السلام علیکم
سر مجھے شعر اور تکرارِ لفظ کے بارے میں پوچھنا تھا کچھ حضرات کہتا ہے اس شعر میں تکرار ہے یہ اچھی نہیں لگ رہی اور کچھ میں تکرار ہوتی ہے اور وہ بہت مشہور شعر ہوتے ہیں مثلاً اقبال صاحب کا ایک مصرع ”اقبال ہے اقبال ہے اقبال ہمارا“ اور ایک فارسی کا شعر
”گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس
می نویس و می نویس و می نویس مہربانی فرمائیں شکریہ
الف نظامی — جولائی 3، 2008 2:36 شام
مرزا عبدالقادر بیدل عظیم آبادی کا شعر
معمائی معمائی معما
اگر خواہی کشودن چشم بکشا
اس شعر میں لفظ "معما" کی تکرار کلام میں وزن emphasis پیدا کررہی ہے۔ تکرار سے کلام میں خوبصورتی بھی پیدا ہوتی ہے اور بے جا تکرار سے کلام بدصورت۔
الف عین — جولائی 3، 2008 6:25 شام
شکریہ الف نطامی۔۔ اور اس بار سوال پوچھنے کی جگہ تم نے جواب دیا ہے اور درست دیا ہے۔
خرم۔۔ مبتدی شاعر کو تکرار سے بچنا ہی چاہیے کہ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ کہاں تکرار سے حسن پیدا ہوا ہے اور کہاں عیب۔
مرزا عبدالقادر بیدل عظیم آبادی کا شعر
معمائی معمائی معما
اگر خواہی کشودن چشم بکشا
اس شعر میں لفظ "معما" کی تکرار کلام میں وزن Emphasis پیدا کررہی ہے۔ تکرار سے کلام میں خوبصورتی بھی پیدا ہوتی ہے اور بے جا تکرار سے کلام بدصورت۔
کیوں نہ اس تھریڈ میں ایسے اشعار لکھے جائیں جن میں کسی لفظ کی تکرار ہو۔
خرم شہزاد خرم — جولائی 10، 2008 5:54 صبح
آپ شروع کر دے نا الف نظامی صاحب
الف نظامی — جولائی 10، 2008 6:03 صبح
ناموں میں جو اک نام حسیں اور جلی ہے
وہ نامِ علی، نامِ علی، نامِ علی ہے
از سید نصیر الدین نصیر
الف نظامی — جولائی 10، 2008 6:40 صبح
ناوکِ ناز سے مشکل ہے بچانا دل کا
درد اٹھ اٹھ کہ بتاتا ہے ٹھکانہ دل کا
امر شہزاد — جولائی 10، 2008 8:10 صبح
اگر فردوس بہ روئی زمین است
ہمین است و ہمین است و ہمین است
فرخ منظور — جولائی 10، 2008 8:34 صبح
دو منفیوں کی ضرب سے بنتی ہے مثبتیں
تو بھی خدا کے واسطے کہہ دے نہیں نہیں
مغزل — جولائی 10، 2008 9:05 صبح
بہت خوب سلسلہ ہے خرم شہزاد خرم شہزادے۔
شاباش
فرخ منظور — جولائی 10، 2008 12:09 شام
شاباش ہو شاباش ہو خرم تمہیں شاباش ہو
تکرار کی کیا ضد پڑی ہم نے کہا شاباش ہو
الف نظامی — جولائی 11، 2008 4:01 صبح
وہاں وہاں سے حقیقت کھلے گی منظر کی
جہاں جہاں سے عدو ترجماں بدلتے ہیں
نثار ترابی
ابن سعید — جولائی 11، 2008 7:04 صبح
منو نے اک بلی پالی
بلی پالی کالی کالی
کالی کالی نرم ملائم
نرم ملائم کھال ہے اسکی
کھال ہے اسکی مخمل جیسی
مخمل جیسی چکنی چکنی
چکنی چکنی اچھی اچھی
اچھی اچھی پیاری پیاری کتے سے گھبراتی بلی
کوٹھے پر چڑھ جاتی بلی
باہر سے جب آتی بلی
بلی پر غراتی بلی
غراتی لڑ جاتی بلی
گھر سے مار بھگاتی بلی منو اس کو پوسی کہتا
پس پس کہہ کر پاس بلاتا
پاس بلاتا دودھ پلاتا
اچھی اچھی بات سکھاتا
خرم شہزاد خرم — جولائی 11، 2008 7:27 صبح
کیا بات ہے سعود بھائی آپ نے تو تکرار ہی تکرار کر دی ہے بہت خوب
ابن سعید — جولائی 11، 2008 7:52 صبح
بھائی یہ بچپن میں اردو کی کتاب میں پڑھی تھی۔ کچھ کچھ بھعل بھی گیا ہوں۔
مغزل — جولائی 11، 2008 9:06 صبح
کیا بات ہے واہ۔
الف نظامی — جولائی 15، 2008 6:26 صبح
دم بہ دم دم را غنیمت دان و ہم دم شو بدم
محرمِ دم باش و دم را یک دمی بی جا مدم لمحہ بہ لمحہ گزرتے سانسوں کو غنیمت جانو اور اس انتہائی مختصر زندگی کے ہم دم بن جاو
زندگی کے محرم راز بن کر مقصد حیات کو پالو اور اک لمحہ بھی بے مقصد زندگی نہ گزارو
الف نظامی — جولائی 15، 2008 7:39 صبح
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
تیری آنکھوں کی نیم خوابی سے