آداب
اس غزل کے اشعار ظہیراحمدظہیر صاحب کی ایک خوبصورت غزل پڑھ کر دماغ میں آ گئے تھے ۔ ۔ تو اس میں سارا قصور ان کا ہے ہماری کوئی غلطی نہیں ۔ ۔
کچھ تراکیب بنائی ہیں ملاحظہ کیجیئے ۔ ۔
سنے کون میری آہیں، جو نہ دیں تجھے سنائی
جو تو ہی نہیں سنے تو، مجھے کیوں سنے خدائی
یا
سنے کون میری آہیں، جو نہ دیں تجھے سنائی
میں صدائے غم زدہ ہوں، مجھے کیوں سنے خدائی
یا
سنے کون میری آہیں، جو نہ دیں تجھے سنائی
میں صدائے ناتواں ہوں، مجھے کیوں سنے خدائی
یا
سنے کون میری آہیں، جو نہ دیں تجھے سنائی
میں صدائے مضمحل ہوں، مجھے کیوں سنے خدائی
دیکھیے ۔ ۔
تری بزم میں تھے ہم بھی تو نے حال تک نہ پوچھا
کبھی ہم تھے تیرا سب کچھ، کیوں اب ایسی کج ادائی!
یا
تری بزم میں تھے ہم بھی تو نے حال تک نہ پوچھا
کہاں ہم تھے تیرا سب کچھ، کہاں ایسی کج ادائی!
یا
تری بزم میں تھے ہم بھی تو نے حال تک نہ پوچھا
مجھے یہ بتا دے ظالم کیوں اب ایسی کج ادائی!
یا
تری بزم میں تھے ہم بھی تو نے حال تک نہ پوچھا
تجھے کیا ملا دکھا کے مجھے ایسی کج ادائی
اب دیکھئے ۔ ۔
یہ عجیب ہم پہ گذری تری عاشقی میں ہم دم
کبھی پیار دیکھا تیرا کبھی تیری بےوفائی
کون سا متبادل بہتر رہے گا ۔ ۔
وہ یہ کہہ رہے ہیں مجھ سے کہ بھلا دوں پیار ان کا
مرے جذبوں کی یہ قیمت مجھے کس طرح چکائی
یا
وہ یہ کہہ رہے ہیں مجھ سے کہ بھلا دوں پیار ان کا
میں یہ کیسے مان جاؤں نہ تھی کوئی آشنائی
