عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — دسمبر 7، 2014 9:08 صبح

خلیل بهائی جب آپ کو اردو نہیں آتی تهی تب آپ کون سی زبان سمجهتے تهے ؟
الف عین — دسمبر 7، 2014 11:57 صبح
آپ کو اپنا بنا کر جائیں گے
ہم زمانا سر اُٹھا کر جائیں گے
÷÷زمانہ سر اٹھانا؟؟؟
یوں کہو
ہم جہاں میں سر اُٹھا کر جائیں گے۔ جائیں گے ردیف کی مجبوری ہے، ورنہ یہ مضمون اس طرح درست ادا نہیں ہوتا۔ کہاں جائیں گے؟ یہ بھی تو کچھ اتا پتا ملے!!
روک سکتا ہے کوئی تو روک لے
آپ کی گلیاں سجا کر جائیں گے
روکنے کا گلیاں سجانا سے کیا تعلق ہے؟
ہم نہیں ہٹتے کبھی پیچھے کہ ہم
آگے آگے کی سنا کر جائیں گے
÷÷دوسرا مصرع بے معنی ہے۔
کیوں کسی سے چھپ کے بیٹھیں آپ میں
اپنی آنکھیں بھی دِکھا کر جائیں گے
۔۔آپ میں؟؟ بے ربط شعر ہے
بات کو پلٹا دِیا سب رو دئے
بات کر سیدھی ہنسا کر جائیں گے
÷÷یہ بھی تک بندی ہے
یونہی بیٹھے کیوں رہیں ہم شہر میں
اپنی مجبوری بتا کر جائیں گے
۔۔ایضاً
رہنے دیجے اُونچی باتوں کو عظیم
سب سمجھنے میں خطا کر جائیں گے
اونچی باتیں کیوں؟ ایسی باریں کہا جا سکتا ہے۔
بس یہی شعر ہے جس میں ’جائیں گے‘ لا درست استعمال ہے
الف عین — دسمبر 7، 2014 12:00 شام
پھر سے اپنے دکھ سنانے آ گئے
ہم بھری محفل رلانے آ گئے
یہ غزل بہتر ہے۔ لیکن مطلع میں بھری محفل ’کو‘ رلانے تو آ سکتے ہو، صرف محفل رلانا کوئی محاورہ نہیں
عظیم — دسمبر 7، 2014 12:06 شام
پھر سے اپنے دکھ سنانے آ گئے
ہم بھری محفل رلانے آ گئے
یہ غزل بہتر ہے۔ لیکن مطلع میں بھری محفل ’کو‘ رلانے تو آ سکتے ہو، صرف محفل رلانا کوئی محاورہ نہیں

آپ کو اپنا بنا کر جائیں گے
ہم زمانا سر اُٹھا کر جائیں گے
÷÷زمانہ سر اٹھانا؟؟؟
یوں کہو
ہم جہاں میں سر اُٹھا کر جائیں گے۔ جائیں گے ردیف کی مجبوری ہے، ورنہ یہ مضمون اس طرح درست ادا نہیں ہوتا۔ کہاں جائیں گے؟ یہ بھی تو کچھ اتا پتا ملے!!
روک سکتا ہے کوئی تو روک لے
آپ کی گلیاں سجا کر جائیں گے
روکنے کا گلیاں سجانا سے کیا تعلق ہے؟
ہم نہیں ہٹتے کبھی پیچھے کہ ہم
آگے آگے کی سنا کر جائیں گے
÷÷دوسرا مصرع بے معنی ہے۔
کیوں کسی سے چھپ کے بیٹھیں آپ میں
اپنی آنکھیں بھی دِکھا کر جائیں گے
۔۔آپ میں؟؟ بے ربط شعر ہے
بات کو پلٹا دِیا سب رو دئے
بات کر سیدھی ہنسا کر جائیں گے
÷÷یہ بھی تک بندی ہے
یونہی بیٹھے کیوں رہیں ہم شہر میں
اپنی مجبوری بتا کر جائیں گے
۔۔ایضاً
رہنے دیجے اُونچی باتوں کو عظیم
سب سمجھنے میں خطا کر جائیں گے
اونچی باتیں کیوں؟ ایسی باریں کہا جا سکتا ہے۔
بس یہی شعر ہے جس میں ’جائیں گے‘ لا درست استعمال ہے

جی بابا -
عظیم — دسمبر 7، 2014 12:35 شام
پھر سے اپنے دکھ سنانے آ گئے
ہم بھری محفل رلانے آ گئے
یہ غزل بہتر ہے۔ لیکن مطلع میں بھری محفل ’کو‘ رلانے تو آ سکتے ہو، صرف محفل رلانا کوئی محاورہ نہیں

پھر سے اپنے دکھ سنانے آ گئے
اک تماشا سا لگانے آ گئے
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 7، 2014 3:10 شام

ہم ہماری بیخودی میں مست تھے
بن کے بوڑھے تک نیانے آ گئے
دوسرا مصرع بے معنی لگ رہا ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 7، 2014 3:12 شام

کس تعلق کو رکھا ہم استوار

ولی دکنی کی زبان میں تو گوارا کیا جاسکتا ہے اس مصرع کو ، لیکن موجودہ اردو میں شاید نہ ہو۔
عظیم — دسمبر 7، 2014 3:34 شام
ولی دکنی کی زبان میں تو گوارا کیا جاسکتا ہے اس مصرع کو ، لیکن موجودہ اردو میں شاید نہ ہو۔

کس تعلق کو رکها ہم استوار
کیا تعلق ہم نے رکها استوار
کس تعلق کو کیا ہم استوار
خالد محمود چوہدری — دسمبر 7، 2014 3:59 شام
عظیم کی عظمت سبحان اللہ
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 8، 2014 3:40 صبح
کس تعلق کو رکها ہم استوار
کیا تعلق ہم نے رکها استوار
کس تعلق کو کیا ہم استوار
ان تینوں میں سے ایک تو صحیح ہے اور دو اب بھی غلط ہیں۔:ROFLMAO:
عظیم — دسمبر 8، 2014 7:26 صبح
پھر سے اپنے دکھ سنانے آ گئے
اک تماشا سا لگانے آ گئے
آپ رکھئے گا تغافل ہم سے لاکھ
ہم کو ملنے کے بہانے آ گئے
ہوش والو عقل کی باتیں کرو
بات سننے کو دوانے آ گئے
جب نہ دیکھا جا سکا اپنا یہ حال
آپ لوگوں کو بتانے آ گئے
ہم ہماری بیخودی میں مست تھے
بن کے بوڑھے تک نیانے آ گئے
کس تعلق کو رکھا ہم استوار
کیا سے کیا رشتے نبھانے آ گئے
چھپ سکے نہ زخم دل کے جب کبھی
یار لوگوں کو دکھانے آ گئے
خوب روئے پر نہیں بولا کئے
جب خلیل انکل ستانے آ گئے
کیوں ستایا جا رہا ہوں میں عظیم
اب تو غم بھی رحم کھانے آ گئے
عظیم — دسمبر 8، 2014 7:31 صبح
ان تینوں میں سے ایک تو صحیح ہے اور دو اب بھی غلط ہیں۔:ROFLMAO:

بہت بہت شکریہ خلیل بھائی ۔
عظیم — دسمبر 8، 2014 7:54 صبح
جو ایک مصرعے کی رگ نہ جانیں جو اک بناوٹ کو شعر مانیں
غضب خدا کا عظیم ہم کو غضب کا لکهنا سکها رہے ہیں
بہار نوچے گلاب سارے یہ خوشبوؤں کی انا کے مارے
جو ایک بلبل کی آہ تک کو خوشی کا ذریعہ بنا رہے ہیں !
عظیم — دسمبر 8، 2014 7:55 صبح
عظیم کی عظمت سبحان اللہ

صدق اللہ العظیم
عظیم — دسمبر 8، 2014 8:22 صبح
ہم دکھوں کی ترجمانی کیا کریں
آپ لوگوں کی کہانی کیا کریں
بعد اس رحمت کے اپنی اور وہ
مہرباں بھی مہربانی کیا کریں
ٹوٹتیں ہیں بجلیاں دنیا میں جب
ہم بلائیں آسمانی کیا کریں
ہو لِیا خوش ہو کے بھی ہم نے اداس
آنکھ میں رہتا ہے پانی کیا کریں
کُچھ خبر صاحب ہمیں اپنی نہیں
ہم کسی کی میزبانی کیا کریں
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 8، 2014 10:09 صبح
بس اک تمہاری ہی چاہ نے لوٹا یہ صبر ٹوٹا تو ساتھ چهوٹا
وگرنہ دهوکا تو خیر یوں بهی زمانے والوں سے کها رہے ہیں
پہلا مصرع وزن سے باہر ہورہا ہے۔ توجہ فرمائیے
عظیم — دسمبر 8، 2014 10:18 صبح
پہلا مصرع وزن سے باہر ہورہا ہے۔ توجہ فرمائیے

خلیل بھائی آپ تھک جاؤ گے ۔ ان شاء اللہ میں خود ہی ان سب کاوشوں کو دیکھ لوں گا ۔ آپ اصلاح سخن کے دوسرے دھاگوں کا رُخ کیجئے میرا نہیں کسی اور کا تو بھلا ہو جائے آپ کے اس قیمتی وقت سے ۔
بہت سی دعائیں اور آداب ۔
الف عین — دسمبر 8، 2014 4:36 شام
خلیل میاں میری کمی پوری کر رہے ہیں۔ کہ میں نے یہاںآنا کم کر دیا ہے، اور آتا بھی ہوں تو دس بارہ غزلوں کی تاب نہیں ہوتی!! تم ان کی ’صلاحوں‘ کا برا مان رہے ہو؟؟ ان کے ہی الفاظ میں وہ اصلاح نہیں کرتے، محض صلاح دیتے ہیں
عظیم — دسمبر 8، 2014 4:58 شام
خلیل میاں میری کمی پوری کر رہے ہیں۔ کہ میں نے یہاںآنا کم کر دیا ہے، اور آتا بھی ہوں تو دس بارہ غزلوں کی تاب نہیں ہوتی!! تم ان کی ’صلاحوں‘ کا برا مان رہے ہو؟؟ ان کے ہی الفاظ میں وہ اصلاح نہیں کرتے، محض صلاح دیتے ہیں

جی بابا مجهے برا اس لئے لگا کہ ان کی صلاح اکثر اوقات "بے تکی " ( معاف کیجئے گا ) لگتی ہے - اب اس آخری صلاح کو ہی لیجئے - وہ سب پرانی غزلیں ہیں اور آپ خود ہی دیکهئے کیا صرف ایک یہی مصرع غلط ہے جو توجہ کا طالب ہے ؟ اس طرح تو خلیل بهائی تهک جائیں گے اور مجهے بهی تهکا دیں گے - اسی مراسلے میں کئی اور مصرعے غلط ہیں بلکہ کئی جگہ تو تلفظ کی غلطیاں بهی ہیں - مجهے ان کا اس ایک مصرع کو اٹها کر لانا سمجھ نہیں آیا اسی لئے وہ سب لکها اور حق بهی ہے بابا آپ ہی بتائیے کب تک ایک ایک مصرع کو اٹها کر لائیں گے خلیل بهائی ؟
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 9، 2014 3:17 صبح
ہم نہیں تھکیں گے جب تک آپ اپنی ڈھائی ہزار سے زیادہ غزلوں کو ہماری صلاح اور اساتذہ کی اصلاح کے بعد دوبارہ پیش نہیں کردیتے۔ :)
بے تکی تو آپ کو لگے گی اس لیے کہ آپ کے شعر پر اعتراض ہے۔ اگر غلط ہے تو بتلائیے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-136