شعر اور تکرارِ لفظ

الف نظامی — جولائی 15، 2008 7:44 صبح
زخم بِن غم بِن اور غصّے بِن
اپنا کھانا حرام ہوتا ہے
الف نظامی — جولائی 15، 2008 7:45 صبح
چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نے
اس گریباں ہی سے اب ہاتھ اُٹھایا ہم نے
الف نظامی — جولائی 15، 2008 7:47 صبح
صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوس
کیا کیا فتنے سر جوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے
الف نظامی — جولائی 15، 2008 7:51 صبح
سرہانے میر کےآہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
الف نظامی — جولائی 15، 2008 7:54 صبح
کیسی کیسی صحبتیں آنکھوں کے آگے سے گئیں
دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہوگیا یک بارگی
الف نظامی — اکتوبر 4، 2008 11:37 صبح
اس میں زم زم ہے کہ تھم تھم اس میں جم جم ہے کہ بیش
کثرت کوثر میں زم زم کی طرح تھم تھم نہیں
محمد نعمان — جنوری 2، 2009 8:12 صبح
نظامی بھائی بہت سی تکرار جمع کر رکھی ہے آپ نے :grin:
:hatoff:
مغزل — جنوری 2، 2009 9:28 صبح
لیکن یہ سب خوبصورت ہیں ۔۔ بعض بعض اوقات تکرار انتہائ بھونڈی لگتی ہے ۔۔ اس کی بھی مثالیں پیش کیجیے
نوید صادق — جنوری 2، 2009 10:56 صبح
خرم!!
ادھر ادھر مت دیکھو،
شعر کہو،
پھر دیکھو کہ مصرع کیا کہتا ہے۔
ان چکروں میں پڑنے کی ضرورت ہے۔
وقت اور تجربہ اور ذوقِ صحیح آپ کی رہنمائی کریں گے۔
نوید صادق — جنوری 2، 2009 10:58 صبح
بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے، یا نہیں ہوتا
محمد نعمان — جنوری 2، 2009 11:05 صبح
بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے، یا نہیں ہوتا

بالکل نوید بھائی ایسی ہی بات ہے۔
مگر وصی شاہ صاحب کے بارے میں کیا کہیں گے :confused:
مغزل — جنوری 2، 2009 11:39 صبح
بھائی سب توفیق کی بات ہے ۔ اس کے ہاں ایک دو شعر مل ہی جائیں گے ۔ مگر سرقہ کرکے اپنی عز ت پر بٹہ لگا دیا موصوف نے
نوید صادق — جنوری 6، 2009 8:45 صبح
بالکل نوید بھائی ایسی ہی بات ہے۔
مگر وصی شاہ صاحب کے بارے میں کیا کہیں گے :confused:
یہاں میرے کچھ اپنے تحفظات ہیں
نوید صادق — جنوری 6، 2009 8:46 صبح
بھائی سب توفیق کی بات ہے ۔ اس کے ہاں ایک دو شعر مل ہی جائیں گے ۔ مگر سرقہ کرکے اپنی عز ت پر بٹہ لگا دیا موصوف نے

خدائے سخن میر تقی میر فرما گئے ہیں
شعر سبھی کہہ لیتے ہیں
دو بول بنانا مشکل ہے
محمد نعمان — جنوری 6، 2009 8:52 صبح
بالکل نوید بھائی اور امجد اسلام امجد نے کہا تھا کہ
کوئی پچیس سال کی عمر کے بعد شعر کہہ کے دکھائے تو میں اسے شاعر مانوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔
الف نظامی — جنوری 6، 2009 9:52 صبح
حمد--کس کا نظام راہ نما ہے افق افق
کس کا نظام راہ نما ہے افق افق
جس کا دوام گونج رہا ہے افق افق
شانِ جلال کس کی عیاں ہے جبل جبل
رنگِ جمال کس کا جما ہے افق افق
مکتوم کس کی موجِ کرم ہے صدف صدف
مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے افق افق
کس کی طلب میں اہل ِ محبت ہیں داغ داغ
کس کی ادا سے حشر بپا ہے افق افق
سوزاں ہے کس کی یاد میں تائب نفس نفس
فرقت میں کس کی شعلہ نوا ہے افق افق
از حضرت حفیظ تائب رحمۃ اللہ علیہ
ابن سعید — دسمبر 25، 2011 6:30 صبح
اشعار میں ایسی تکرار کو ہندی ادب میں "انوپراس النکار" کا نام دیا جاتا ہے۔ اور یہ صنائع لفظی کے زمرے میں آتا ہے۔
ویسے محترم نوید صادق صاحب کہاں گم ہیں؟ عرصہ ہوا محفل کی طرف نہیں آئے۔ :)
زلفی شاہ — دسمبر 25، 2011 12:33 شام
کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں
کھڑکیوں کے کھڑکنے سے کھڑکتا ہے کھڑک سنگھ
بچپن سے سنتے آ رہے ہیں
متلاشی — دسمبر 29، 2011 8:35 صبح
ہم نے رو رو کے محبت کی بقا مانگی ہے
اس نے ہنس ہنس کے مقدر کی سزا مانگی ہے
ہم نے ڈر ڈر کے حقیقت کی ضیا مانگی ہے
اس نے خوش ہو کہ بھی ظلمت کی گھٹا مانگی ہے
(متلاشی)
ایم اے راجا — دسمبر 30، 2011 8:13 صبح
بھائی سب توفیق کی بات ہے ۔ اس کے ہاں ایک دو شعر مل ہی جائیں گے ۔ مگر سرقہ کرکے اپنی عز ت پر بٹہ لگا دیا موصوف نے
کیا واقعی وصی شاہ نے اشعار سرقہ کیئے ہیں، کچھ ثبوت ہے اس کا ؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AA%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D9%90-%D9%84%D9%81%D8%B8.13718/page-2