معزز استادِ محترم
الف عین ،
محترم
ظہیراحمدظہیر
محمد خلیل الرحمٰن ،
سید عاطف علی
@
محمّد احسن سمیع :راحل:بھائآپ کی رہنمائی کی روشنی میں اپنی فہم کے مطابق تبدیلیاں کی ہیں ۔ ۔ استاد محترم کی نصیحت کو ذہن میں رکھا کہ ایک قاری کو ذہن میں رکھ کر سوچوں ۔ ۔ یہ یقیناً خودانحصاری کی جانب ایک قدم ہے ۔ ۔ مگر ابھی تمام متابادلات پیش خدمت ہیں میں تاکہ میں سمجھ سکوں کہ آپ کے اور میرے خیالات کس قدر یکساں ہیں ۔ ۔ یہ بات مجھے مدد فراہم کرے گی کہ آیا آئندہ سوچ کا رخ تبدیل کروں ۔ ۔ یا اگر آپ سے ملتے ہوں تو پھر متابادلات کو کم سے کم یا بالکل نہ دوں ۔ ۔ آپ سے رہنمائی کی گزارش ہے ۔ ۔
سنے کون میری آہیں، جو نہ دیں تجھے سنائ
میں صدائےِ غم زدہ ہوں، مجھے کیوں سنے خدائیا
سنے کون میری آہیں، جو نہ دیں تجھے سنائ
یہ صدائے غم زدہ ہیں انہیں کیوں سنے خدائی
-----------------------------------------------------
میں نے ان کے خالی دل میں دیئے پیار کے جلائے
مجھے اب وہ کہہ رہے ہیں ، یہ ہے روشنی پرائی
------------------------------------------------------
تری بزم میں تھے ہم بھی، ذرا حال تک نہ پوچھا
کہاں ہم تھے تیرا سب کچھ، کہاں ایسی کج ادائی!
--------------------------------------------------
یہ عجیب ہم پہ گذری تری عاشقی میں ہم دم
کبھی پیار دیکھا تیرا، کبھی تیری بےوفائی
---------------------------------------------------
نہ قرار پا سکے گا کبھی زندگی میں وہ بھی
مرا چین جس نے لوٹا، مری نیند بھی چرائی
--------------------------------------------------
وہ جو مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ بھلا دوں پیار ان کا
ذرا وہ بھی کر کے دیکھیں کبھی ترکِ آشنائی
یا
وہ یہ کہہ رہے ہیں مجھ سے کہ بھلا دوں پیار ان کا
کیا بھلا سکیں گے وہ بھی کبھی زخم آشنائی
یا
وہ اگرچہ کہہ رہے ہیں میں بھلا دوں پیار ان کا
وہ بھی جانتے ہیں ممکن نہیں ترک آشنائی--------------------------------------------------
ترے نام پر ہے مرنا، ترے بن بھلا کیا جینا
یہی تو ہے میری چاہت ، یہی میری جاں فدائی
ترے نام پر ہے مرنا، ترے بن بھلا کیا جینا
یہی تو ہے میری چاہت ، یہی ہے غم جدائییا
ترے نام پر ہے مرنا، ترے بن بھلا کیا جینا
یہی تو ہے میری چاہت ، یہی عہدِ باوفائی
ترے نام پر ہے مرنا، ترے بن بھلا کیا جینا
یہی تو ہے میری چاہت ، یہی طرز خوش ادائی
یا
ترے نام پر ہے مرنا، ترے بن بھلا کیا جینا
یہی تو ہے میری چاہت، ہے یہی سخن آرائی
---------------------------------------------------
تجھے یاد کرتے رہنا، تری بات کرتے رہنا
یہی زندگی کا حاصل، یہی زیست کی کمائی
--------------------------------------------------------
یہ کٹھن تو ہو گا مجھ کو تمہیں بھولنا ہی ہو گا
مرے آنسوؤں نے مجھ میں نئی جوت ہے جگائی
یا
مرے دل کی ہے تمنا، تمہیں جیتنا ہے اک دن
مرے آنسوؤں نے مجھ میں نئی جوت ہے جگائی--------------------------------------------------------
کبھی ڈال دے تو شائد کبھی اک نظر کرم کی
ترے در پہ ہم پڑے ہیں، لیئے کاسہءِ گدائیا
مجھے رب کی بارگہ سے ہے امید اب کرم کی
وہی چارہ گر بھرے گا مرا زخمِ نارسائی