عظیم کی شاعری برائے اصلاح و تنقید و تبصرہ

عظیم — دسمبر 10، 2014 8:40 صبح
ذرا وضاحت فرمادیتے تو آسانی ہوجاتی۔ آپ کو یہ کیونکر علم ہوتا ہے کہ کوئی غلطی اگلے چند روز میں آپ کو معلوم ہونے والی ہے۔ نیز اس سے آپ کا وقت کیسے بچتا ہے؟ پھر ہمارے اس غلطی کی قبل از وقت نشاندھی کرنے سے کیا نقصان ہوتا ہے؟
تفصیلی جواب لکھ کر عند اللہ ماجور ہوں۔

بہت شکریہ خلیل بهائی آپ میری غلطیوں کی نشاندہی فرماتے رہئے اصلاح بابا سے مل جاتی ہے صلاح آپ دیتے رہئے - اور جیسا آپ کو مناسب لگے اگر پچهلی غزلوں میں سے کوئی مصرع اٹها کر لانا ہے لائیے - جو آپ بہتر سمجهیں - مجهے اس بحث سے دور رہنے کی اجازت دیجئے -
آپ کا بہت بہت شکریہ خلیل بهائی اور کہا سنا معاف کر دیجئے گا .
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 10، 2014 9:13 صبح
امیر مینائی کا شعر
جب سے بُلبل تو نے دو تنکے لئے
ٹُوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لئے
بہت اعلیٰ۔ بہت شکریہ محمد حفیظ الرحمٰن
عظیم — دسمبر 10، 2014 10:36 صبح

کون ہوں میں کوئی بتائے گا
مجھ پہ اتنا سا رحم کھائے گا
کیا یونہی بیٹھ کر یہ بیچارہ
رات دن اشک ہی بہائے گا
دیکھ لیجے گا میرے نغموں کو
اب تو سارا جہان گائے گا
دور بیٹھا ہوں آپ سے اپنے
کیا زمانہ قریب آئے گا
پوچھتا ہوں میں آپ لوگوں سے
کون ہے جو مجھے ستائے گا
میں نہ کہتا تھا عشق لاحق ہے
آپ اپنا علاج آئے گا
ان سمجھدار صاحبوں میں بیٹھ
مُجھ سا پگلا سمجھ ہی جائے گا
خالد محمود چوہدری — دسمبر 10، 2014 10:54 صبح
ورنہ یہ بدگمان جائے گا
کہاں؟
عظیم — دسمبر 10، 2014 11:00 صبح

جان پہچان ۔
عظیم — دسمبر 10، 2014 11:16 صبح

صبر بھی آ ہی جائے گا مجھ کو
کم تلک غم ستائے گا مجھ کو
اپنی غزلوں کی اِس خماری بعد
ہوش کب تک نہ آئے گا مجھ کو
عظیم — دسمبر 10، 2014 11:42 صبح

عشق ہے یا کوئی بلا سی ہے
مُجھ سے ہستی مری خفا سی ہے
کیا ہوا ہے مجھے خدا جانے
دل پہ چھائی ہوئی اداسی ہے
میں نہیں کر رہا کوئی شکوہ
مُجھ سے دنیا مگر خفا سی ہے
زندگی کیا کہ میری نظروں میں
ایک لمحے کی خود شناسی ہے
جانے کیا رہ گئی ہے خواہش اب
لب پہ میرے جو اک دعا سی ہے
چاہتا ہوں تجھے اے بت کیونکہ
تجھ میں خوبی مرے خدا سی ہے
کرتا پھرتا ہوں عیب پر بھی مان
مُجھ میں باقی ابھی انا سی ہے
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 10، 2014 6:48 شام
دور بیٹھا ہوں آپ سے اپنے
مطلب؟
یعنی اپنے آپ سے دور بیٹھا ہوں؟
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 10، 2014 6:50 شام
آپ اپنا علاج آئے گا​

؟؟؟
آپ اپنا علاج لائے گا، آپ اپنا علاج پائے گا یا آپ اپنا علاج آئے گا؟؟؟
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 10، 2014 6:55 شام
اپنی غزلوں کی اِس خماری بعد​
عظیم بھائی !!!!
عظیم — دسمبر 10، 2014 7:00 شام

بہت شکریہ خلیل بهائی - دو چار دن کی بات ہے ان شاء اللہ بہتر لکهوں گا -
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 10، 2014 7:14 شام
بہت شکریہ خلیل بهائی - دو چار دن کی بات ہے ان شاء اللہ بہتر لکهوں گا -
آپ بہتر لکھ سکتے ہیں اور آپ نے بہتر لکھا ہے، لیکن وہ اس انبار میں کہیں کھوگیا ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 10، 2014 7:29 شام
صبر بھی آ ہی جائے گا مجھ کو
کم تلک غم ستائے گا مجھ کو
اپنی غزلوں کی اِس ہتک کے بعد
ہوش کب تک نہ آئے گا مجھ کو​
عظیم — دسمبر 10، 2014 7:29 شام
آپ بہتر لکھ سکتے ہیں اور آپ نے بہتر لکھا ہے، لیکن وہ اس انبار میں کہیں کھوگیا ہے۔

اس انبار میں سے بہتر کو ڈهونڈ نکالنا آسان ہے خلیل بهائی لیکن اس بہتر کی پہچان مشکل ہے - میں اسی بہتر کو پہچان جانے کے قابل ہونا چاہتا ہوں - شاید ایسا ہو جائے -
عظیم — دسمبر 10، 2014 10:27 شام
امیر مینائی کا شعر
جب سے بُلبل تو نے دو تنکے لئے
ٹُوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لئے

بہت خوب
عظیم — دسمبر 14، 2014 10:18 شام

صبر بھی آ ہی جائے گا مجھ کو
کب تلک غم ستائے گا مجھ کو
اپنی غزلوں کے اس خمار کے بعد
ہوش کب تک نہ آئے گا مجھ کو
عظیم — دسمبر 15، 2014 10:09 شام
دیکھ لیجے گا میرے نغموں کو
اب تو سارا جہان گائے گا

بابا میں نے کوئی نغمہ گایا بھی آج تک بیچ اک دانہ کے سوا ؟
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 16، 2014 3:22 صبح
ابھی تک تو نہیں
عظیم — دسمبر 16، 2014 3:27 صبح

یہ کچھ سر میں تھی خلیل بھائی ۔
اے غم ہجراں ذرا سا چین کھونے دے مجھے
میں کہیں پتھر نہ ہو جاؤں تو رونے دے مجھے
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 22، 2014 5:11 صبح

در در کی بھیک مانگوں منگتا نہیں ہوں میں
ہر اک سے ٹھیک مانگوں منگتا نہیں ہوں میں
اس ایک شعر پر پوری وزل ہونی چاہیے۔
مدعا عنقا ہے اپنے عالم تحریر کا​

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B8%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.66516/page-138