خدائے سخن میر تقی میر فرما گئے ہیں شعر سبھی کہہ لیتے ہیں
دو بول بنانا مشکل ہے
محمد نعمان — جنوری 6، 2009 8:52 صبح
بالکل نوید بھائی اور امجد اسلام امجد نے کہا تھا کہ
کوئی پچیس سال کی عمر کے بعد شعر کہہ کے دکھائے تو میں اسے شاعر مانوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔
الف نظامی — جنوری 6، 2009 9:52 صبح
حمد--کس کا نظام راہ نما ہے افق افق کس کا نظام راہ نما ہے افق افق
جس کا دوام گونج رہا ہے افق افق شانِ جلال کس کی عیاں ہے جبل جبل
رنگِ جمال کس کا جما ہے افق افق مکتوم کس کی موجِ کرم ہے صدف صدف
مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے افق افق کس کی طلب میں اہل ِ محبت ہیں داغ داغ
کس کی ادا سے حشر بپا ہے افق افق سوزاں ہے کس کی یاد میں تائب نفس نفس
فرقت میں کس کی شعلہ نوا ہے افق افق از حضرت حفیظ تائب رحمۃ اللہ علیہ
ابن سعید — دسمبر 25، 2011 6:30 صبح
اشعار میں ایسی تکرار کو ہندی ادب میں "انوپراس النکار" کا نام دیا جاتا ہے۔ اور یہ صنائع لفظی کے زمرے میں آتا ہے۔ ویسے محترم نوید صادق صاحب کہاں گم ہیں؟ عرصہ ہوا محفل کی طرف نہیں آئے۔
زلفی شاہ — دسمبر 25، 2011 12:33 شام
کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں
کھڑکیوں کے کھڑکنے سے کھڑکتا ہے کھڑک سنگھ
بچپن سے سنتے آ رہے ہیں
متلاشی — دسمبر 29، 2011 8:35 صبح
ہم نے رو رو کے محبت کی بقا مانگی ہے
اس نے ہنس ہنس کے مقدر کی سزا مانگی ہے
ہم نے ڈر ڈر کے حقیقت کی ضیا مانگی ہے
اس نے خوش ہو کہ بھی ظلمت کی گھٹا مانگی ہے
(متلاشی)