افاعیل؟
اج کل ہونے سے تو فاعلاتن مفاعلن فعلن ہو سکتا ہے۔ لیکن آج کل نہیں۔
سر اس طرح کا پڑھا ہے ۔۔۔فاعلاتن مفاعلن فاعلن۔۔۔اس لیے لکھا ہے۔ کیا یہ کوئ بحر نہیں۔۔
کیا غیر مستعمل اوزان میں شعر نہیں کہے جاسکتے؟
اگر وہ اوزان بحورِ نوزدگانہ پر مناسب زحافات کے استعمال سے حاصل کیے جائیں تو کہے جا سکتے ہیں۔
غیر مستعمل اوزان موزونیت سے پڑھے نہیں جاتے.
چند مستعمل اوزان ازبر کرنے سے بھی کام نہایت خوبی سے چل سکتا ہے.
میری تو یہی رائے ہے.
زیادہ سے زیادہ مطالعہ!
بھائی آپ یہ سیٹھ کی نوکری چھوڑیں اور اردو ادب پر کتابیں لکھیں. قسم سے جس طرح آپ اردو مسائل پر سیر حاصل گفتگو کرسکتے ہیں آپ کو مکمل توجہ کے ساتھ اس لائن کو اختیار کرنا چاہیے.
آہ کیا خوب کہا وارث بھائی۔ ہم بھی اسی گلی سے گذر رہے ہیں۔ مگر رفتار کچھوے سے بھی کچھ کم!
اجی کہاں ڈاکٹر صاحب۔ یہاں مزاج و شوق و ذوق اور پیشے میں عام طور ویسا ہی فرق ہوتا ہے جیسا کسی بچھڑی ہوئی اولین محبوبہ اور سر منڈھی ہوئی بیوی میں ہوتا ہے۔ معدودے چند خوش قسمت ہوتے ہونگے جن کو اس مثال میں موجود دونوں باتوں میں وصل نصیب ہوتا ہے، میں کم از کم ان میں سے نہیں ہوں!
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.96123/