تری عاشقی میں ہمدم وہ بھی مقام آئے
سرِ شام تیرگی میں غم کے دیئے جلائے
تجھے بھول کر بھی ہم نے کب ہے قرار پایا
تجھے یاد کرنے والے مجرم جو مسکرائے
دلِ نامراد نے اب سینے سے کی بغاوت
ہمیں چھوڑ کر اکیلا تیری گلی کو جائے
بڑا شور سن رہے تھے جگ میں خوشی کا ہم تو
ہمیں کیا خبر تھی غل یہ دنیا کو ہے رلائے
کہیں مر گیا ہے کوئی جینے کی آرزو میں
کہیں جی گیا ہے کوئی مرنے کو بھی بھلائے
تم ہی اب بتا دو جاناں وہ دور کا مسافر
تری جستجو میں نکلے یا خود کو ڈھونڈ لائے
کسی شام اپنے گھر کے بھولے کو بھی خبر ہو
بڑی دیر سے یہ ہم نے دیوار و در سجائے
ہمیں بخش دو کہ ہم نےجُرمِ وفا کیا ہے
اُسی دیس جا کے جس میں شہرت دغا کمائے
ذرا دیکھنا خوداپنے اندر بھی جھانک کر تم
تمہیں آئینہ اگر نہ صورت تری دکھائے
ارے او عظیم جگ میں سنتا ہے کون تیری
کبھی وہ عظیم کہہ کر ہم کو نہ یوں بلائے