دل ، زخم گنتے گنتے وحشی سا ہو گیا ہے

ماہ نوراحمد — مئی 26، 2015 1:10 شام
دل ، زخم گنتے گنتے وحشی سا ہو گیا ہے
یہ درد پیتے پیتے میخانہ ہی بنا ہے

واہ واہ
نور وجدان — مئی 26، 2015 1:24 شام
شکریہ پسندیدگی کا
ماہ نوراحمد — مئی 26، 2015 1:42 شام
اسقدر خون میرے زخموں سے بھی بہا ہے
ہر حرف نے بھی پہنی سرخی کی ہی قبا ہے
واللہ کیا خوب کہا ہے اگر یہ آپ کا ہی شعر ہے
فاروق احمد بھٹی — مئی 26، 2015 2:42 شام
اچھی کوشش ہے مقطع اچھا ہے پسند آیا
جاتے ہوئے پلٹ کر بھی اس نے مجھے نہ دیکھا
اس میں بھی زائد ہے جو بحر سے خارج کر رہا ہے اس کے بغیر بھی یہ مصرع درست ہے
اسقدر خون میرے زخموں سے بھی بہا ہے
اس میں قدر دوسرا والا آئے گا۔۔۔ق+در
باقی رائے تو اساتذہ ہی دے سکتے ہیں
والسلام
نور وجدان — مئی 27، 2015 2:53 صبح
اچھی کوشش ہے مقطع اچھا ہے پسند آیا
اس میں بھی زائد ہے جو بحر سے خارج کر رہا ہے اس کے بغیر بھی یہ مصرع درست ہے
اس میں قدر دوسرا والا آئے گا۔۔۔ق+در
باقی رائے تو اساتذہ ہی دے سکتے ہیں
والسلام
قدر
قد ر
د یہاں پر ساکن نہیں ۔

قَدْر {قَدْر} (عربی)

ق د ر، قَدْر
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں بمعنی و ساخت بعینہ داخل ہوا اور اسم کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے 1603ء کو "شرح تمہیداتِ ہمدانی" میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم نکرہ (مؤنث - واحد)
جمع: قَدْریں {قَد + ریں (یائے مجہول)}
جمع استثنائی: اَقْدار {اَق + دار}
جمع غیر ندائی: قَدْروں {قَد + روں (واؤ مجہول)}

http://www.urduencyclopedia.org/urdudictionary/index.php?title=قدر 1
قِدَر
http://www.urduencyclopedia.org/urdudictionary/index.php?title=قدر
یہاں پر د متحرک ہے تو
ق در بن سکتا
کیا کہتے ہیں آپ
الف عین — مئی 27، 2015 3:25 صبح
ہر بار غزل میں ترمیم کر کے کچھ اشعار نکال دیتی ہو اور کچھ اشعار نئے شامل کر دیتی ہو۔ کس میں اصلاح کی جائے؟؟
یہ مراسلہ #10 کی غزل پر اظہار ہے۔ میرے خیال میں
احساس میں اُبھرنے چہرہ وہی لگا ہے
رواں نہیں لگتا۔ الفاظ بدل کر دیکھو۔
اور مقطع میں ’مدت تلک‘ میں عیب تنافر ہے۔ ’ت‘ کی تکرار کی وجہ سے۔
باقی تقریباً ٹھیک ہے
الف عین — مئی 27، 2015 3:36 صبح
اب مراسلہ#40 کی غزل
چوتھا پانچواں اور نواں شعر پھر مطلعے بن گئے ہیں!!!! ان میں بھی چوتھے پانچویں شعر میں ایطا کا سقم در آیا ہے۔ الفاظ بدل کر دیکھو۔
نویں شعر میں اس قدر میں قَ دَ ر کا محل ہے۔
سند ابھی ساحر کی یاد آئی ہے
اس قدر پیار سے دیکھو نہ ہماری جانب
اس مصرع میں ’بھی‘ بھرتی کا لفظ ہے، اور دوسرے مصرع میں بھی۔
’بھی پہنی‘ کی جگہ ’پہن لی‘ کہو تو روانی میں اضافہ ہو سکتا ہے
zulfi — جون 15، 2015 11:50 صبح
رخ سے ظالم یہ پردہ اٹھا کر تو دیکھ
پاس ہم ہیں ترے غم لٹا کر تو دیکھ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%84-%D8%8C-%D8%B2%D8%AE%D9%85-%DA%AF%D9%86%D8%AA%DB%92-%DA%AF%D9%86%D8%AA%DB%92-%D9%88%D8%AD%D8%B4%DB%8C-%D8%B3%D8%A7-%DB%81%D9%88-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92.82145/page-3