جہاں تک میں سمجھا۔
عظیم شہزادتِرے دَر سے اُٹھ کر کِدهر جاوں مَیں
نہیں اِس سے بہتر کہ مَر جاوں میں ؟
تیرے در سے اٹھ کر جانے سے بہتر ہے کہ میں مر ہی جاوں ۔
کِسے ہے تمنائے دُنیا کہو !
گزرنا ہے گر تو گزر جاوں میں
یعنی دنیا کی کس کو تمنا ہے اگر جانا ہی ہے یہاں سے تو کیوں نا چلا ہی جاوں
اُنہیں کیا دِکهاوں میں زخمِ جگر
نہ کچھ کہہ سکوں واں اگر جاوں میں
اگر میں ان کے پاس چلا بھی گیا تو دل و جگر کے زخموں کے بارے میں انہیں کیا بتاوں ،گاکہ وہاں جا کر تو کچھ کہا ہی نہیں جائے گا
نہ رووں نصیبوں پہ اپنے اگر
مِرے ناصِحو ! مان کر جاوں میں
مجھے نصیحت کرنے والو اگر میں اپنی تقدیر پر نہ رووں تو تمہیں مان جاوں گا
نہ آوں گا پهر سے تِری بزم میں
مگر تَب ہو اَیسا اگر جاوں میں
تیری محفل میں دوبارہ نہیں آوں گا مگر یہ تو بعد کی باتیں ہیں میں تو یہاں سے جاوں گا ہی نہیں
کہوں کیا کہ صاحب بہت ہو چُکا
زمِیں میں اَب اپنی اُتر جاوں میں
جناب چھوڑو اب، بہت ہو چکا اچھا تو یہی ہے کے اب اپنی قبر میں جا سووں۔