ویسے خلیل بھائی اس سرگوشی والے نئے چٹکلے کا بھی ایک عجیب مزہ ہے ۔
ویسے خلیل بھائی اس سرگوشی والے نئے چٹکلے کا بھی ایک عجیب مزہ ہے ۔
بجلیاں گرتی ہیں نہ کہ ٹوٹتیں ہیں یا ٹوٹتی ہیں۔
عظیم صاحب۔ خود دیکھنے میں پھر بھی غلطی رہ جانے کا امکان رہتا ہے۔ بہت سی چیزیں نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔ دوسرے جتنی بھی تنقید کریں وہ فائدہ مںد ہی ہوتی ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی طویل نظم " ویسٹ لینڈ " جب ایزرا پاوءنڈ کو اصلاح کے لئے بھیجی تھی تو اُس نے کاٹ پیٹ کرکے نظم کو آدھا کر دیاتھا۔ مگر اُس سے یہ ہوا کی نظم کا جھول ختم ہو گیا۔ ٹی ایس ایلیٹ نے بالکل برا نہیں مانا اور ایزرا پاونڈ کی اصلاح کے مطابق ہی نظم کو شائع کروایا۔ آج ٹی ایس ایلیٹ کی " ویسٹ لینڈ " کا دنیا ییں شہرہ ہے۔ میں نے حال ہی میں ایک غزل لگائی تھی " صورتِ حالات جب یوں ہو تو کیا مالی کریں" ۔ اُس میں میں نے لفظ " مرض " کو عوام الناس کے تلفظ کے مطابق استعمال کر لیا تھا اور مجھے اس کا احساس تک نہ ہوا۔ خلیل صاحب کے توجہ دلانےپر ہی احساس ہوا اور میں نے مصرع میں ترمیم کی۔ ذیلی فائدہ یہ ہوا کی مصرع بھی بہتر ہو گیا۔ اصل میں تخلیق اور تخلیق کار کو نکھارنے اور سنوارنے کا کام تو اساتذہ اور نقاد ہی کرتے ہیں۔ اور یہ زحمت نہیں بلکہ رحمت ہوتے ہیں۔
دوانہ، دوانے۔ انیس ویں صدی میں مستعمل تھے۔
یعنی جس غزل کو آپ جلدی میں لکھتے ہیں اور اسے باقی غزلوں میں شامل کرنے کا اعلان کرتے ہیں اس پر تبصرہ ممنوع ہے؟
یعنی آپ کے صاحبِ کشف ہونے میں ہمارے رنگ میں بھنگ ڈال دینے کی وجہ سے کسر رہ جاتی ہے؟
خوش رہیے
ذرا وضاحت فرمادیتے تو آسانی ہوجاتی۔ آپ کو یہ کیونکر علم ہوتا ہے کہ کوئی غلطی اگلے چند روز میں آپ کو معلوم ہونے والی ہے۔ نیز اس سے آپ کا وقت کیسے بچتا ہے؟ پھر ہمارے اس غلطی کی قبل از وقت نشاندھی کرنے سے کیا نقصان ہوتا ہے؟
امیر مینائی کا شعر