بھیا آپ کہہ تو صحیح رہے ہیں مگر عملاً یہ سب سہنا بہت مشکل ہے۔
ماں اکیلی سب کچھ نہیں کر سکتی۔
باپ بھی اکیلا سب کچھ نہیں کر سکتا۔
سوچوں کا فرق دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دے تو کیسے ممکن ہے کہ اولاد کی شخصیت مکمل ہو؟؟؟
آپ نے بالکل درست کہا کہ نہ ماں نہ باپ کوئی بھی اکیلا کچھ نہیں کر سکتا ۔۔
اور اگر ماں باپ کی آپس کی سوچ اور نظریئے میں اختلاف ہو تو اولاد کو اپنی شخصیت متوازن رکھنا اک نا ممکن امر ہے ۔
ہمارے والدین نے ہمیں مکمل آزادی کے ساتھ اک دوستانہ ماحول فراہم کیا ۔ بیٹی بیٹے میں کبھی تفریق نہیں پائی ۔ ہاں بیٹی کو اکثر چھوٹ پاتے دیکھا ۔ ہم سب بہن بھائی ہر بات پوری آزادی کے ساتھ اک دوسرے کے ساتھ شئر کرتے آئے ۔ اور سوائے میرے سب بہن بھائی اپنی اپنی زندگی میں کامیاب و کامران ٹھہرے ۔۔۔ میں اپنی خوشی سے آوارگی کی راہ اختیار کر گیا ۔
میرے والد والدہ نے ہمیشہ ہمارے ساتھ دوستوں کی صورت بات کی ۔۔ سب کو کہا کہ اگر کسی کو کسی سے دوستی کرنا پسند ہے تو وہ آزادی سے دوستی کر سکتا ہے ۔ شرط صرف اتنی ہے کہ دوست ایسا ہو جسے گھر بلاتے کوئی جھجھک نہ ہو ۔ میری تمام بہنیں نرسنگ کرتے اعلی عہدوں پر پہنچیں ۔ اور سب کی شادی ارینج میرج کی صورت ہوئی ۔ کرم اللہ کا سب کی زندگی سکھی گزری ۔ اور اللہ سوہنا اپنا کرم فرماتے سب کو سکھی ہی رکھے آمین ۔ بھائی بھی والدہ کی پسند قبول کرتے سکھی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ میں نے حماقت کی اپنی پسند کی شادی کی اور پھر توبہ کر والدہ کا انتخاب قبول کیا ۔ اور الحمد للہ خوش و آباد ہوں ۔۔اب ہماری اولادیں زندگی شروع کرنے کو ہیں اور ہم سب ہی اپنے اپنے بچوں کے بہترین دوست ہیں ۔ ہمارے بچے ہم سے کچھ نہیں چھپاتے ۔ وہ ہمارے ساتھ ایسے ہی بات کرتے ہیں جیسے ہم عمر دوست ۔۔۔۔۔۔۔
بلاشک میاں بیوی میں اتفاق ہو تو اولاد متوازن سوچ کی حامل ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں