ شاید اس میں اصلاح کا دخل ہو۔ داد بہرحال ہم آپ ہی کو دیں گے!
شکریہ ۔۔آپ کی طرف سے داد باعثِ تحسین ہے
نور وجدان — مئی 26، 2015 4:48 صبح

شکریہ
نور وجدان — مئی 26، 2015 4:50 صبح
شکریہ
نور وجدان — مئی 26، 2015 4:50 صبح
شکریہ
نور وجدان — مئی 26، 2015 12:52 شام
دل ، زخم گنتے گنتے وحشی سا ہو گیا ہے
یہ درد پیتے پیتے میخانہ ہی بنا ہے
دل ڈھونڈ ڈھونڈ جس کو دیوانہ بن چکا ہے
آئینہ بن کے میرا مجھ میں مکیں رہا ہے!
جاتے ہوئے پلٹ کر اس نے مجھے نہ دیکھا
آنسو تو اک نہ ٹپکا بس دل بھرا بھرا ہے
وعدہ وفا کا کرکے پورا نہ کر سکا ہے
شکوہ بھی میں کروں کیا وہ دور جا چکا ہے
میری انا کو اس نے نامِ جفا دیا ہے
حیلوں سے ہی وفا کوبدنام تو کیا ہے
خاموشی میرا مسلک، ماہر وہ گفتگو میں
مشکل سفر کو میں نے آرام سے سہا ہے!
رشتے تمام دل کے آوارگی سےنکلے
رنجش سے ہے محبت دشمن لگا بھلا ہے
بسمل کے رقص پر سب تکنے ضرور ٹھہرے
گرتوں کو اس جہاں نے کب آسرا دیا ہے
خوں اس قدر جو میرے زخموں سے بھی بہا ہے
ہر حرف نے پہن لی سرخی کی ہی قبا ہے
اےنورؔ کاش ہوتا ذوقِ سُخن اسے بھی
ہر شعر جس کی خاطر مدت تلک کہا ہے
یہ غزل محترم الف عین توجہ کی طالب ہے
سید عاطف علی راحیل فاروق ادب دوست فاروق احمد بھٹی عبدالقیوم چوہدری
شوکت پرویز

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%84-%D8%8C-%D8%B2%D8%AE%D9%85-%DA%AF%D9%86%D8%AA%DB%92-%DA%AF%D9%86%D8%AA%DB%92-%D9%88%D8%AD%D8%B4%DB%8C-%D8%B3%D8%A7-%DB%81%D9%88-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92.82145/page-2