مزمل بھائی چونکہ یہ مطلع ہے تو کیا یہاں شاعر کا تصرف کام نہ آئے گا؟؟؟ کہ اس نے مطلع میں اگر حرفِ روی دال ساکن کا انتخاب کیا ہے تو حرکتِ توجیہ کی پابندی ہی نبھائی جائے ؟ نہ کہ ردف کا سوال پیدا کیا جائے؟ ہاں اگر یہ مطلع کے علادہ دیگر ابیات کا حصہ ہوتا تو تب مطلع میں منتخب کیے گئے روی و ردف کی پابندی ملحوظ ِ خاطر رکھی جاتی۔ ذرا وضاحت فرما دیجیے گا۔ شکریہ
آپ کی بات کا جواب :
علمائے قوافی کے محولہ بالا دلائل کو ماننا پڑے گا۔
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
سوال در سوال
جناب ابنِ رضا کے استدلال کے مطابق یہاں صرف ’’دال ساکن‘‘ کا اہتمام لازم ہے۔ تو کیا ہم سمجھ لیں کہ اس غزل میں یہ قوافی بھی درست سمجھے جائیں گے؟ : عِید، دُود، مَرد، بَعد، بُعد، عَبد، قَید، شَہد، خَود؛ وغیرہ
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
اگر مزید وضاحت کی جائے تو سمجھانے کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے:
توجیہہ کی پابندی کیا ہے؟ یعنی ساکن روی سے پہلے والی "حرکت" کی پابندی۔ اب یہاں ساکن روی اگر دال کو مانیں تو اس سے پہلے توجیہہ موجود ہی نہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے حرکت ہے ہی نہیں بلکہ ایک ساکن حرف ہے۔
اور اگر یاد اور شاد کے الف کو روی مانیں تو توجیہہ یعنی زبر میں مطابقت ہوجائے گی۔ لیکن ساتھ ہی روی کی مطابقت بھی ضروری ہوگی۔ مثلاً:
خنجر، بنجر، ازبر، دردر وغیرہ قوافی ہیں۔
ان میں "ر" حرف روی اور توجیہہ ما قبل حرکت یعنی زبر ہے۔ جس طرح اس زبر کی پابندی ضروری ہے اسی طرح اس حرف "ر" کی پابندی بھی ضروری ہے۔
تو وہاں بھی شاد اور یاد میں الف اور الف سے پہلے زبر دونوں ہی کی پابندی ضروری ہے۔ امید ہے بات واضح ہو گئی ہوگی۔