غزل نُما ہیں خیال سارے
تبھی تولفظوںمیں ہیں اُتارے
خوشی سے نظریں چُرا کے بھاگے
غموں کی بازی میں جان ہارے
کوئی سنوارے مقدروں کو
یا تیری زلفوں کے خم سنوارے
میں جاوں مسجد تو گھر دکھے ہے
جو گھر کو جاوں تو تُو پکارے
دُعا میں مانگا تھا چین دل کا
بھرے ہیں جھولی میں کیوں شرارے
مجھے بھی اُن میں شمار کرنا
جو کچھ سہاروں میں بے سہارے
ازل سے بچھڑا ہوں ساحلوں سے
کہ پھر نہ دیکھےکبھی کنارے
مرے تخیل کو پا سکے جو
وہ میرے لہجے کا رنگ نکھارے
عظیم راہِ کیا راست لائیں
یہ تجھ کو بھٹکے ہوئے ستارے