واسطی خٹک — اگست 13، 2014 5:54 شام
یہ شعر شروع سے ہی وزن سے خارج ہے۔
"نہ آئیں گے" کو فاعلاتن کے برابر کیسے باندھا ہے آپ نے؟
آئیں گے نہ تری گلیوں میں نظر آج کے بعد
نہ رکھیں گے کبھی تمہاری خبر آج کے بعد
کچھ تبدیلی کے ساتھ
مزمل شیخ بسمل — اگست 14، 2014 9:22 صبح
آئیں گے نہ تری گلیوں میں نظر آج کے بعد
نہ رکھیں گے کبھی تمہاری خبر آج کے بعد
کچھ تبدیلی کے ساتھ
تمہاری میں ہائے مخلوط التلفظ ہے۔ تم ہاری نہیں بلکہ اس کا وزن تماری کے برابر ہے۔
واسطی خٹک — اگست 14، 2014 4:54 شام
تمہاری میں حرف """ه" کو میں گرانا نہیں چاہتا
کیونکہ مجھے اس کی ضرورت ہے
ٹهیک ہے اگر آپ کہتے ہیں کہ حرف علت ہے
مگر اس کا یہ مطلب تهوڑی ہے کہ شاعری میں اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں
اس کے بعد بھی اگر شعر غلط ہے تو غلط صحیح
نو مور چینج
گستاخی معاف
اور تم ہارے مطلب تمهارے