نایاب بھیا ایک تو آپ اتنے عرصے بعد تشریف لائے اور اوپر سے صرف ریٹنگز کا استعمال کرتے جا رہے ہیں۔
اتنی بھی کیا بےرخی اپنی چھوٹی سی بہن سے
پہلے آپ ایسے الفاظ بتائیں جن کے ساتھ سوالیہ نشان (؟) لگ جاتا ہے اور وہ پھر بھی مکمل سوال میں نہیں بدلتے
ہنستی مسکراتی شاد و آباد رہیں میری محترم بہنا
یہ تو چیٹنگ ہے ناں


آپ بھول رہی ہیں! آپ کے دھاگے کا نام کیا ہے بھلا؟ یہ چیٹنگ نہیں بلکہ عین رول آف دی گیم ہے
آنکھ کو وضو کراتی اک خوبصورت تحریر ۔۔
جی ابھی حاضر ہوتا ہوں۔ پورے دھاگے کو ازسر نو پڑھتا ہوں۔
فکرِمعاش ایک اٹل اور انمٹ سچائی ہے یہ فکر ہماری زندگی کے ہر پہلو پر اثرانداز ہوتی ہے۔یہ ہمارے انفرادی اور اجتماعی روّیوں کا ناک نقشہ بناتی ہے۔معاش کی جدوجہد ایک عجب ہی دُنیا ہے یہ حشر سے پہلےکا ایک میدانِ حشر ہے جہاں ہر کوئی اپنی بقاء و بہتری کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہےاور ایسے میں دوسروں کو روند کر اُن کے زندہ یا مردہ جسموں پر پاؤں رکھ کر آگے بڑھنےاور اونچا ہونے کی فکر میں مگن ہے۔ یہ بے رحم مسابقت اور جاں گُسل جدوجہد دینا کو ایک آزمائش گاہ بنا دیتی ہے جہاں قدم قدم پر امتحاں ہیں اور کمزور لوگ جہاں مارے جاتے ہیں، کُچلے جاتے ہیں یا بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ صنفِ نازک جذباتی، جسمانی اور معاشی طور پر اپنی مخالف جنس سے کمزور بنائی گئی ہے اور ایسا انسانوں کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ دیگر متنوع جانداروں میں بھی یہ فرق دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ تو والدین بیٹی کی صورت میں ایک کمزور فرد کے مستقبل سے خوفزدہ رہتے ہیں جسے عملی زندگی کے بہت سے اعصاب شکن محاذوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور اُس پر مستزاد ہمارے منافقانہ معاشرتی روّیے ہیں جہاں ایک طرف تو بیٹی کو رحمت قرار دیا جاتا ہے مگر عملی طور پر اُسے اُس کی جائز آزادیوں پر قدغن لگا کر ، حقِ تعلیم سے محروم کر کے یا اِس میں جا بجا مشکلات حائل کر کے ، باعزت روزگار کے مواقع محدود کر کے اور جہیز کے مکروہ بوجھ جیسی دیواروں میں چُن دیا جاتا ہے۔
یوں لگے جیسے کہ " سرسری اس جہاں سے گزرے "
نایاب جی نزاکت صنفِ نازک کا سب سے لطیف اور طاقتور پہلو بھی ہے جِس کے گھائل بادشاہ بھی گلیوں کی خاک ہو گئے ۔اِس ناقابلِ دفاع قوت سے زیر و زبر ہونے والوں کے قصّے زندگی سے زیادہ طویل ہیں مگر اِس خوابناک تصویر کا دوسرا رُخ بہت دردناک ہے کہ ہمیں ہر چیز کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے تو اِس تباہ کُن طاقت کی قیمت وہ بے چارگی ہے جو تُند ہواؤں کے غالب آنے پر سامنے آتی ہے۔
آمین۔
بالکل درست فرمایا بھیا۔
بالکل درست۔
میری بات ہو رہی تھی اپنی کزن سے۔ میرا کہنا تھا کہ عورت خود اپنے ساتھ ظلم کرتی ہے کیونکہ ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہوتا ہے۔ اس کے سوال کا جواب نہ دے پائی۔ اگر عورت بیٹی ہو تو وہ اپنے والدین کے خلاف کیسے ڈٹ جائے؟؟؟؟
آج جو والدین کے مقام پر کھڑے ہیں گزرے کل میں وہ بچے تھے ۔ آج کے بچے کل خود والدین کے مقام پر ہوں گے ۔
آج جو بیٹی ہے کل جب وہ ماں کے مقام پر کھڑی ہو گی ۔ اگر اس مقام پر کھڑے ہوتے اپنی بیٹی کے بارے مکمل آزادی کے ساتھ اس کی مرضی کو مقدم رکھتے اس کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی ۔