OTE="عظیم, post: 1332349, member: 7507"]
عشق کے حوالوں سے اُن کو خوف آتا ہے
درد کی مثالوں سے اُن کو خوف آتا ہے
میں کہوں محبت میں جان تک لٹا دوں گا
میرے ان خیالوں سے اُن کو خوف آتا ہے
عاجزی تو لازم تھی پر اَنا کے عادی ہیں
سر جھکانے والوں سے اُن کو خوف آتا ہے
پوچھ لوں کبھی اُن سے ساتھ کب تلک دیں گے
میرے ان سوالوں سے اُن کو خوف آتا ہے
بوجھ اپنے کاندھوں پر میں اُٹھاؤں صدیوں کا
گزرے چند سالوں سے اُن کو خوف آتا ہے
کیوں عظیم آئیں وہ تجھ سے ملنے اس گھر میں
اُجڑے گھر کے جالوں سے اُن کو خوف آتا ہے
شاید آپ کی انہی نئ چالوں سے اُن کو خوف آتا ہے ۔ہا ہا (مذاق ) ماشاءاللہ بہت پیاری غزل[/QUOTE]
عشق کے حوالوں سے اُن کو خوف آتا ہے
درد کی مثالوں سے اُن کو خوف آتا ہے
عاجزی تو لازم ہے پر اَنا کے عادی ہیں
سر جھکانے والوں سے اُن کو خوف آتا ہے
میں کہوں محبت میں جان تک لٹا دوں گا
میرے ان خیالوں سے اُن کو خوف آتا ہے
پوچھ لوں کبھی اُن سے ساتھ کب تلک دو گے
میرے ان سوالوں سے اُن کو خوف آتا ہے
بوجھ اپنے کاندھوں پر میں اُٹھاؤں صدیوں کا
گزرے چند سالوں سے اُن کو خوف آتا ہے
کیوں عظیم آئیں وہ تجھ سے ملنے اس گھر میں
اُجڑے گھر کے جالوں سے اُن کو خوف آتا ہے