عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 6، 2014 10:55 صبح
بابا یہ خلیل میاں کون ہیں - اتنا عروض نے نہیں ستایا جتنا انہوں نے تنگ کر رکها ہے - - - - -
محمد خلیل الرحمٰن
عظیم — نومبر 6، 2014 11:30 صبح

آپ کے بارے سنا رکها تها پر
آپ کیا ہیں جان کر پائی خبر
عظیم — نومبر 6، 2014 11:48 صبح

دیکهتی ہے چار جانب یہ نظر
کیا نہیں کیا ہے نہیں کس کی خبر
جانتا ہوں عشق مشکل کام ہے
اور کرنے کو ہے دنیا میں مگر
میں زمیں والوں میں رسوا ہوں سہی
آسماں کی سمت ہے لیکن سفر
آرزو مشتاق کی جانیں نہ لوگ
کیا اسے وحشت زمانے کا خطر
میں کہاں قابل تها اس فن کے عظیم
میں کہاں سیکها کیا ایسا ہنر
عظیم — نومبر 6، 2014 12:22 شام

دیکهتی ہے چار جانب یہ نظر
کیا نہیں کیا ہے نہیں کس کی خبر
جانتا ہوں عشق مشکل کام ہے
اور کرنے کو ہے دنیا میں مگر
میں زمیں والوں میں رسوا ہوں سہی
آسماں کی سمت ہے لیکن سفر
آرزو مشتاق کی جانیں نہ لوگ
کیا اِسے وحشت زمانے کا خطر
میں کہاں قابل تها اِس فن کے عظیم
میں کہاں سیکها کِیا ایسا ہنر
الف عین — نومبر 6، 2014 4:03 شام
لگتا ہے دوسرا مصرع وزن میں نہیں۔ صبح کے ہجوں پر غور کیجیے
صبح و شام پر تو بات ہو چکی ہے۔
@عظیم، ابھی بھی تک بندی جاری ہے!!!
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 6، 2014 4:26 شام
گویم مشکل و گر نگویم مشکل

پہلی غزل ہی بہتر ہے۔ باقی تو خانہ پری ہے۔
کچھ فاش اغلاط سرسری مطالعے کے بعد۔
مَرَض درست ہے، ’ر‘ پر زبر۔ تم نے ساکن باندھا ہے درد کے وزن پر۔
پیٹتا کم بخت سر جاتا ہے کیا
محاورہ سر پیٹنا یا سر پیٹتے جانا ہوتا ہے۔ لیکن ’پیٹتا‘ اور ‘سر‘ کے بیچ کم بخت ’کم بخت‘ آ گیا ہے جو محاورہ سمجھنے نہیں دے رہا ہے۔

عظیم ہمارا دوستانہ مشورہ مانیے اور دھڑا دھڑ غزلین پوسٹ کرنے کے بجائے ، ان غلطیوں پر توجہ دیجیے جن کی طرف اساتذہ توجہ دلا رہے ہیں۔ آپ نے ابھی تک اساتذہ کے کسی بھی مشورے پر عمل کرکے اپنی کسی بھی غلطی کو بہتر نہیں کیا ہے ( فار دی ریکارڈ)۔
جس غزل کی استاد ،الف عین بات کررہے ہیں پہلے اس غزل کے زیرِ تبصرہ شعروں کو دوبارہ کہیے اور استاد کی رائے لیجیے، پھر آگے بڑھیے۔ مع السلام
عظیم — نومبر 6، 2014 6:08 شام
صبح و شام پر تو بات ہو چکی ہے۔
@عظیم، ابھی بھی تک بندی جاری ہے!!!

جی نہیں بابا -
عظیم — نومبر 6، 2014 6:09 شام
عظیم ہمارا دوستانہ مشورہ مانیے اور دھڑا دھڑ غزلین پوسٹ کرنے کے بجائے ، ان غلطیوں پر توجہ دیجیے جن کی طرف اساتذہ توجہ دلا رہے ہیں۔ آپ نے ابھی تک اساتذہ کے کسی بھی مشورے پر عمل کرکے اپنی کسی بھی غلطی کو بہتر نہیں کیا ہے ( فار دی ریکارڈ)۔
جس غزل کی استاد ،الف عین بات کررہے ہیں پہلے اس غزل کے زیرِ تبصرہ شعروں کو دوبارہ کہیے اور استاد کی رائے لیجیے، پھر آگے بڑھیے۔ مع السلام

بہت شکریہ خلیل بهائی - اور بتائیں موسم کیسا ہے وہاں کا ؟
عظیم — نومبر 6، 2014 9:28 شام

روگ جب سر پہ چڑھ کے بولتا ہے
راز کون و مکاں کے کهولتا ہے
حرف ناصح برا نہیں لیکن
آپ جذبوں کو میرے تولتا ہے
کوئی آتا نہیں تسلی کو
خون میرا نہ جانے کهولتا ہے
بن پئے بهی یہ آپ کا مجنوں
مست ہے دیکهئے تو ڈولتا ہے
میں جو بولا تو لوگ بولیں گے
دیکهو کتنا عظیم بولتا ہے
عظیم — نومبر 6، 2014 9:40 شام
عظیم ہمارا دوستانہ مشورہ مانیے اور دھڑا دھڑ غزلین پوسٹ کرنے کے بجائے ، ان غلطیوں پر توجہ دیجیے جن کی طرف اساتذہ توجہ دلا رہے ہیں۔ آپ نے ابھی تک اساتذہ کے کسی بھی مشورے پر عمل کرکے اپنی کسی بھی غلطی کو بہتر نہیں کیا ہے ( فار دی ریکارڈ)۔
جس غزل کی استاد ،الف عین بات کررہے ہیں پہلے اس غزل کے زیرِ تبصرہ شعروں کو دوبارہ کہیے اور استاد کی رائے لیجیے، پھر آگے بڑھیے۔ مع السلام

خلیل بھائی یہ کام بابا پر چھوڑ رکھئے ۔
عظیم — نومبر 6، 2014 11:00 شام

بارشیں تک ڈرا رہی ہیں آج
ساتھ اپنے رلا رہی ہیں آج
میں بهی زندہ ہوں اس خرابے میں
شور کرکے بتا رہی ہیں آج
بارشیں تک ستا رہی ہیں آج
بارشیں آزما رہی ہیں آج
عظیم — نومبر 6، 2014 11:41 شام

کہوں تو کیا کہوں بابا
کہو تو چپ رہوں بابا
سمجھ میں کچھ نہیں آتا
میں آخر کون ہوں بابا
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 7، 2014 1:42 صبح
خلیل بھائی یہ کام بابا پر چھوڑ رکھئے ۔
بابا بیچارے کی جان بخشی کردیجیے۔ یا پھر انہیں یہ غزلیں ذاتی پیغام میں بھیج دیا کیجیے۔ نا کوئی اور پڑھے گا، اور نا ہی جزُ بزُ ہوگا۔
نوٹ: دیکھیے ہمارے تبصرے پر بابا نے بھی مہرِ تصدیق ثبت کی ہے۔
:act-up:
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 7، 2014 2:31 صبح

بارشیں تک ڈرا رہی ہیں آج
ساتھ اپنے رلا رہی ہیں آج
میں بهی زندہ ہوں اس خرابے میں
شور کرکے بتا رہی ہیں آج
بارشیں تک ستا رہی ہیں آج
بارشیں آزما رہی ہیں آج

موسموں کا مزاج مت دیکھو!
موسموں کو بدل ہی جانا ہے
ان رتوں کا مزاج مت دیکھو
ان رتوں کو بدل ہی جانا ہے
بارشوں کا مزاج مت دیکھو
بارشوں کو تو پل میں تھمنا ہے
بارشیں گر ستا رہی ہیں آج
بارشیں گر جلا رہی ہیں آج
بارشیں آزمارہی ہیں آج
بارشوں کو تو پل میں تھمنا ہے
اور مسافر کو آگے جانا ہے
عظیم — نومبر 7، 2014 12:08 شام

دامنِ تار تار دیکهوں مَیں
آپ اپنا شکار دیکهوں مَیں
حیف حسرت کہ اِن خزاؤں میں
اپنی خاطر بہار دیکهوں مَیں
منزلیں آپ کی مبارک ہیں
کیونکہ راہ فرار دیکهوں میں
دل ذرا ٹهہر چار دن جی کر
اب تو اپنا شعار دیکهوں میں
آزمائش بهی اسقدر اعلی
اور اپنا قرار دیکهوں میں
دیکهنے واسطے ہے کیا میرے
اپنے آگے غبار دیکهوں میں
ہو سکے تو سکون اپناؤں
کیا ہے صبر و قرار دیکهوں میں
مر تو یوں بهی ہے جانا کیوں خود کو
آج زندہ نہ مار دیکهوں میں
رہنے دو زندگی کا غم صاحب
چار دن کی بہار دیکھوں میں
عظیم — نومبر 7، 2014 12:09 شام
بابا مجھے نہیں معلوم کہ کہاں ارسال کرنی ہے ۔ اور کیوں ۔
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 7، 2014 1:53 شام
بابا مجھے نہیں معلوم کہ کہاں ارسال کرنی ہے ۔ اور کیوں ۔
اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کے لیے اصلاحِ سخن میں ایک دھاگہ بناکر آپ کی ساری غزلیں اس میں منتقل کردیتے ہیں؟ پھر اگلی غزلیں بھی اسی میں پوسٹ کرتے رہیے۔
عظیم — نومبر 7، 2014 2:35 شام
اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کے لیے اصلاحِ سخن میں ایک دھاگہ بناکر آپ کی ساری غزلیں اس میں منتقل کردیتے ہیں؟ پھر اگلی غزلیں بھی اسی میں پوسٹ کرتے رہیے۔

جی خلیل بهائی - اگر ممکن ہے تو پلیز - اور اس سب کو غزلیں کہنے کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے -
عظیم — نومبر 7، 2014 10:23 شام
پہلی​
عظیم — نومبر 7، 2014 10:30 شام
وقفہ​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-121