محترم جناب
مزمل شیخ بسمل صاحب!
آداب عرض ہے۔
تسبیغ سے متعلق ایک سوال ہے۔
آپ نے بتایا:
نیز جناب وارث صاحب کی یہ بات پڑھی:
نیز آپ نے بحور والی لڑی میں بتایا:
میرا اشکال یہ ہے کہ اگر ہم تسبیغ کے لیے سالم رکن کی شرط لگاتے ہیں تو پھر "فاعلاتن مفاعلن فعلان" میں "فعلان" کیسے حاصل ہوا؟
اب
- یا تو تسبیغ کے لیے سالم رکن کی شرط نہیں ہونی چاہیے۔
- یا پھر خفیف میں فعلن سے فعلان اور ہزج مربع اشتر مقبوض مضاعف میں مفاعلن سے مفاعلان میں جو اضافہ ہورہا ہے اس کا کوئی اور نام ہے؟
- یا پھر کوئی اور بات جو میری سمجھ میں نہیں آرہی۔
رہنمائی کا منتظر ہوں۔
میری اپنی تحقیق آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہیں۔

بحر خفیف مسدس سالم کے ارکان:
فاعلاتن مستفعلن فاعلاتن
پہلا رکن سالم
دوسرا مخبون یعنی مُتَفعِلُن بوزن مفاعلن۔
تیسرا رکن فاعلاتن ہے جسے زحاف حذف سے فاعلا بوزن فاعلن بنایا جاتا ہے اور خبن سے الف ساقط کر کے فعِلا بوزن فعِلُن بنایا جاتا ہے۔
لیکن اگر اسی رکن یعنی فاعلاتن سے نون کو ساقط کردیا جائے اور ت کو ساکن کردیں تو فاعلات ت ساکن سے بوزن فاعلان بن جائے گا۔ اس عمل کو قصر کہتے ہیں۔ اور فاعلان کا الف خبن سے گر گیا فعِلان بچا۔ اس طرح بحر کا نام بحرِ خفیف مسدس مخبون مقصور ہوا۔ اس کا خلط خفیف مسدس مخبون محذوف کے ساتھ جائز ہے۔