عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — دسمبر 5، 2014 7:48 صبح
یہ آنچ کی کسریں نکالتے نکالتے اپنے بیٹے کو مت جلا دیجئے گا ، پھر پوچھتے پھریں گے کہ میاں عظیم ہُوا کرتا تھا : )
عظیم — دسمبر 5، 2014 8:07 صبح
خوب، اب ماشاء اللہ بہت بہتری آتی جا رہی ہے، شاباش میاں اعجاز! عظیم تمہارے بڑے اچھے شاگرد واقع ہوئے ہیں
عظیم — دسمبر 5، 2014 8:12 صبح
کوئی پتھر سے نہ مارے مرے دیوانے کو!!! اب تو اچھی شاعری کر رہا ہے!!
بس دو خامیاں محسوس ہوئیں۔
ہائے اُن کی کرم نوازی اُف
کرم نوازی لفظ پر غور کرو، اور ’اف‘ تو بھرتی کا ہے۔
کیا کہوں اُن کی کج ادائی مَیں
کج ادائی میں کوئی کیسے کہہ سکتا ہے، اس کے ’ضمن میں “ یا ’اس کے بارے میں تو ممکن ہے
بتوں والا شعر بھی رواں اور بہتر بنایا جا سکتا ہے

عظیم — دسمبر 5، 2014 8:32 صبح
ہاں بیٹا عظیم مہارت بھی آتے آتے آئے گی۔ بہت تیزی سے آ رہی ہے
عظیم — دسمبر 5، 2014 12:25 شام
من نہ دانم فاعلاتن فاعلات
:ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 5، 2014 1:39 شام
بابا:ROFLMAO:
عظیم — دسمبر 5، 2014 1:45 شام

خلیل بهائی ایک بات یاد رکهئے گا یہ سب مذاق نہیں ہے - احتیاط کیجئے کل کو شرمندہ نہ ہونا پڑے وکیل تگڑا کیا ہے میں نے -
عظیم — دسمبر 5، 2014 2:03 شام
محمد خلیل الرحمٰن بهائی ایک بات تو بتاؤ - آپ شروع سے ایسے مزاح پسند انسان ہیں کہ اب ہوئے ؟
عظیم — دسمبر 5، 2014 2:21 شام

الف عین — دسمبر 5، 2014 3:55 شام
نظم تو اچھی ہے۔ اور درست ہے، (سوائے دو حرفی ’نہ‘ کے جسے قبول کر لیا جاتا ہے)۔
لیکن گزلوں میں صرف دو غزلیں ہی کہی جا سکتی ہیں، باقی تو تک بندیوں کی ذیل میں آئیں گی۔ ان پر بھی مہرِ پسندیدگی لگا دی ہے پہچان کے لئے
عظیم — دسمبر 5، 2014 3:56 شام
نظم تو اچھی ہے۔ اور درست ہے، (سوائے دو حرفی ’نہ‘ کے جسے قبول کر لیا جاتا ہے)۔
لیکن گزلوں میں صرف دو غزلیں ہی کہی جا سکتی ہیں، باقی تو تک بندیوں کی ذیل میں آئیں گی۔ ان پر بھی مہرِ پسندیدگی لگا دی ہے پہچان کے لئے

جی بابا -
عظیم — دسمبر 5، 2014 9:37 شام

پھر سے اپنے دکھ سنانے آ گئے
ہم بھری محفل رلانے آ گئے
آپ رکھئے گا تغافل ہم سے لاکھ
ہم کو ملنے کے بہانے آ گئے
ہوش والو عقل کی باتیں کرو
بات سننے کو دوانے آ گئے
جب نہ دیکھا جا سکا اپنا یہ حال
آپ لوگوں کو بتانے آ گئے
ہم ہماری بیخودی میں مست تھے
بن کے بوڑھے تک نیانے آ گئے
کس تعلق کو رکھا ہم استوار
کیا سے کیا رشتے نبھانے آ گئے
چھپ سکے نہ زخم دل کے جب کبھی
یار لوگوں کو دکھانے آ گئے
خوب روئے پر نہیں بولا کئے
جب خلیل انکل ستانے آ گئے
کیوں ستایا جا رہا ہوں میں عظیم
اب تو غم بھی رحم کھانے آ گئے
عظیم — دسمبر 5، 2014 10:10 شام
۔
عمر فراز — دسمبر 6، 2014 10:11 صبح
ﺍﺭﮮ ﭘﺎﮔﻞ ۔۔۔ ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ
ﺑﮭﻮﮐﯽ ﮬﮯ (( ...
............... ............... ............... ...............
..............
ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮐﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﺎ ﺭﻋﺐ
ﮈﺍﻟﺘﮯ ﮬﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺮﺱ ﮐﮭﺎﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺣﺴﺎﻥ
ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ۔
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺧﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺍﺟﺰﺁ ﺑﮍﮮ
ﮔﮩﺮﮮ ﮬﯿﮟ ۔
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﭘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ
ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮬﮯ ۔
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﺟﺎﻥ
ﮐﺮ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺟﺴﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﺴﯿﺤﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻣﻼ ﮬﻮ ۔
ﻣﺮﯾﺾ ﮐﺎ ﺑﺲ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﻓﺮﻁِ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ
ﺍﭘﻨﺎ ﮈﯾﺮﮦ ﺍﺱ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ
ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﭘﮍﺍ ﺭﮬﮯ ۔
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﻮﺕ ﮨﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﮯ ۔
ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺍﺱ ﻗﯿﺪﯼ ﺳﮯ ﺟﺴﮯ ﻋﻤﺮ
ﻗﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺧﺼﻮﺻﯽ
ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﻠﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﮬﻮ ۔
ﻗﯿﺪﯼ ﮐﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﻭﮦ
ﺷﺨﺺ ﺁﺗﺎ ﺭﮬﮯ ﮔﺎ ۔
ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﻃﻮﻓﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ
ﮐﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﺷﺨﺺ ﻏﯿﺒﯽ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ
ﻋﻄﯿﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﮬﻮ ۔
ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﮐﺘﮯ ﮐﻮ
ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ
ﺑﮭﻮﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﮨﮉﯼ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮬﻮ
ﮐﯿﺎ ﺍُﻥ ﺭﺍﮬﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﮦ ﮐﺘﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﭘﺎﮰ ﮔﺎ ۔
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﺑﮍﯼ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮬﻮﺗﯽ
ﮬﮯ ۔
ﺍﺱ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﻭﮦ ﺍﺱ
ﺳﮯ ﻣﺮﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﭩﮑﺎﺭﺍ ﻧﺎ ﭘﺎ ﺳﮑﺎ ۔
ﺍﺱ ﮐﮭﻮﻧﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ
ﺍﭨﮑﯽ
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭼﻤﮑﺘﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ
ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﮔﮭﺎﭦ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﺎ۔
ﮔﻤﻨﺎﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻣﻮﺭﯼ ﮐﻤﺎﺋﯽ ۔ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺴﺎ
ﺟﺰﺑﮧ ﮬﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﭼﮩﺎﺭﺩﺍﻡ
ﭨﮭﺎﭨﮭﯿﮟ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﻠﭽﻞ
ﻣﭽﺎﮰ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮬﯿﮟ
318315751697174
عمر فراز — دسمبر 6، 2014 10:25 صبح
ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﮐﮭﻮﻝ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮ
ﯾﮧ ﺻﻔﺤﮧ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ
ﻣﻘﺎﻡ ﺻﺒﺮ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ
ﺣﺪِ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ
ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﯽ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ
ﺍﮔﺮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ
ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﻟﻮ
ﮐﮧ ﮨﻢ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ ؟
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ
10408029_317404011788348_6256841747921951589_n.jpg

عمر فراز — دسمبر 6، 2014 10:26 صبح
ﺳﭙﻨﮯ ﺩﮮ ﻭﭺ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﻣﺎﮨﯽ ﻣﻠﯿﺎ "
ﺗﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﻞ ﻭﭺ ﭘﺎ ﻟﯿﺎﮞ ﺑﺎﮨﻮﺍﮞ "
ﮈﺭ ﺩﯼ ﻣﺎﺭﯼ ﺍﮐﮧ ﻧﮧ ﮐﮭﻮﻻﮞ،
ﮐﺘﮭﮯ ﻓﯿﺮ ﻭﭼﮭﮍ ﻧﮧ ﺟﺎﻭﺍﮞ !!!....
--------------- --------------- ------
10509767_317400468455369_5977473781591866184_n.jpg
خالد محمود چوہدری — دسمبر 6، 2014 10:31 صبح
اللہ کرے زورِ سخن عظیم تر
عظیم — دسمبر 6، 2014 9:34 شام
آپ کو اپنا بنا کر جائیں گے
ہم زمانا سر اُٹھا کر جائیں گے
روک سکتا ہے کوئی تو روک لے
آپ کی گلیاں سجا کر جائیں گے
ہم نہیں ہٹتے کبھی پیچھے کہ ہم
آگے آگے کی سنا کر جائیں گے
کیوں کسی سے چھپ کے بیٹھیں آپ میں
اپنی آنکھیں بھی دِکھا کر جائیں گے
بات کو پلٹا دِیا سب رو دئے
بات کر سیدھی ہنسا کر جائیں گے
یونہی بیٹھے کیوں رہیں ہم شہر میں
اپنی مجبوری بتا کر جائیں گے
رہنے دیجے اُونچی باتوں کو عظیم
سب سمجھنے میں خطا کر جائیں گے
عظیم — دسمبر 7، 2014 3:10 صبح
بابا ابھی تک اردو ہی نہیں آئی تو پپو پاس کیسے ہو گا ۔
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 7، 2014 5:01 صبح
بابا ابھی تک اردو ہی نہیں آئی تو پپو پاس کیسے ہو گا ۔
بابا:ROFLMAO:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-135