عظیم — مارچ 5، 2014 11:11 شام
عظیم — مارچ 6، 2014 12:54 صبح
عظیم — مارچ 6، 2014 12:59 صبح
ذِکر اُس کا بیاں ہمارا ہو !
سُننے والا جہان سارا ہو !
اَیسا دُنیا میں کیا نظارہ ہو ؟
اَیسا دُنیا میں کیا نظارہ ہو !
کوئی ہوگا کِسی کا ہونے دو !
اُس سے لیکن کہو ہمارا ہو !
کوئی پُوچهے نہ حال، مُفلس کا
یوُں بهی کرنا کِسے گوارا ہو !
بهٹکے پِهرتے ہیں ظاہِروں والے !
حسِ باطن کوئی اشارہ ہو !
دِل کو تِب تک جلائے رکهئے گا !
دِل یہ جب تک نہ جل ۔شرارا ہو !
آپ صاحِب کہاں سے آئیں ہیں ؟
اور یہ کِس کی طرف اشارہ ہو ؟
عظیم — مارچ 6، 2014 1:27 صبح
خوشی سے مر نہ جائیں رحم کیجئے
نہ اتنا پاس آئیں رحم کیجئے
کہیں یہ آپ کی الفت کے مارے
دوبارہ جی نہ پائیں رحم کیجئے
جب ایسی رات ہو تنہائیاں ہوں
نہ ہم سے دور جائیں رحم کیجئے
ابهی تک دید کی نیت ہے پیاسی
نہ یوں پردہ گرائیں رحم کیجئے
ہم ان کے حسن کی کیا کہہ سنائیں
کہ کیسے لفظ لائیں رحم کیجئے
کہاں صاحب- کہاں ہیں آپ صاحب
کسے کس جا بٹهائیں رحم کیجئے
الف عین — مارچ 6، 2014 3:08 صبح
یہ دو اشعار سمجھ میں نہیں آئے۔
بهٹکے پهرتے ہیں ظاہروں والے
حس باطن کوئی اشارہ ہو
دل کو تب تک جلائے رکهئے گا
دل یہ جب تک نہ جل شرارا ہو
دوسری غزل درست ہے لیکن کوئی خاص بات نہیں۔
الف عین — مارچ 6، 2014 3:12 صبح
پہلی غزل میں
کیا لگی بولی ہمارے دام کی
سے کیا مراد ہے۔ دام کی بولی لگنا سمجھ میں نہیں آیا؟
دوسری غزل میں ’پہچاں‘ بھی درست نہیں۔
عظیم — مارچ 6، 2014 4:14 صبح
کوئی جائے اُنہیں پیغام دے دے
لِفافے پر لکها ہے نام دے دے
ہماری عَرضِیاں اُن تک لے جائے
ہمیں چین و سُکوں، آرام دے دے
نہیں ہے ہوش اِتنی اُٹھ کهڑے ہوں
کوئی بڑه کر ہمارا جام دے دے
یہی اِک آرزو ہے اَب ہمارے
وہ اِس رِشتے کو کوئی نام دے دے
تسلی دے نہیں سکتا تو صاحِب !
زمانے سے کہو دُشنام دے دے
عظیم — مارچ 6، 2014 4:17 صبح
یہ دو اشعار سمجھ میں نہیں آئے۔
بهٹکے پهرتے ہیں ظاہروں والے
حس باطن کوئی اشارہ ہو
دل کو تب تک جلائے رکهئے گا
دل یہ جب تک نہ جل شرارا ہو
دوسری غزل درست ہے لیکن کوئی خاص بات نہیں۔
جزاک اللہ
عظیم — مارچ 6، 2014 4:35 صبح
پہلی غزل میں
کیا لگی بولی ہمارے دام کی
سے کیا مراد ہے۔ دام کی بولی لگنا سمجھ میں نہیں آیا؟
دوسری غزل میں ’پہچاں‘ بھی درست نہیں۔
پہچاں کا درست نہ ہونا میرے لئے باعث تعجب ہے از راہ کرم وضاحت فرمائے ..
اللہ بہتر جزا دینے والا ہے
ابن رضا — مارچ 6، 2014 4:40 صبح
پہچاں کا درست نہ ہونا میرے لئے باعث تعجب ہے از راہ کرم وضاحت فرمائے ..
اللہ بہتر جزا دینے والا ہے
شاید پهچان درست لفظ هے
عظیم — مارچ 6، 2014 4:44 صبح
..قدر و قیمت پر دوسروں کی رائے
کیا لگی بولی ہمارے دام کی
لئیق احمد — مارچ 6، 2014 4:50 صبح
دِن اُجالوں میں اندهیرا کر گئے
میرے گهر میں روشنی نے شام کی
یہ زیادہ اچھا لگا
آپ کے پاس لفظوں کی کمی نہیں
عظیم — مارچ 6، 2014 5:01 صبح
طاق نسیاں ! نہ بهول جاوں میں
ان کا احساں نہ بهول جاوں میں
الف عین
عظیم — مارچ 6، 2014 5:07 صبح
دِن اُجالوں میں اندهیرا کر گئے
میرے گهر میں روشنی نے شام کی
یہ زیادہ اچھا لگا
دعائیں آپ کے پاس لفظوں کی کمی نہیں
ابن رضا — مارچ 6، 2014 5:42 صبح
..قدر و قیمت پر دوسروں کی رائے
کیا لگی بولے ہمارے دام کی
دام کی بولی نهیں لگتی. چیز یا انسان یا جاندار کی بولی تو لگ سکتی هے
عظیم — مارچ 6، 2014 5:58 صبح
دام کی بولی نهیں لگتی. چیز یا انسان یا جاندار کی بولی تو لگ سکتی هے
اللہ بہتر جاننے والا ہے
میرے نزدیک مذکورہ مصرعہ درست ہے . شعری اعتبار سے
ابن رضا — مارچ 6، 2014 6:22 صبح
اللہ بہتر جاننے والا ہے
میرے نزدیک مذکورہ مصرعہ درست ہے . شعری اعتبار سے
مصرع غلط کس نے کہا آپ کو جناب، الفاظ کا باہمی ربط مناسبت نہیں رکھتا۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ میری قیمت کیا لگی یا یہ کہ میری بولی کیا لگی ۔ مگر جب ہم کہیں کہ میری قیمت کی بولی کیا لگی تو اس میں 'قیمت کی' اضافی ہونے کے وجہ سے مناسبت کو بگاڑ دے گا۔ یہ ایک دوستانہ رائے ہے اصلاح کی ہماری اوقات نہیں مزید آپ بہتر جانتے ہیں
ًً
انیس الرحمن — مارچ 6، 2014 6:44 صبح
مصرع غلط کس نے کہا آپ کو جناب، الفاظ کا باہمی ربط مناسبت نہیں رکھتا۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ میری قیمت کیا لگی یا یہ کہ میری بولی کیا لگی ۔ مگر جب ہم کہیں کہ میری قیمت کی بولی کیا لگی تو اس میں 'قیمت کی' اضافی ہونے کے وجہ سے مناسبت کو بگاڑ دے گا۔ یہ ایک دوستانہ رائے ہے اصلاح کی ہماری اوقات نہیں مزید آپ بہتر جانتے ہیں
ًً
آئی پی ایل میں پہلے دام طے ہوتے ہیں پھر بولی لگتی ہے۔۔۔ شاید ایسا ہی کچھ ہو۔۔
عظیم — مارچ 6، 2014 2:30 شام
ہم اپنے سب طبیبوں سے بَچا کر
اِک اَیسا دَرد رَکهتے ہَیں چُهپا کر
نہ پُوچهو کِس اَذیت میں ہَیں ہمدم !
کِسی کے دَرد کو دِل میں دَبا کر
وہ خُوش ہیں گر ہمیں زِندہ جَلا کر
تو ہم بهی خُوش ہیں اُن سے دِل لَگا کر
ہمارے دام کی ہم کو خبر ہے !
تم اپنا مول رکهنا بڑه چڑها کر !
یہاں کِس بهاو بکتی ہیں وفائیں
کہو لائیں کیا اپنی بهی اُٹھا کر ؟
اگر اُن سے نہیں جائز شکایت
تو صاحب حوصلہ کر چپ رہا کر !
مِرا تُجھ بِن نہیں ہے اَب گُزارا مان بهی جاؤ
نہ مَر جائے ترے دُکهوں کا مارا مان بهی جاؤ
مُجهے جِس جُرم کی اِتنی سَزائیں مِل چُکیں اُس کا
دوبارہ نام لُوں کیسے ! خدارا مان بهی جاؤ
مِرے ہمراز تُم سے بَس یہی ہے اِلتجا میری
ہُوں اِس سے قَبل مَیں شَیدا تُمہارا مان بهی جاؤ
کَروں گا کیا جو ٹُهکرایا ترے دَر کی سَخاوَت نے
کہاں جائے گا تیرا بے سہارا مان بهی جاؤ
بُہت مجبُور ہے صاحب ! غموں سے چُور ہے صاحب !
مگر یہ ہے فقط تیرا ، تُمہارا ، مان بهی جاؤ
عظیم — مارچ 6، 2014 2:54 شام