عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — نومبر 5، 2014 9:38 صبح

وحشتوں کا خمار سر پر ہے
میرا اپنا پتا نہ گھر پر ہے
بوجھ سا اک ہے میری جاں پر اور
بار سا اِک مرے جگر پر ہے
چھیڑ مت واعظا حقیقت میں
یہ مسافر کسی سفر پر ہے
باخبر معلومات رکھ ساری
گھات میری تری خبر پر ہے
ہو گیا کیا عظیم رب جانے
بهوت سا اک سوار سر پر ہے
عظیم — نومبر 5، 2014 9:39 صبح
یہ مکمل غزل تھی بابا پھر بھول گیا ۔
عظیم — نومبر 5، 2014 10:15 صبح

یاد تیرا جمال بهی آئے
اور اپنا خیال بهی آئے
اک تری واپسی پہ اے ہمدم
مجھ میں خوبی کمال بهی آئے
بندہ پرور نواز دیجے گا
اب یہ حالت پہ حال بهی آئے
ان ملنگوں کو جهومنے کے ساتھ
تهوڑی تهوڑی دهمال بهی آئے
آگے اُس کے نہ ایک چلتی تهی
لب پہ لاکهوں سوال بهی آئے
عشق کی راہ میں خوشی اوڑهے
ہم سے ملنے ملال بهی آئے
ہم رقیبوں کو با ادب کہہ کر
خود پہ کیچڑ اچهال بهی آئے
عظیم — نومبر 5، 2014 10:39 صبح
مطلب اشعار کا بتا دیجے
بات یہ آپ نے کہی کیا ہے

آپ مطلب پرست لگتے ہیں
مُجھ کو اپنے سے خست لگتے ہیں

یہ سوالات خوب ہیں لیکن
آپ کے ساتھ یوں ہوئی کیا ہے
اِن سوالات کو نگل لیجے
ورنہ بچگانہ دست لگتے ہیں

یہ تراکیب کون سی ہیں بھلا
ان میں اچھی ہے کیا، بھلی کیا ہے

چھوڑئیے کون سی کیا بتلائیں
آپ ایسے ہی پست لگتے ہیں

اک غزل روز داغ دیتے ہیں
ہم سے آخر یہ دشمنی کیا ہے

عشق میں بیخودی ہی ہوتی ہے
پیٹ والوں کو دست لگتے ہیں


استادِ محترم خلیل الرحمن صاحب سے اصلاح کی درخواست کے ساتھ ۔ بابا آج آپ چھٹی پر ہیں ۔ آرام کیجئے ۔
عظیم — نومبر 5، 2014 11:23 صبح

دلِ مضطر نہ جینا بھول جاؤں
غموں کا زہر پینا بھول جاؤں
ٹھہر جا وقت کی رفتار اُس بِن
دسمبر کا مہینا بھول جاؤں
خدایا کاش خنجر سے میں اپنے
جگر کے زخم سینا بھول جاؤں
مُجھے ڈر ہے کہیں اس شوق میں اب
مَیں اپنا آپ ہی نا بھول جاؤں
تمہیں کہہ دو اے مُجھ پر ہنسنے والو
مَیں کیسے اشک پینا بھول جاؤں
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 5، 2014 1:36 شام
وحشتوں کا خمار سر پر ہے
میرا اپنا پتا نہ گھر پر ہے​
دوسرے مصرع کی وجہ سے شعر بے معنی ہورہا ہے۔ اسے تبدیل کیجیے
عظیم — نومبر 5، 2014 1:39 شام
دوسرے مصرع کی وجہ سے شعر بے معنی ہورہا ہے۔ اسے تبدیل کیجیے

یعنی باقی سب معنی خیز ہیں ؟
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 5، 2014 1:40 شام
بوجھ سا اک ہے میری جاں پر اور
بار سا اِک مرے جگر پر ہے
چھیڑ مت واعظا حقیقت میں
یہ مسافر کسی سفر پر ہے

شعر کے دونوں مصرعے مل کر ایک جملہ نہیں ہوتے، ایک مضمون ضرور ہوتے ہیں۔ آپ نے ان دونوں شعروں میں لفظ ’اور‘ ، ’ حقیقت میں‘ پہلے مصرع میں استعمال کیے ہیں اور ان کا تعلق دوسرے مصرع کے مضمون سے بنتا ہے۔
عظیم — نومبر 5، 2014 1:57 شام
شعر کے دونوں مصرعے مل کر ایک جملہ نہیں ہوتے، ایک مضمون ضرور ہوتے ہیں۔ آپ نے ان دونوں شعروں میں لفظ ’اور‘ ، ’ حقیقت میں‘ پہلے مصرع میں استعمال کیے ہیں اور ان کا تعلق دوسرے مصرع کے مضمون سے بنتا ہے۔

بابا کا انتظار کیجئے خلیل بهائی - میں انہی سے اصلاح لیتا آیا ہوں اور وہی میری اصلاح فرمائیں گے - میں آپ سے کئی باتوں پر اتفاق نہیں رکهتا - اور کبهی آپ کو ٹیگ بهی نہیں کرتا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی جانب سے ہمیشہ حوصلہ شکنی ہی دیکهنے کو ملی - جس کی تعلیم کی جا رہی ہو اس کی ذہنی کیفیت کو سمجهنا لازم ہوتا ہے اور تنقید یا رائے دینے کے اصول سیکهئے میرے نذدیک تنقید ایسی ہونی چاہئے کہ مبتدی کو مزید بہتری لانے کی تحریک دے سکے نہ کہ اسے بهاگ جانے کی ترغیب - آپ ماشاء اللہ عمر میں کافی بڑے ہیں مجھ سے اگر ہو سکے تو رائے دیتے وقت اپنی اور میری عمر کا خیال رکها کیجئے تاکہ مجهے سمجهنے میں آسانی ہو -
اگر کوئی بات ناگوار گزری ہو تو معذرت -
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 5، 2014 2:12 شام
استادِ محترم خلیل الرحمن صاحب سے اصلاح کی درخواست کے ساتھ ۔ بابا آج آپ چھٹی پر ہیں ۔ آرام کیجئے ۔

بابا کا انتظار کیجئے خلیل بهائی - میں انہی سے اصلاح لیتا آیا ہوں اور وہی میری اصلاح فرمائیں گے - میں آپ سے کئی باتوں پر اتفاق نہیں رکهتا - اور کبهی آپ کو ٹیگ بهی نہیں کرتا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی جانب سے ہمیشہ حوصلہ شکنی ہی دیکهنے کو ملی - جس کی تعلیم کی جا رہی ہو اس کی ذہنی کیفیت کو سمجهنا لازم ہوتا ہے اور تنقید یا رائے دینے کے اصول سیکهئے میرے نذدیک تنقید ایسی ہونی چاہئے کہ مبتدی کو مزید بہتری لانے کی تحریک دے سکے نہ کہ اسے بهاگ جانے کی ترغیب - آپ ماشاء اللہ عمر میں کافی بڑے ہیں مجھ سے اگر ہو سکے تو رائے دیتے وقت اپنی اور میری عمر کا خیال رکها کیجئے تاکہ مجهے سمجهنے میں آسانی ہو -
اگر کوئی بات ناگوار گزری ہو تو معذرت -
کیا ہمیں باقاعدہ دعوت دینے کے بعد آپ کے اس تبصرے کی تک بنتی ہے؟
عظیم — نومبر 5، 2014 2:26 شام
کیا ہمیں باقاعدہ دعوت دینے کے بعد آپ کے اس تبصرے کی تک بنتی ہے؟

بابا کے اس مراسلے کے بعد
ظاہر ہے کہ غلط ہے۔ یہاں تو کچھ بھی آ سکتا ہے۔ ردیف قافئے کی مجبوری تو نہیں۔

آپ کی اس استادی کی تک بنتی ہے ؟
لگتا ہے دوسرا مصرع وزن میں نہیں۔ صبح کے ہجوں پر غور کیجیے
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 5، 2014 2:33 شام
بابا کے اس مراسلے کے بعد
آپ کی اس استادی کی تک بنتی ہے ؟
کیا غلط مشورہ دے دیا؟
عظیم — نومبر 5، 2014 2:41 شام
کیا غلط مشورہ دے دیا؟

مشورہ صحیح تها اور اس کے لئے شکریہ مگر بے محل تها -
خالد محمود چوہدری — نومبر 5، 2014 2:44 شام
اک غزل روز داغ دیتے ہیں

ہم سے آخر یہ دشمنی کیا ہے
عظیم — نومبر 5، 2014 10:26 شام

جانتے ہیں کیا مرے بارے میں سب
پوچهتے ہیں کیوں ترے بارے میں سب​
عظیم — نومبر 5، 2014 10:44 شام
حضم -
عظیم — نومبر 5، 2014 11:17 شام

کیوں ستاتے ہیں غریبوں کو جناب
ہم نہیں کیا دیکھ سکتے اُن کے خواب
جانے دیجے آزمائے جا چکے
آپ لوگوں سے یہ ہم خانہ خراب
وحشتیں کیا کیا نہ گرد و پیش ہیں
ہم بتادیں گَر تو کردیں لاجواب
اک طرف دنیا کی مُجھ سے بے رخی
اک طرف اُن کا وہ پردہ وہ حجاب
آزمائش یوں نہیں کیجے کہ دل
کانپتا ہے دیکھ کر یہ آب تاب
عظیم — نومبر 5، 2014 11:32 شام
۔
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 6، 2014 2:39 صبح
بابا کا انتظار کیجئے خلیل بهائی - میں انہی سے اصلاح لیتا آیا ہوں اور وہی میری اصلاح فرمائیں گے -
بابا کو ذاتی پیغام میں بھیج دیں غزلیں
عظیم — نومبر 6، 2014 10:46 صبح
بابا کو ذاتی پیغام میں بھیج دیں غزلیں

بابا یہ خلیل میاں کون ہیں - اتنا عروض نے نہیں ستایا جتنا انہوں نے تنگ کر رکها ہے - - - - -

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-120