عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — نومبر 30، 2014 9:22 شام

چلے آؤ کہ زلفوں کی ہوا دو
بہت مدت کے جاگے ہیں سلا دو
ہماری بیخودی تو دیکھ لی ہے
اب اپنی عقل بھی آ کر دکھا دو
مرے اشعار پڑھ پائے نہ اغیار
تمہیں اپنے ہو آؤ گنگنا دو
ہمیں رونے سے فرصت کب ہے یارا
کہ آ جاؤ ذرا سا مسکرا دو
خدا کا واسطہ دینے کو آئے
خدارا کفر کا مطلب بتا دو
ابھی ہم میں ہے تھوڑی جان باقی
چلے آؤ کہ اب جینا سکھا دو
اگر اتنے ہی ضدی ہو گئے ہو
تو آ جاؤ تم اپنی ضد چھڑا دو
عظیم — نومبر 30، 2014 9:56 شام

ہو سکے آسمان سے جاؤں
دُور دُنیا جہان سے جاؤں
خُوب اورں نے سر کھپایا ہے
پر نہ تیرے میں دھیان سے جاؤں
آپ کی چاہتوں میں کھویا ہوں
گھر سے جاؤں مکان سے جاؤں
اور امید کیا رکھوں جگ سے
آپ کی اس امان سے جاؤں
مٹ گیا حرف حرف تک میرا
کیوں نہ اپنے بیان سے جاؤں
میری اوقات کیا کہ میں تیرے
اور اپنے گمان سے جاؤں
عشق کرتا ہوں کیوں نہ سج دھج کے
جسم سے جاؤں جان سے جاؤں
عظیم — نومبر 30، 2014 10:11 شام

آنکھ میں کب کسی کے پانی ہے
ہم نے صحرا کی خاک چھانی ہے
آ کبھی دیکھئے رقیبوں میں
اب ہماری بھی قدر دانی ہے
دل نے لاکھوں گمان رکھے پال
پر نہ جانے کہ دل کی مانی ہے
سننا چاہو تو آپ سن لینا
چار دن کی مری کہانی ہے
سخت ٓحیرت میں مبتلا ہوں میں
مہربانوں کی مہربانی ہے
آپ سے چاہئے نہیں کُچھ بیر
ہم فقیروں کی حکمرانی ہے
صاحب اس وقت وجد میں ہیں ہم
دور جانے کی آپ تھانی ہے
عظیم — نومبر 30، 2014 10:18 شام

مر نہ جاؤں میں آہ بھر بھر کے
عشق جیسا گناہ کر کر کے
مار ڈالا ہمیں نہیں معلوم
آپ ایسی نگاہ کر کر کے
مانگئے آپ سے دعا میں کیا
اب تو کرتے ہیں چاہ ڈر ڈر کے
خود کو دیتے ہیں داد بیٹھے ہم
اپنے جینے پہ واہ مر مر کے
مسکرائیں گے بزمِ غیراں میں
تھک گئے آہ آہ کر کر کے
عظیم — نومبر 30، 2014 10:49 شام

عجب تماشا لگا لیا ہے
جہان سر پر اُٹھا لیا ہے
اب آگے اس کے ہو کیا توقع
تمہارا غم جو کما لیا ہے
اسی کو کہتے ہیں دوستی کیا
سبھی کو دشمن بنا لیا ہے
سکون اب تک ہمیں نہ آیا
قرار دل کا گنوا لیا ہے
اب آنکھ میں آئیں اشک لینے
کہ خون تک تو بہا لیا ہے
عظیم کہنے کو غم بڑے تھے
مگر زمانے نے کھا لِیا ہے
خدا ہی جانے ہے کیا بلا عشق
کہ خود کو مجنوں بنا لِیا ہے
عظیم — نومبر 30، 2014 11:09 شام

اور کیا تھا جناب کیا کرتے
آپ اپنا حساب کیا کرتے
ہم فقیروں نے بادشاہی کی
آپ جیسے نواب کیا کرتے
ہم ہیں خانہ بدوش پہلے ہی
اپنا خانہ خراب کیا کرتے
مسکراتے ہیں سوچ کر رکھا
یُوں جو پردہ حجاب کیا کرتے
بھاگ نکلے ہیں ہم گناہوں سے
شیخ صاحب ثواب کیا کرتے
عظیم — دسمبر 1، 2014 12:32 صبح

غیر کے دکھڑے بھلا دیتے ہیں لوگ
اپنی خوشیاں تک سنا دیتے ہیں لوگ
ہم اُٹھاتے پھر رہے ہیں اپنا آپ
ہم کو آ آ کر گرا دیتے ہیں لوگ
بیچنے آئے ہیں سچے جذبے ہم
دیکھئے بدلے میں کیا دیتے ہیں لوگ
ناتوانی کا گلہ کیا آپ سے
ہجر میں پتھر بنا دیتے ہیں لوگ
آپ کیجے کام اپنا دل جلا
دیکھئے کب تک ہوا دیتے ہیں لوگ
مسکرا کر بھی ہمیں آیا نہ چین
عشق میں ٹسوے بہا دیتے ہیں لوگ
صاحب اپنا ہم پتا کب جانئے
اب ہمیں اپنا پتا دیتے ہیں لوگ
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 1، 2014 3:03 صبح
بابا اب اجازت دے دیجئے اصلاح سخن سے جانے کی ۔ کہ ابھی کچھ دن اور ؟
وزل کا زمرہ موجود ہے۔ وہیں آجائیے۔ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے وزل گو شعراء دو۔
بابا :ROFLMAO:
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 1، 2014 3:10 صبح

کب تک غموں کا بھار اُٹھاتا رہوں گا مَیں
دنیا سے اپنا آپ چھپاتا رہوں گا مَیں​
غموں کا بھار کا کیا مطلب ہے؟
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 1، 2014 3:12 صبح

جی کر دکھاؤں گا میں زمانے کو اس طرح
جینے کے کُچھ آداب سکھاتا رہوں گا میں

آداب وزن سے باہر ہورہا ہے۔ آپ نے اداب باندھا ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 1، 2014 3:15 صبح
مرے اشعار پڑھ پائے نہ اغیار
تمہیں اپنے ہو آؤ پڑھ سنا دو
پڑھ سنادو؟ کیا مطلب؟
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 1، 2014 3:18 صبح
میری اوقات کیا ہے میں تیرے
آگے ہر اک نشان سے جاؤں​
تیرے آگے؟
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 1، 2014 3:19 صبح
عشق کرتا ہوں کیوں نہ سج دھج کے
آن سے جاؤں بان سے جاؤں

بان سے جاؤں؟؟؟؟؟؟؟؟؟
عظیم — دسمبر 1، 2014 7:30 صبح
وزل کا زمرہ موجود ہے۔ وہیں آجائیے۔ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے وزل گو شعراء دو۔
بابا :ROFLMAO:

دانے اوپر "دانا" :ROFLMAO:
عظیم — دسمبر 1، 2014 8:21 صبح

ہر کوئی بھول جانا پڑتا ہے
ہر کسی کو بھلانا پڑتا ہے
عشق میں دشت کیا جنوں کیسا
شہر تک چھوڑ جانا پڑتا ہے
شہرتیں یُوں نہیں ملا کرتیں
اِک تماشا لگانا پڑتا ہے
بھوک مٹتی ہے تب کہیں جا کر
خود کو ہی بیچ کھانا پڑتا ہے
اتنا آساں کہاں ہے کہنا بات
منہ پہ تالا لگانا پڑتا ہے
ہارنا چاہتے ہو تُم خود سے
آپ سے جیت جانا پڑتا ہے
شیخ آداب یُوں نہیں آتے
رات بھر سر کھپانا پڑتا ہے
اپنی بربادیوں کا دکھڑا ہی
سب کو گا گا سنانا پڑتا ہے
آ تو جاؤں میں آپ تک لیکن
موت کو منہ دکھانا پڑتا ہے
صاحب ایسا بھی کیا دوانا پن
خود کو رو رو ہنسانا پڑتا ہے
خالد محمود چوہدری — دسمبر 1، 2014 8:28 صبح
2000 کے قریب تو ہو گئیں اب "دیوانِ عظیم" تو ہو ہی جائے
عظیم — دسمبر 1، 2014 8:30 صبح

ٹوٹتیں بجلیاں زمانے پر
ایک میرے ہی مسکرانے پر
سب نے الزام آ دھرے کیا کیا
دیکھ لو آپ کے دوانے پر
ملئے اغیار سے ہی جا کر اب
ہم نہیں اپنے آستانے پر
اور بھی آ گئی ہمیں ہمت
یار لوگوں کے آ ستانے پر
کیا ملا ہے عظیم کو جانیں
بات کو اس طرح گھمانے پر
عظیم — دسمبر 1، 2014 8:56 صبح

در در کی بھیک مانگوں منگتا نہیں ہوں میں
ہر اک سے ٹھیک مانگوں منگتا نہیں ہوں میں
عظیم — دسمبر 1، 2014 9:11 صبح

اُسے کہہ دو خدارا مان جائے
کہ اس سے قبل میری جان جائے
کروں کن کافروں سے جا کے شکوہ
یقیں میرا مرا ایمان جائے
نہ جانے کس طرف کو جاتا جاتا
ترا وحشی ترا نادان جائے
یہ ڈر ہے اس ہماری بیخودی کو
نہ کوئی دیکھ لے پہچان جائے
پلٹتا ہے وہ کب رستوں سے صاحب
جو گھر سے آخرت کی تھان جائے
دکھائی دور سے دیتا ہے کوئی
کہ جب نذدیک سے انسان جائے
چلا جائے اگر دل سے ترا غم
مرے سر سے کوئی احسان جائے
عمر فراز — دسمبر 1، 2014 9:18 صبح
ﺩﺭﺩ، ﻭﮦ ﺁﮒ ﮐﮧ ﺑﺠﻬﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻠﺘﯽ ﺑﻬﯽ
ﻧﮩﯿﮟ
ﯾﺎﺩ، ﻭﮦ ﺯﺧﻢ ﮐﮧ ﺑﻬﺮﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﺳﺘﺎ ﺑﻬﯽ
ﻧﮩﯿﮟ
10527335_745825425507795_4997330697799779484_n.jpg

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-131